’اتنا جوان لڑکا جو قبر میں اتارا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ملاکنڈ علاقے میں بدھ کے روز خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں فوجیوں میں تئیس سالہ روح الحیات بھی شامل تھے۔ ان کی تدفین جعمرات کو ان کے ضلع چارسدہ کے آبائی گاؤں میں کی گئی۔ ان کے لواحقین کہتے ہیں کہ نماز روزے کے پابند روح الحیات کی زندگی اس کی تربیت مکمل ہونے سے پندرہ روز پہلے ہی ختم کر دی گئی۔ درگئی میں خودکش حملے کی نظر ہونے والے زیر تربیت بیالیس فوجی اپنے کیریر کی پہلی دہلیز پر تھے۔ سب نوجوان تھے، پرجوش تھے اور ایک روشن مستقبل کی اُمید رکھتے تھے۔ دوسری جانب اگر حکومت کا موقف تسلیم کیا جائے کہ درگئی حملے کا تعلق باجوڑ سے ہے تو اُس مدرسے میں بھی ایسے ہی نوجوان بمباری کا نشانہ بنے۔ باجوڑ جانے پر حکومت کی پابندی کی وجہ سے مدرسے میں ہلاک ہونے والے طلبہ کے لواحقین سے تو ملاقات نہیں ہوسکی لیکن درگئی میں ہلاک ہونے والے ایک سپاہی کے رشتہ داروں سے بات ضرور ہوئی۔ روح الحیات کے والد نصر اللہ خان ایک کسان ہیں جو دوسروں کی زمین پر کاشت کاری کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے تھے۔ انہیں بیٹے کے چھ ماہ قبل فوج میں چلے جانے سے امید بندھی کہ اخراجات کا بوجھ تقسیم ہوسکے گا۔ والد سے تو ان کی حالت غیر ہونے کی وجہ سے بات ممکن نہ تھی لیکن روح الحیات کے چچا عثمان اللہ سے تدفین کے بعد پوچھا کہ اس نے فوج میں شمولیت کا فیصلہ شوق یا غربت کی وجہ سے کیا تھا۔ جواب تھا: ’نہیں شوق بھی تھا اور غریبی بھی۔ غریب لوگ ہی فوج میں جاتے ہیں‘۔ روح الحیات رضامند نہیں تھے لیکن خاندان کے لوگوں نے انہیں گزشتہ برس شادی پر مجبور کر دیا۔ البتہ ان کی اولاد نہیں۔ چچا نے اس کی موت کو بڑا سانحہ قرار دیا۔ ’سب گھر والے والد اور دوسرے بیہوش ہیں۔ اتنا جوان لڑکا جو قبر میں اتارا ہے‘۔ عثمان اللہ نے کہا کہ روح الحیات آگے چل کر فوج میں کمیشن حاصل کرکے ترقی پانے کا خواہشمند تھا۔ اس بے وقت موت پر اس کے دوست ہمسائے بھی افسردہ ہیں۔ روح الحیات کے ایک بچپن کے دوست امجد خان نے جو خود بھی فوج میں ہیں اسے یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے اچھے اخلاق کا لڑکا تھا۔ ’ہم ایک گاؤں میں پلے بڑھے۔ اکٹھے فوج میں گئے۔ دونوں جب ملتے تو فوج کے بارے میں ہی اکثر باتیں کیا کرتے تھے‘۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں عام لوگوں کی ہلاکتوں کے خلاف تو ملک بھر میں احتجاج ضرور ہوتا ہے لیکن جو فوجی ہلاک ہوجاتے ہیں انہیں بعد میں کوئی یاد نہیں کرتا۔ شاید ان کا اپنا ادارہ بھی نہیں۔ تاہم گلی چوبارے کے لوگ انہیں بھول نہیں پاتے۔ روح الحیات کو یاد کرتے ہوئے ان کے ہمسائے عدنان نے کہا: ’وہ ہمارا ہمسایہ تھا۔ اچھا تھا۔ اپنی نماز عبادت میں مصروف رہتا تھا اس میں کوئی ایسی بات نہیں تھی‘۔ روح الحیات کی حیثیت بھی شاید لگ بھگ باجوڑ کے مدرسے کے طالب علم کے ہی جیسی تھی۔ دونوں ہی بے بس اور بظاہر کسی جرم کے سزا کے حقدار قرار پائے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے وہ کسی اور کے کھیل کا نشانہ بنے۔ اب نہ اس مدرسے کے طالبان رہے اور نہ ہی یہ فوجی لیکن اپنے لواحقین کے لیے دونوں ایسا زخم چھوڑ گئے جو انہیں تمام زندگی رلاتا رہے گا۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں ہلاک ہونے والے کے نام 09 November, 2006 | پاکستان درگئی: حملے کے بعد08 November, 2006 | پاکستان حملہ آور کے ساتھی کی تلاش ختم09 November, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ ملکی سالمیت پر حملہ09 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||