افغانی نان اور روٹی کی مقبولیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہا جاتا تھا کہ افغان شہری خوش خوراک اور خوش لباس ہونے کے لیے پوری دنیا میں مشہور سمجھے جاتے ہیں لیکن اس بات کا عملی اندازہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے طرز زندگی اور روایات کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اپنی مخصوص اور اچھی خوراک کے حوالے سے افغانیوں کے ’نان‘ کو پشاور میں خصوصی مقبولیت حاصل ہے۔ یہ نان شہر کے تمام بڑے مراکز اور بالخصوص جن علاقوں میں افغان رہتے ہیں، باآسانی دستیاب ہیں۔ دو اور تین فٹ لمبے اور گول سائز میں دستیاب یہ نان عام طورپر بھورے رنگ کے ہوتے ہیں جن کی قیمت تین روپے سے چالیس روپے تک ہوتی ہے۔ اس نان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ٹھنڈا ہوتے ہوئے بھی نرم ہوتا ہے اور اسے کھایا جاسکتا ہے اور ٹھنڈک سے اس کے ذائقے میں کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ پشاور کے علاقے جہانگیرآباد میں کئی افغان نانبائیوں کی دکانیں قائم ہیں جن پر افغانی نان ایسے سجے ہوتے ہیں کہ بھوک نہ ہوتے ہوئے بھی بھوک لگ جاتی ہے۔ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کے افغانستان واپس جانے کے بعد پشاور میں افغان نانبائیوں کی تعداد میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی ہے لیکن اب بھی جہانگیر آباد اور حیات آباد کے علاقوں میں افغانی نان کے بڑے مراکز ہیں۔ جہانگیر آباد میں ایک افغان نانبائی اجمل نے بتایا کہ نان تیار کرنا ایک بہت محنت اور حوصلے کا پیشہ ہے اور اسے سیکھنے کے لیے دو تین سال درکار ہوتے ہیں جب کہ وہ بچپن سے یہ کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔
پچیس سالہ اجمل کا کہنا ہے کہ اس کام میں اصل مہارت تندور میں روٹی لگانا اور خمیر بنانا ہوتا ہے اور جو یہ دونوں کام سیکھ لیتا ہے اسے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ کوئی اتنا بڑا ٹیکنکل اور مشکل کام بھی نہیں لیکن اس میں حوصلے اور محنت کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ کام آدھی رات سے شروع ہوتا ہے اور پھر سارا دن جاری رہتا ہے‘۔ اجمل کا کہنا تھا کہ ’میں روزانہ تین ہزار کے قریب روٹیاں فروخت کرتا ہوں جب کہ دس ہزار روپے کے لگ بھگ سیل کرتا ہوں۔ میرے تندور سے زیادہ تر افغان ہوٹلوں کے مالکان روٹی لینے آتے ہیں جس کی وجہ سے میرا کاروبار شروع سے اچھا ہے‘۔ پشاور میں پہلے عام طور پر روٹی کا معیار اچھا نہیں تھا لیکن افغانی نان کی مقبولیت سے اب یہاں بھی روٹی کا معیار بہتر ہوتا جا رہا ہے بلکہ زیادہ تر پاکستانی نانبائیوں نے اب افغان طرز پر روٹی تیار شروع کر دی ہے۔ تاہم اس کے باوجود افغانی نان اور پشاوری نان کے معیار اور ذائقے میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ایک پاکستانی نانبائی صاحبزادہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پہلے ان کی روٹی اچھی معیار کی نہیں تھی لیکن افغان نانبائیوں کی جانب سے مارکیٹ پر قبضے کے بعد اب ان کی روٹی کا معیار بھی بہتر ہوا ہے۔ ان کے بقول ’پاکستانی اور افغانی روٹی میں صرف رنگ اور وزن کا فرق پایا جاتا ہے۔ افغانی نان بھورے رنگ اور زیادہ وزن والے ہوتے ہیں جب کہ پاکستانی روٹی سفید آٹے سے جس میں میدہ زیادہ ہوتا ہے بنتے ہیں۔ پاکستانی عام طورپر سفید آٹے سے تیار روٹی کھانا پسند کرتے ہیں‘۔
پشاور میں ایک خاتون افغان صحافی نصیرہ محیب کا دعویٰ ہے کہ افغانیوں کے آنے کے بعد پاکستانیوں نے ان کے کئی طورطریقوں کو اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی افغان کھانے اب پاکستانیوں کے گھروں میں کثرت سے تیار کیے اور کھائے جاتے ہیں جن میں کابلی پلاؤ قابل ذکر ہے۔ نصیرہ محیب اس بات کا بھی اقرار کرتی ہیں کہ پاکستانیوں کے کچھ طور طریقے افغان مہاجرین نے بھی اپنائے ہیں جن میں مرچوں اور دیگر مصالحوں کا استعمال شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||