باراک اوباما جان میکین سے پیچھے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک سال قبل واشنگٹن میں ریپبلکن جماعت کے ارکان بڑے چڑچڑے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صدر جارج بش کی شہرت کو نیچے جاتا دیکھ رہے تھے، معیشت خراب ہو رہی تھی اور عراق میں امریکی افواج بڑھانے کے باوجود حالات قابو میں نہیں آرہے تھے۔ ریپبلکن پارٹی کو اپنے صدارتی امیدوار سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہ تھیں اور اس کے ارکان اعتراف کرتے تھے کہ ڈیموکریٹ جماعت ہی وائٹ ہاؤس کی دوڑ جیتے گی۔ ریپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار جان میکین کو خاص طور پر بڑی مشکلات کا سامنا تھا۔ وہ اس جماعت کے صدارتی امیدواروں میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر تھے۔ سنہ دو ہزار آٹھ کے آغاز میں میڈیا ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن کی باتیں کر رہے تھے۔ ریپبلکن جماعت کی صدارتی دوڑ میں میکین کے اول آنے کے باوجود قومی سطح پر عوامی دلچسپی ڈیموکریٹ جماعت کے مقابلے میں ہی رہی۔ صدارتی دوڑ کی کوریج میں امریکی میڈیا میکین سے زیادہ باراک اوباما کو کوریج دے رہی ہے۔ اس طرح اوباما کو زیادہ میڈیا کوریج ملنے سے وہ زیادہ پیسے اور زیادہ مجمع اکھٹا کر سکے۔ لیکن بیس اگست کو ہونے والے ذوگبی پولز کے مطابق باراک اوباما جان میکین سے پانچ پوائینٹس پیچھے ہیں جبکہ ایک ماہ قبل اوباما سات پوائنٹس آگے تھے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اوباما نے امریکی ریاست ہوائی میں چھٹیاں گزارنے کے دوران جان میکین کو کھلا میدان دے دیا اور اس دوران میکین نے جورجیا کے بحران کا بھر پور فائدہ اُٹھایا۔ دوسری طرف تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے امریکی عوام نے اپنی سالانہ چھٹیاں کم کردی ہیں اور میکین نے اپنی توانائی کی پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کے نئے ذخائر پر زور دیا جائے۔ اوباما نے حالیہ مذہبی فورم پر بھی خاطر خواہ جواب نہیں دیے جبکہ میکین بازی لے گئے۔ میکین کو سبقت حاصل ہے کہ ان کو اپنا تعارف نہیں کروانا پڑتا کیونکہ وہ وہ قومی سطح پر کافی عرصے سے موجود ہیں۔ لیکن اوباما کو عوام کے ذہنوں میں اپنا نقش چھوڑنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ طویل میڈیا مہم کے بعد بھی ستاون فیصد امریکی نہیں جانتے ہیں کہ باراکہ اوباما عیسائی ہیں جبکہ دس فیصد امریکی ابھی بھی ان کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی عوام اوباما کی میڈیا کوریج سے تنگ آ گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میکین کی اب زیادہ کوریج ہونی چاہیے۔ عراق کے موضوع پر بھی جان میکین کو سبقت حاصل ہے کیونکہ امریکی فوج کے اضافے کے بعد عراق اب اخبارات کے صفحۂ اول سے ہٹ گیا ہے۔ لیکن میکین اور اوباما کی صدارتی جنگ میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||