ہیلری کے دفتر میں دہشتگردی ڈرامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں اگلے سال کے صدارتی انتخاب کی امیدوار مسز ہلری کلنٹن کے ایک انتخابی دفتر میں وہ ڈرامہ پانچ گھنٹے کے بعد کسی بڑے سانحے کے بغیر ختم ہو گیا جس میں ایک شخص نے دفتر میں گھس کر کچھ لوگوں کو اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔ یہ واقعہ نیو ہیم شائر کے ایک دفتر میں پیش آیا جہاں ایک آدمی نے کہا کہ میں بدن پہ بم باندھ کے آیا ہوں۔ اس نے کچھ لوگوں کو قابو میں کرتے ہوئے کہا کہ میں مسز کلنٹن سے بات کرنی چاہتا ہوں جو وہاں موجود نہیں تھیں۔ پولیس وہاں بہت بھاری تعداد میں پہنچ گئی اور آخر کار اس شخص کو منا لیا کہ لوگوں کو چھوڑ دے اور پولیس کے ساتھ چلا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ شخص بہت عرصے سے کسی دماغی مرض میں مبتلا ہے۔ وہ شخص مقامی وقت کے مطابق دن کے ایک بجے ہلری کلنٹن کے دفر میں داخل ہوا اور اس نے مطالبہ کیا کہ اس کی بات ہلری کلنٹن سے کروائی جائے۔ اس کے بعد اس نے یرغمال بنائی گئی ایک عورت اور اس کی بچی کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد دو اور افراد کو چھوڑ دیا گیا۔ مقامی ٹی وی نے اس شخص کا نام لی آئزنبرگ بتایا ہے۔ ذرائع کے مطابق لی نے اپنے پوتے کو کہا تھا کہ وہ خبروں پر نظر رکھے۔ ہلری کلنٹن نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کا عملہ اور دیگر افراد محفوظ ہیں۔ | اسی بارے میں ہیلری کلنٹن کی مہم: فنڈز کا انبار01 April, 2007 | آس پاس ہیلری کلنٹن تقریر کے دوران گر پڑیں12 March, 2007 | آس پاس ہیلری اور ابامہ کے درمیان نزع22 February, 2007 | آس پاس ’میں جیتنے کے لیے آئی ہوں‘20 January, 2007 | آس پاس عراق: بش مخالف قرارداد مسترد17 February, 2007 | آس پاس اوبامہ امریکی صدارت کے امیدوار10 February, 2007 | آس پاس اوبامہ وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل16 January, 2007 | آس پاس مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت18 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||