BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 September, 2008, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی بحث میں کون جیتا؟

مکین جارحانہ اور اوباما سنجیدہ رہے
یہ جمہوریت کی تاریخ کی سب سے مہنگی ترین صدارتی مہم کا نکتہ عروج تھا اور اسی وجہ سے اس کے آغاز پر فریقین مضطرب اور محتاط تھے اور اس کے آخر پر دونوں جانب سے فتح مند ہونے کے دعوئے کیئے گئے۔

جان مکین اور باراک اوباما دونوں امیدواروں کی مہم کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے امیدوار نے جمعہ کی شب ہونے والے صدارتی مباحثے کا میدان مار لیا۔

ان امیدواروں کےمعاونین اور مشیران مباحثہ ختم ہونے کے چند لمحوں بعد ہی اخباروں نویسوں کی بریفنگ کرنے کے لیے موجود تھے تاکہ انہیں یہ باور کرایا جا سکے کے ان کا امیدوار اصل میں کامیاب رہا۔

انہیں اس بات کا بخوبی علم تھا کے مباحثہ ختم ہونے کے فوری بعد کس کے ذہن میں نہیں ہوگا کہ اس بحث کے دوران کس نے کیا سوال کیا اور اس کا کیا جواب دیا گیا اور کس نے کن تاریخوں ، جگہوں اور پالیسیوں کا حوالہ دیا۔

لوگوں کی اکثریت اسے بہت ہی سادہ انداز میں اس طرح دیکھتی ہے کہ اس میں کون جیتا۔ مکین یا اوباما؟

یہ بحث بھی اس نوعیت کے دوسرے مباحثوں سے کچھ مختلف نہیں تھی۔ نوے منٹ جاری رہنے والی اس بحث میں تفصیلات کی کمی نہیں تھی۔ پہلا آدھ گھنٹہ امریکہ کو درپیش موجودہ مالیاتی بحران پر صرف ہوا باقی وقت خارجہ امور پر مرکوز رہا۔

اس سے پہلے کہ میں اس تفصیل میں جاؤں کے کس نے کس بات کا کیسے جواب دیا اور ایک دوسرے کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا کس طرح جواب دیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں پوچھا تو ان کی رائے اور میری رائے میں ہم آہنگی تھی۔

 جان مکین نے ایک مرحلے پر کہا تھا کہ وہ اس وقت تک کیپیٹل ہل میں رہیں گے جب تک کانگریس بش کے مالیاتی بحران سے نکلنے کے پلان کی منظوری نہیں دے دیتے

میری رائے کے مطابق معیشت کے موضوع دونوں امیدواروں کی کارکردگی ایک جیسی رہی۔ مباحثے کے میزبان، جم لیہرر بھی ایک مرحلے پر کچھ مایوس دکھائی دیئے اور وہ کوشش کے باوجود فریقین کو اس سوال پر کچھ کہنے پر نہیں اکسا سکے کہ وہ موجودہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی اقتصادی پالیسیوں میں کیا تبدیلیاں کریں گے۔

دونوں امیدوار بہت محتاط تھے۔

ایک لمحے کے لیے تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ امریکہ کی سیاسی تاریخ کی پہلی صدارتی بحث ہو گی جس میں اس کے شروع ہونے سے قبل ہی سب سے زیادہ دلچسپی سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہو کہ اس بحث میں مکین شرکت کریں گے یا نہیں۔

انہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس وقت تک کیپٹل ہل پر ہی رہیں گے جب تک کانگریس کے دونوں ایوان صدر بش کی طرف سے مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے سات سو ارب ڈالر کی تجویز کی منظوری نہیں دے دیتے۔

گو کہ آخر میں وہ بحث میں شریک ہوئے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ وہ صدراتی مہم کے اس انتہائی اہم حصہ سے باہر نہیں رہ سکتے تھے۔

لیکن خارجہ پالیسی پر بحث کے دوران میرے خیال میں جان مکین واضح طور پر اپنے مدمقابل سے بہتر رہے گو کہ کچھ مسائل مثال کے طور پر عراق ایسے تھے جس پر ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار باراک اوباما کسی حد تک بھاری رہے۔

ریپبلیکن امیدوار کا انداز زیادہ جارحانہ تھا، انہوں نے اپنے مدمقابل کو ایک سے زیادہ مرتبہ ناسمجھی کا طعنہ دیا۔ ایک موقعہ پر انہوں نے اسرائیل کے بارے میں ایران کے جارحانہ بیانات پرحریف کے موقف کو یہ کہا کر رد کر دیا کہ ’اہو پلیز‘۔

روس کے معاملے پر بحث کے دوران صورت حال کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔ روس اپنی تیل اور گیس کی آمدنی سے ایک مرتبہ پھر ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور آئندہ آنے والے امریکی صدر کے دوران اقتدار ایک امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

جان مکین نے ولادمیر پوتن کے ساتھ ایک ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوتن کی آنکھوں میں تین لفظ ’کے جی اور بی‘ لکھے ہوئے دیکھ سکتے تھے۔ ولادمیر پوتن ایک زمانے میں کے جی بی کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

غیر ملکی کانوں کو شاید یہ کچھ جذباتی لگے۔ امریکہ میں سخت گیر ہونا اچھا سمجھا جاتا ہے خاص طور پر ایسا صدر جو کہ روس کے آگے کھڑا ہو سکے۔

اس مسئلہ پر اوباما کا جواب توانائی کے متبادل ذرائع ڈھونڈے کی طرف نکل گیا۔اوباما نے کہا کہ روس تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور امریکہ کا تیل پر انحصار ہے۔

عراق پر بحث کے دوران اوباما کو کچھ اچھے مواقع ملے کہ وہ اپنے مدِ مقابل کو زچ کر سکیں اور انہوں نے ہر فقرے کے اختتام پر کہا کہ ’آپ غلط تھے‘۔

وہ عمومی طور پر سپاٹ اور سنجیدہ رہے جبکہ مکین جارحانہ اور کاٹ دار رہے۔

لیکن ریپبلیکن امیدوار انیس سو تراسی میں اپنی سیاسی زندگی کے آغاز کے بارے میں بیان کرنے لگےجب امریکہ لبنان اور دنیا کے کئی اور کشیدہ خطوں میں فوجیں بھیجنے کے بارے میں غور کر رہا تھا جن کا انہیں ذاتی طور پر تجربہ تھا۔ ان میں کچھ جیسے عراق کو لوگ اچھی طرح جانتے ہیں لیکن بعض کے بارے جیسے اوسیٹیا اور وزیرستان کے بارے میں لوگوں کو کچھ معلوم نہیں تھا۔

خارجہ امور کے مسائل کبھی بھی صدارتی انتخابات میں فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتے تاوقت کہ ملک کسی بحران کا شکار نہ ہو۔ لیکن چار نومبر کو امریکی اپنے فوج کے کمانڈر ان چیف کا انتخاب کرنے والے ہیں اور اس عہدے کے لیے صدارتی مباحثے کے دوران جان مکین زیادہ موزوں دکھائی دیئے۔

ایک موقع پر میزبان کو کہنا پڑا کہ فریقین اسے مخطاب کرنے یا اپنے آپ سے بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے براہراست مخاطب ہوں۔

معیشت پر دونوں نے کوئی نئی بات نہیں کی اور وہی کچھ دہرایا جو وہ گزشتہ کئی مہینوں سے کہتے رہے ہیں۔

جان مکین نے سرکاری اخراجات اور ٹیکس کم کرنے کی بات کی۔
اوباما نے کہا کہ وہ صحت عامہ کی سہولیات کو بہتر اور محنت کش گھرانوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں کے پاس حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس تجویز نہیں تھی۔

اس موضوع پر انہوں نے اپنے ہی حامیوں کو مزید قائل کیا نہ کہ ان لوگوں کو جنہوں نے ابھی تک ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔

خارجہ پالیسی پر واضح ہو گیا کہ مکین آگے ہیں لیکن وہ اپنے مدمقابل کو مکمل طور ناک آؤٹ نہیں کر سکے۔

اس بحث میں کس کی کارکردگی کیسی رہی اس بارے میں واضح طور پر عوامی رائے سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔

ابھی تین بڑے اور مباحثے ہونا باقی ہیں ان میں ایک میں نائب صدر کے امیدوار جؤ بائڈن اور سارہ پیلن حصہ لیں گی۔

میکین اور اوبامااوبامہ پیچھے کیوں؟
جان میکین نے باراک اوباما پر سبقت پا لی
جوسیف بائڈینجوزف بائڈن
نائب صدر کے لیے باراک اوبامہ کا انتخاب
وہائٹ ہاؤس کے مکین
بیرونی دنیا کیوں اوباما کے ساتھ ہے؟
رہنماؤں کی ملاقات
ہیلری کی مقبولیت، اوبامہ کی ضرورت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد