BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 January, 2008, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی پرائمری انتخابات کےلیےمہم
ہیلری پر اوباما کو سبقت حاصل ہے
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے امیدوار منگل کو نیو ہیمپشائر پرائمری انتخابات سے ایک دن پہلے انتخابی مہم کی تیاری میں زور شور سے مصروف ہیں۔

صدر کے عہدے کے سبھی امیدوار پارٹی کے نامزدگی کے ووٹ کے لیے میٹنگ، ریلیوں اور ہاؤس پارٹیوں میں شرکت کریں گے۔

ابتدائی رجحانات کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدر کے امیدواروں میں براک اوباما، ہیلری کلنٹن سے آگے ہیں۔

وہیں ایک جائزے کے مطابق رپبلکن پارٹی کے صدراتی امیدواروں میں جان مکین کو برتری حاصل ہے۔

دو تازہ جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ سینیٹر اوباما ہیلری کلنٹن سے دس فیصد سے زیادہ کی سبقت حاصل کر سکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے جائزے میں بتایا گیا تھا کہ دونوں کوتقریباً برابر کے ووٹ مل سکتے ہیں۔

مسٹر اوباما کو گزشتہ ہفتے آئیوا میں جیت حاصل ہونے کے بعد ایک پروگرام کے مطابق کلیئرمونٹ سکول اور لبنان کے ایک اوپرا ہاؤس کا دورہ کرنے والے تھے۔

جان ایڈورڈز جنہوں نے غیر متوقع طور پر آئیوا انتخابات میں ہیلری کلنٹن کو تیسرے نمبر پر دھکیل دیا تھا وہ پوری رات بذریعہ بس سفر کر کے ریاست میں دس مقامات کا دورہ کریں گے۔

وہیں ہیلری کلنٹن ڈوور کے ایک جم اور سالیم کے ایک ہائی سکول کا دورہ کریں گی۔

رپبلکن پارٹی کے اہم امیدوار سنیٹر جان مکین جو آئیوا میں چوتھے نمبر پر تھے کئی تقریبات میں حصہ لینے والے ہیں ان کی تقریبات کا عنوان ہے ’ میک از بیک ‘ یعنی میک واپس آگئے ہیں۔

نیو ہیمپشائر پرائمری انتخابات سے قبل سی این این /ڈبلو ایم یو آر کے جائزے کے مطابق سینیٹر اوباما کو انتالیس فی صد، ہیلری کلنٹن کو انتیس اور جان ایڈورڈز کو سولہ فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

اسی طرح یو ایس اے ٹوڈے کے ایک جائزے میں سنیٹر اوباما تیرہ فی صد ووٹوں سے آگے ہیں۔

اس سے قبل اتوار کو ایک جائزے سے پتہ چلا تھا کہ ہیلری کلنٹن اور سنیٹر اوباما تقریباً برابری پر تھے۔

اس سے قبل کے آئیوا کے ابتدائی الیکشن میں اسی طرح کے جائزے میں ہیلری کلنٹن کو چھ فی صد ووٹوں سے آگے دکھایا گیا تھا جہاں وہ بعد میں ہار گئیں تھیں۔

آئیوا اور نیو ہیمپشائر ریاستوں میں جیتنے والے امیدوار ضروری نہیں ہے کہ آگے چل کر وہی صدراتی امیدوار بنیں لیکن اس سے بڑی ریاستوں میں انہیں انتخابی مہم کی حوصلہ افضائی ہوتی ہے۔

اس مرحلے پر ہلیری کلنٹن کی ایک اور شکست ڈیموکریٹ پارٹی کی صدراتی امیدوار بننے کی ان کی امید کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے۔

فائل فوٹو
ہلیری کلنٹن کو آياوا میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

رپبلکن امیدواروں کے ’سی این این‘ کے ایک جائزے کے مطابق مکین بتیس فی صد ووٹوں کے ساتھ میساچیوسٹس کے گورنر مٹ رومنی سے چھ پوائنٹس آگے تھے جبکہ آئیوا میں جیتنے والے مائیک ہکابی کو صرف چودہ فی صد ووٹ ملنے کی امید ہے۔

بعض دوسرے جائزوں میں بھی مسٹر مکین کو ہی آگے دکھایا گیا ہے۔

ان جائزوں سے پہلے سنیچر کو رپبلکن اور ڈموکریٹ امیدواروں کے درمیان ٹی وی پر زبردست بحث و مباحثے ہوئے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے مباحثے میں ہیلری کلنٹن نے براک اوباما پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اہم سوالات پر اپنا موقف بدل دیا ہے۔ اوباما کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موقف پر اٹل رہے ہیں۔

تیسرے امیدوار ایڈورڈز نے اس معاملے پر اوباما کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا ’ جب سینیٹر کلنٹن آگے چل رہیں تھیں تب اس طرح کے حملے نظر نہیں آرہے تھے لیکن اب وہ جب پیچھے ہوگئیں ہیں تو اس طرح کے حملوں پر اتر آئی ہیں۔ ‘

ادھر رپبلکن امیدواروں کے درمیان عراق جنگ سمیت خارجہ پالیسی پر بحث و مباحثہ ہوا اور رومنی اور مکین کے درمیان امیگریشن کے سوال پر بھی بحث و تکرار ہوئی۔

رپبلکن پارٹی کے اہم امیدوار اور نیو یارک کے سابق مئیر روڈولف جولیانی نے مہم کے ابتدائی دنوں میں پرزور طریقے سے حصہ نہيں لیا ہے اور اپنی توجہ بڑی ریاستوں پر مرکوز کررہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد