اوبامہ امریکی صدارت کے امیدوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیموکریٹِک سینیٹر بارک اوبامہ نے باضابطہ طور پر سن 2008 کے امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اپنے فیصلے کا اعلان کردیا ہے۔ اگر وہ صدارتی انتخابات جیت گئے تو پہلے سیاہ فام امریکی صدر ہوں گے۔ بارک اوبامہ نے اپنے فیصلے کا اعلان الینوائے میں سنیچر کو ایک تقریر کے دوران کیا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سینیٹر اوبامہ امریکی صدر بننے کی اپنی کوشش میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ انتخاب میں شامل ہونے کے لیے انہیں اپنی جماعت ڈیموکریٹِک پارٹی کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنی ہوگی۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹِک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی کے لیے بارک اوبامہ کا مقابلہ سینیٹر ہِلری کلِنٹن سے ہے جو امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے کی دوڑ میں ہیں۔
الینوائے کے شہر سپرنگ فیلڈ میں سنیچر کو کڑاکے کی سردی میں بارک اوبامہ کے حامی ان کا اعلان سننے کے لیے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اپنی تقریر کے دوران سینیٹر اوبامہ نے کہا: ’آج میں آپ کے سامنے امریکہ کی صدارت کے لئے امیدوار ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔‘ سینیٹر اوبامہ نے اعتراف کیا کہ ان کا سیاسی تجربہ کم ہے۔ ’مجھے معلوم ہے کہ میں نے واشنگٹن میں وہاں کا طرز عمل سیکھنے کے لیے کافی وقت نہیں گزارا ہے لیکن میں وہاں اتنے عرصے ضرور رہا ہوں کہ مجھے معلوم ہے کہ واشنگٹن کو اپنا طرز عمل بدلنے کی ضرورت ہے۔‘
سینیٹر اوبامہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاست سے منہ نہ موڑیں اور اس امکان پر یقین کرتے رہیں کہ وہ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی بہتر طور پر بدلنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ بارک اوبامہ ڈھائی سال قبل ڈیموکریٹِک پارٹی کے کنونشن میں ایک اہم تقریر کے ذریعے امریکہ کی قومی سیاست کے افق پر نمودار ہوئے تھے۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ سینیٹر کے انتخاب میں ان کی کامیابی کے پیچھے کوئی سیاہ فام یا سفید فام امریکہ نہیں بلکہ متحدہ ریاست ہائے امریکہ ہے۔ ہفتہ وار رسالے ’ٹائم‘ نے بارک اوبامہ کو ’امریکہ کا ہاٹیسٹ پولیٹیکل فینومین‘ قرار دیا ہے اور ایک مقبول ٹیلی ویژن چیٹ شو کی میزبان اوپرا ونفری نے ان سے صدارتی انتخابات میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ بارک اوبامہ نے اپنی انتخابی مہم کا اعلان اسی مقام سے کیا ہے جہاں سے ابراہم لنکن نے امریکہ سے غلامی ختم کرنے کا بگل بجایا تھا۔ ان سے قبل بھی سیاہ فام رہنما صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ بارک اوبامہ سِول رائٹس موومنٹ سے منسلک نہیں رہے ہیں جس کی وجہ سے سیاہ فام امریکی ان سے مانوس نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں سی این این، اسامہ اور اوبامہ04 January, 2007 | آس پاس اوبامہ وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل16 January, 2007 | آس پاس ’میں جیتنے کے لیے آئی ہوں‘20 January, 2007 | آس پاس ’نو گیارہ پر فِلم میں سب سچ نہیں‘11 September, 2006 | آس پاس قدامت پسندوں کا خواب بکھر گیا24 December, 2006 | آس پاس مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت18 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||