BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغان بمباروں کا پاکستان سے تعلق‘

گرفتار ہونے والے چار نوجوانوں کا تعلق یا تو پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں یا طالبان سے ہے: نیویارک ٹائمز
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے افعانستان میں حال ہی میں پاکستان میں مقیم ایک افغان مہاجر سمیت بارہ گرفتار نوجوانوں میں سے ایک کے مبینہ انکشافات کی تفصیل شائع کرتے ہوئے افغان اور نیٹو سکیورٹی ایجینسیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان نوجوانوں کو پاکستان سے خود کش حملوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔

نیویارک ٹائمز نے منگل کی اشاعت میں اپنے پہلے صفحے پر شائع ہونے والی ایک بڑی سرخی میں لکھا ہے : ’افغانستان میں خود کش بمباروں سے پاکستان کا تعلق دیکھا جارہا ہے‘۔

اخبار نے کہا ہے کہ ماہ ستمبر کے آخر میں کراچي سے تعلق رکھنے والے ایک داؤد شاہ نامی نوجوان کو کابل میں گرفتار کیا گيا تھا جس نے جیل میں، نیویارک ٹائمز نمائندے کے بقول، اپنے نایاب انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ پشاور سے بذریعہ ٹیکسی کابل کا سفر کرکے خود کش بمبار بننے آیا تھا۔

اکیس سالہ داؤد شاہ اصل میں افغان مہاجر ہے جواپنے خاندان سے کراچی کی مانسہرہ کالونی میں رہتا تھا جہاں اس کے والدین اور چھوٹے بھائی پر مشتمل خاندان اب بھی رہائش پذیر ہے۔

داؤد شاہ نے افغان جیل میں اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ اسے تین ساتھیوں سمیت مانسہرہ کالونی کراچي سے مسجد نور کے پیش امام مولانا عبدالشکور خیرپوری نے افغانستان ’جہاد‘ کے لیے بھیجا تھا۔ مولانا عبدالشکور خیرپوری نے، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا مبینہ تعلق کالعدم تنظیم حرکت المجاہدین سے ہے اور جو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کی جانے والی دہشتگردی کی واچ لسٹ میں بھی شامل ہے، داؤد شاہ اور مسجد نور میں ا سکے تین ہم مکتب ساتھیوں کو پشاور کے قریب افغان مہاجر کیمپ میں ایک شخص پیر فاروق نامی کی طرف یہ کہہ کر بھیجا تھا کہ وہ ان نوجوانوں کو افغانستان جہاد کے لیے بھیجے گا۔

ٹیکسی ڈرائیور افغان ایجنٹ
کابل میں پیر فاروق کے مبینہ پیغام پر ان کی ملاقات عمر نامی شخص سے ہوئی جنہوں نے انہیں کمر سے باندھنے والی پیٹیاں فراہم کی جن پر ریموٹ تاروں سے جڑے ریموٹ کنٹرول بم نصب تھے۔ داؤد شاہ نے جو ٹیکسی کرائے پر لی تھی اس کا ڈرائیور افغان انٹیلجنس ایجنٹ تھا جو داؤد شاہ کو اس کے بتائے ہوئے پتے کے بجائے افغان انٹیلجنس ایجنسی کے دفتر لے آیا۔
نیویارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں افغان اور نیٹو انٹیلیجنس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان ایجنسیوں کو شک ہے کہ حال ہی میں گرفتار ہونیوالے ان چار نوجوانوں کا تعلق یا تو پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں یا طالبان سے ہے جنہیں خود کش حملوں کے لیے پاکستان سے بھیجا گیا تھا اور جن میں سے ایک حملہ آور نے وزارت داخلہ کے دفتر پر حملہ بھی کیا تھا جس سے بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے-

اخبار نے ایسے افغان اور نیٹو انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ جب پاکستانی انٹیلجنس کو پشاور کے نزدیک پیر فاروق اور افغانستان میں ان خودکش بمباروں کی گرفتاریوں کا بتایا گیا تو چند ہی دنوں بعد ان کے ایک مخبر کو پراسرار حالات میں قتل کردیا گيا۔

اخبار نے داؤد شاہ کے مبینہ انکشافات کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابل میں پیر فاروق کے مبینہ پیغام پر ان کی ملاقات عمر نامی شخص سے ہوئی جنہوں نے انہیں کمر سے باندھنے والی پیٹیاں فراہم کی جن پر ریموٹ تاروں سے جڑے ریموٹ کنٹرول بم نصب تھے۔ داؤد شاہ نے جو ٹیکسی کرائے پر لی تھی اس کا ڈرائیور افغان انٹیلجنس ایجنٹ تھا جو داؤد شاہ کو اس کے بتائے ہوئے پتے کے بجائے افغان انٹیلجنس ایجنسی کے دفتر لے آیا۔

نیویارک ٹائمز کے نمائندے نے کراچی کی مانسہرہ کالونی میں افغانستان میں گرفتار کیئے جانے والے نوجوان داؤد شاہ کے والد احمد شاہ سے بھی ملاقات کی ہے۔ جس نے انہیں بتایا کہ داؤد شاہ چھٹی جماعت پاس تھا اور مسجد نور میں قرآنی تعلیم حاصل کرتا تھا- پھر داؤد شاہ کے والد نے کہا ’وہ بچوں کا باپ ہے لیکن اسے گھر کی کوئی فکر نہیں۔ وہ مرے یا جیے ہمیں بھی اس کی فکر نہیں‘۔

دوسری جانب مولوی عبدالشکور خيرپوری نے، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس کی تردید کی کہ انہوں نے داؤد شاہ کو افغانستان جہاد پر بھیجا ہے۔ مولانا شکور نے کہا ’وہ اتنا بزدل تھا کہ وہ جہاد پر کس طرح جا سکتا ہے‘۔ جبکہ عبدالشکور خیرپوری نے اس کی تردید کی کہ ان کا تعلق حرکت المجاہدین سے ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق جمعیت علمائے اسلام یا جے یو آ‎ئی سے ہے۔

نیویارک ٹائمز نے افغان اور نیٹو انٹیلجنس کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں کا تعلق پاکستان سے دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
خود کش حملے میں 42 فوجی ہلاک
09 November, 2006 | پاکستان
دوہرا خودکش حملہ، 35 ہلاک
12 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد