جوزف بائڈن – ایک تجربہ کار سیاست دان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو امریکی صدارت کے ڈیموکریٹِک پارٹی کے امیدوار باراک اوبامہ نے تجربہ کار سینیٹر جوزف بائڈن کو نائب صدر کے عہدے کے لیے منتخب کرنے کا اعلان ہے۔ پینسٹھ سالہ سینیٹر جوزف بائڈن تیس برسوں سے امریکی سیاست میں سرگرم رہے ہیں اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں ان کے تجربے کی وجہ سے بھی انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سینیٹر بائڈن نے جنگِ عراق کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن بعد میں اس بات کی وارننگ دیتے رہے ہیں کہ امریکہ کو وہاں سے جلد نکلنے کی ضرورت ہے ورنہ عراق پر طویل قبضے کا زیادہ خرچ اٹھانا پڑے گا۔ وہ عراق میں تشدد کےخاتمے کےلیے اشارہ دیتے رہے کہ ملک کو شیعہ، سنی اور کرد حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔ خارجہ پالیسی میں جوزف بائڈن کا تجربہ انتخابی مہم کے لیے اہم سجھا جارہا ہے کیونکہ اس معاملے باراک اوبامہ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ وہ تین بار خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ سیاسی مخالفین باراک اوبامہ پر اس بات کے لیے تنقید کرتے ہیں کہ انہیں خارجہ پالیسی کا تجربہ نہیں ہے اور اس وجہ سے وہ کمانڈر اِن چیف کے عہدے کے لیے اہل نہیں ہیں۔ جوزف بائڈن سن 1942 میں امریکی ریاست پین سِلوینیا کے شہر اسکرینٹن کے ایک آئرش کیتھولِک خاندان میں پیدا ہوئے۔ بعد میں یہ خاندان ریاست ڈیلاویئر منتقل ہوگیا۔ سینیٹر بائڈن انتیس سال کی عمر میں ہی پہلی بار امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے سن 1972 سے ریاست ڈیلاویئر کی امریکی سینیٹ میں نمائندگی کی ہے۔ جوزف بائڈن امریکہ کے مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ وہ سفید فام مزدور طبقے کے ووٹروں کو اوبامہ کی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہونگے۔ پارٹی انتخابات کے دوران سفید فام مزدور طبقے کے ان ووٹروں نے اوبامہ کے خلاف ہیلری کلِنٹن کو ووٹ دیا تھا۔ وہ 1988 میں امریکی صدارت کے دوڑ میں بھی تھے لیکن انہیں اس دوڑ سے اس لیے باہر نکلنا پڑا تھا کیونکہ انہوں نے برطانوی لیبر پارٹی کے رہنما نیل کِینک کی تقریر کے اقتباس کو اپنے خطاب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے وہ ڈیموکریٹِک پارٹی کے حالیہ پرائمری انتخابات میں باراک اوبامہ کے مدمقابل رہے لیکن اس سال جنوری میں اس دوڑ سے باہر ہوگئے۔ بائڈن اور اوبامہ ایک دوسرے کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔ بائڈن اپنے سیاسی مخالفین سے جارحانہ طور پر نمٹتے ہیں، جبکہ باراک اوبامہ سنجیدہ اور منطقی جوابات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ کھلم کھلا بات کرنے کی سینٹیر بائڈن کی عادت نے انہیں کئی بار مشکل میں ڈال دیا ہے۔ سن 2007 میں پرائمری انتخابات کے دوران انہوں نے کہا کہ باراک اوبامہ امریکی صدارت کے لیے ’ابھی تیار نہیں‘ ہیں۔ |
اسی بارے میں اوبامہ نے جو بائڈن کا انتخاب کیا23 August, 2008 | آس پاس پاکستان کی امداد پر نظرثانی کا مطالبہ08 February, 2008 | آس پاس کرسچین ووٹوں کے لیے کوشش17 August, 2008 | آس پاس امریکہ،یورپ اکٹھے ہو جائیں:اوباما25 July, 2008 | آس پاس اوبامہ کی جیت کے لیے ہلیری کی اپیل10 August, 2008 | آس پاس مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت18 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||