پاک افغان خیر سگالی منصوبہ، تاخیر کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں کرزئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے تعمیر نو کے لیئے دیگر امداد کے علاوہ طورخم سے جلال آباد تک سڑک تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس اہم منصوبے کی تکمیل میں مسلسل تاخیر سے پاکستان کو افغانوں میں بڑھتی ہوئی شکایات اور خدشات کی صورت میں نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان کے سرحدی مقام طورخم سے جلال آباد شہر محض چوہّتر کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ برسوں کی جنگ اور عدم توجہ نے اس سڑک پر ایک گھنٹے کے سفر کو کئی گھنٹوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں اس کے ایک بڑے حصے کو ٹریفک کے لیئے بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کو کچے راستوں پر میلوں چلنا پڑتا ہے جس سے ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کی تکالیف میں اضافہ ہوا ہے۔
جب کرزئی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان نے بھی عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیئے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔ ان میں دو ارب روپے کی لاگت سے طورخم سے جلال آباد تک سڑک کی تعمیر بھی شامل تھی۔ لیکن چار برسوں کی تاخیر نے افغانوں میں شکایات اور شکوک و شبہات ہی پیدا کیئے ہیں۔ ایسے ہی خیالات جلال آباد بس اڈے کے منتظم نور عالم کے بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ گرد ہے، غبار ہے۔ ڈرائیوروں کو مشکل ہے، مسافروں کو مشکل ہے۔ بس یہ حال ہے۔ بھائی صاحب اس میں تو بڑی مشکل ہے۔ چار برس سے سڑک خراب ہے۔ ہفتوں بلکہ مہینوں تک کام دکھائی نہیں دیتا ہے۔ انسانیت ہی نہیں رہی ان کے ہاتھوں‘۔ پاکستان نے ابتدائی طور پر اس سڑک کا ٹھیکہ کسی نجی کمپنی کو دیا جو شروع میں ہی سکیورٹی اور کئی دیگر وجوہات کی بنا پر کام چھوڑ کر چلی گئی۔ بعد میں حکومت نے یہ منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے حوالے کر دیا۔
سڑک پر تعمیراتی کام جگہ جگہ جاری ہے۔ سڑک کی تعمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے مصروف ہری پور کے ایک کارکن غلام مرتضی کا کہنا ہے کہ یہ سڑک ایک ماہ میں مکمل ہوجائے گی۔ اس کارکن کی پرامیدی کے برعکس اعلٰی پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سڑک اس سال ستمبر تک مکمل کر لی جائے گی۔ جلال آباد میں پاکستانی قونصل جنرل شہزادہ ضیا الدین علی نے بتایا کہ منصوبہ کی تکمیل کی تاریخ تو آئندہ جون ہے تاہم یہ ستمبر تک ہر صورت مکمل ہوجائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس منصوبہ کی تکمیل میں کافی تاخیر ہوئی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری بہتر کام کی کوشش بھی ایک تاخیر کی وجہ تھی‘۔ اس سڑک کے علاوہ افغانوں کے دل جیتنے کی خاطر حکومتِ پاکستان افغانستان کے اس پختون اکثریتی علاقے میں مزید کئی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ شہزادہ ضیاء الدین علی نے بتایا کہ’پاکستان جلال آباد کے باہرگردوں کا ایک بڑا ہسپتال تعمیر کر رہا ہے جس پر کام کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ ڈیڑھ برس میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہاں یونیورسٹی میں سائنس بلاک بھی تعمیر کر کے دیا جا رہا ہے اور اس جدید بلاک پر بھی کام جاری ہے‘۔
پاکستانی قونصل جنرل نے مقامی افغانوں میں پاکستان مخالف جذبات کی موجودگی کی نفی کی۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں ممالک میں ایسے چند لوگ ضرور ہیں جو تعلقات میں بہتری نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں جانب اکثر لوگ اچھے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں‘۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کو مشتعل ہجوم نے نذر آتش کر دیا تھا جس پر افغان حکومت نے اس مقصد کے لیئے ایک متبادل جگہ فراہم کی جو جلال آباد کے گورنر کی رہائشگاہ ہوا کرتی تھی۔ ہسپتال، سکول کی تعمیر میں تاخیر ہوجائے تو شاید اتنا اندازہ نہ ہو لیکن اگر روز مرہ کے استعمال کی سڑک جس پر سینکڑوں ٹرک، ٹرالر اور مسافر گاڑیاں آتی جاتی ہوں، بند ہو تو اس سے ہر کوئی متاثر ہوتا ہے۔ | اسی بارے میں جلال آباد احتجاج، پاکستانی تشویش11 May, 2005 | پاکستان کابل:سفارت خانہ کھل گیا21.07.2003 | صفحۂ اول کابل سفارتخانہ آج کھلےگا20.07.2003 | صفحۂ اول سفارتخانے پر حملہ، مزید چار گرفتار17.07.2003 | صفحۂ اول کابل: پاک مخالف مظاہرہ15.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||