BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 May, 2007, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پناہ گزین کیمپ میں کشیدگی

پاکستان سے بیشتر افغان پناہ گزین چلے گئے
بلوچستان میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپ جنگل پیر علیزئی میں بدھ کواس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے کیمپ خالی کرانے کے لیے کچھ مکانات گرانا شروع کیے۔ مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فائرنگ سے ان کے تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع قلعہ عبداللہ میں قائم جنگل پیر علیزئی کیمپ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کیمپ خالی کرانے کے لیے کارروائی شروع کی تو پناہ گزینوں اور مقامی لوگوں نے مظاہرہ شروع کر دیا۔ انہوں نے کوئٹہ چمن روڈ بلاک کرکے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔

کچھ اطلاعات کے مطابق پولیس اور لیویز نے پانچ مکانات کی دیواریں گرائی ہیں اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

قلعہ عبداللہ کے رہائشی عبدالہادی نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی فورس اور لیویز نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جس سے تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق مسعود کھوسہ نے بتایا کہ حالات قابو میں ہیں اور دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔انہوں نے اس بارے میں مذید تفصیلات نہیں بتائیں۔

کُل تعداد چھ لاکھ
 بلوچستان میں اس وقت کل بارہ افغان پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں جن میں سے جنگل پیر علیزئی اور گردی جنگل کو کسی قسم کی کوئی امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔ صوبے میں افغان پناہ گزینوں کی کل تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے ساڑھے چار لاکھ رجسٹرڈ ہوئے ہیں

جنگل پیر علیزئی کیمپ میں مقیم افغان باشندے حاجی محبوب نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے جانے والے ان کے نمائندوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور ان پر فائرنگ کی ۔انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں جرائم پیشہ لوگ نہیں ہیں اور اس کیمپ سے بیشتر پناہ گزین واپس وطن جا چکے ہیں جو باقی ہیں وہ بھی واپس جانا چاہتے ہیں لیکن افغانستان میں حالات کی بہتری کا انتظار کر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں صرف پانچ فیصد پناہ گزین ہیں اور باقی سب مقامی لوگ ہیں۔

یاد رہے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی قلعہ عبداللہ میں اس کیمپ کو بند کرنے کا بارہا مطالبہ کر چکی ہے اور اس جماعت کے رہنما عثمان لالہ کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں بڑی تعداد میں جرائم پیشہ لوگ موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق افغانوں کی مردم شماری کے مطابق اس کیمپ میں پینتیس ہزار پناہ گزین ہیں جن میں سے سترہ ہزار رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں اس وقت کل بارہ افغان پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں جن میں سے جنگل پیر علیزئی اور گردی جنگل کو کسی قسم کی کوئی امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔ صوبے میں افغان پناہ گزینوں کی کل تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے ساڑھے چار لاکھ رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

حکومت نے بلوچستان میں جنگل پیرعلیزئی کیمپ کو پندرہ جون اور گردی جنگل کیمپ کو پندرہ اگست تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشنپاکستان میں افغان
پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کا آخری دن
افغانستان کا نقشہپناہ گزینوں کوپیغام
’افغانستان آپ کا گھر ہے، خوش آمدید‘
 چوبی قالین مہاجرین کا تحفہ
غزنی کی اون سے بنے چوبی قالینوں کی مقبولیت
افغانی نان افغانی نان و روٹی
بھوک نہ بھی ہو تو لگ کیوں جاتی ہے؟
حامد کرزئیباڑ، بارودی سرنگیں
’پاک افغانستان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے‘
نیویارک ٹائمز رپورٹ
’افغان خود کش بمباروں سے پاکستان کا تعلق‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد