BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 06:41 GMT 11:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک افغان خیر سگالی منصوبہ، تاخیر کا شکار

 طورخم۔جلال آباد سڑک
گاڑیوں کو کچے راستوں پر میلوں چلنا پڑتا ہے
افغانستان میں کرزئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے تعمیر نو کے لیئے دیگر امداد کے علاوہ طورخم سے جلال آباد تک سڑک تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس اہم منصوبے کی تکمیل میں مسلسل تاخیر سے پاکستان کو افغانوں میں بڑھتی ہوئی شکایات اور خدشات کی صورت میں نقصان پہنچ رہا ہے۔

پاکستان کے سرحدی مقام طورخم سے جلال آباد شہر محض چوہّتر کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ برسوں کی جنگ اور عدم توجہ نے اس سڑک پر ایک گھنٹے کے سفر کو کئی گھنٹوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں اس کے ایک بڑے حصے کو ٹریفک کے لیئے بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کو کچے راستوں پر میلوں چلنا پڑتا ہے جس سے ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کی تکالیف میں اضافہ ہوا ہے۔

اس منصوبہ کی تکمیل میں کافی تاخیر ہو چکی ہے

جب کرزئی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان نے بھی عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیئے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔ ان میں دو ارب روپے کی لاگت سے طورخم سے جلال آباد تک سڑک کی تعمیر بھی شامل تھی۔

لیکن چار برسوں کی تاخیر نے افغانوں میں شکایات اور شکوک و شبہات ہی پیدا کیئے ہیں۔ ایسے ہی خیالات جلال آباد بس اڈے کے منتظم نور عالم کے بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ گرد ہے، غبار ہے۔ ڈرائیوروں کو مشکل ہے، مسافروں کو مشکل ہے۔ بس یہ حال ہے۔ بھائی صاحب اس میں تو بڑی مشکل ہے۔ چار برس سے سڑک خراب ہے۔ ہفتوں بلکہ مہینوں تک کام دکھائی نہیں دیتا ہے۔ انسانیت ہی نہیں رہی ان کے ہاتھوں‘۔

پاکستان نے ابتدائی طور پر اس سڑک کا ٹھیکہ کسی نجی کمپنی کو دیا جو شروع میں ہی سکیورٹی اور کئی دیگر وجوہات کی بنا پر کام چھوڑ کر چلی گئی۔ بعد میں حکومت نے یہ منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے حوالے کر دیا۔

چار برسوں کی تاخیر نے افغانوں میں شکایات اور شکوک و شبہات ہی پیدا کیئے ہیں۔

سڑک پر تعمیراتی کام جگہ جگہ جاری ہے۔ سڑک کی تعمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے مصروف ہری پور کے ایک کارکن غلام مرتضی کا کہنا ہے کہ یہ سڑک ایک ماہ میں مکمل ہوجائے گی۔

اس کارکن کی پرامیدی کے برعکس اعلٰی پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سڑک اس سال ستمبر تک مکمل کر لی جائے گی۔ جلال آباد میں پاکستانی قونصل جنرل شہزادہ ضیا الدین علی نے بتایا کہ منصوبہ کی تکمیل کی تاریخ تو آئندہ جون ہے تاہم یہ ستمبر تک ہر صورت مکمل ہوجائے گی۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس منصوبہ کی تکمیل میں کافی تاخیر ہوئی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری بہتر کام کی کوشش بھی ایک تاخیر کی وجہ تھی‘۔

اس سڑک کے علاوہ افغانوں کے دل جیتنے کی خاطر حکومتِ پاکستان افغانستان کے اس پختون اکثریتی علاقے میں مزید کئی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ شہزادہ ضیاء الدین علی نے بتایا کہ’پاکستان جلال آباد کے باہرگردوں کا ایک بڑا ہسپتال تعمیر کر رہا ہے جس پر کام کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ ڈیڑھ برس میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہاں یونیورسٹی میں سائنس بلاک بھی تعمیر کر کے دیا جا رہا ہے اور اس جدید بلاک پر بھی کام جاری ہے‘۔

عدم توجہ نے اس سڑک پر ایک گھنٹے کے سفر کو کئی گھنٹوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

پاکستانی قونصل جنرل نے مقامی افغانوں میں پاکستان مخالف جذبات کی موجودگی کی نفی کی۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں ممالک میں ایسے چند لوگ ضرور ہیں جو تعلقات میں بہتری نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں جانب اکثر لوگ اچھے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کو مشتعل ہجوم نے نذر آتش کر دیا تھا جس پر افغان حکومت نے اس مقصد کے لیئے ایک متبادل جگہ فراہم کی جو جلال آباد کے گورنر کی رہائشگاہ ہوا کرتی تھی۔

ہسپتال، سکول کی تعمیر میں تاخیر ہوجائے تو شاید اتنا اندازہ نہ ہو لیکن اگر روز مرہ کے استعمال کی سڑک جس پر سینکڑوں ٹرک، ٹرالر اور مسافر گاڑیاں آتی جاتی ہوں، بند ہو تو اس سے ہر کوئی متاثر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
کابل:سفارت خانہ کھل گیا
21.07.2003 | صفحۂ اول
کابل: پاک مخالف مظاہرہ
15.07.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد