BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 19:08 GMT 00:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نو گیارہ پر فِلم میں سب سچ نہیں‘
بِل کلنٹن
پروگرام کے کئی حِصّے نو گیارہ کمیشن کی رپورٹ سے متصادم ہیں: کلنٹن فاؤنڈیشن
امریکہ میں کلنٹن فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی برسی کی موقع پر دکھائی جانے والی فِلم ’دی پاتھ کو نائن الیون‘ میں ایسی باتیں دکھائی گئی ہیں جو حقائق پر مبنی نہیں۔

فاؤنڈیشن نے کہا کہ کلنٹن انتظامیہ سے غلط باتیں منسوب کرتے ہوئے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نے حقائق پر فِکشن اور معلومات پر تفریح کو ترجیح دی ہے۔

امریکہ کے سابق صدر کی ٹیم کے ارکان نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ سن دو ہزار ایک سے پہلے صدر کلنٹن اسلامی شدت پسندی کے خطرے سے نمٹنے میں ناکام رہے۔

اے بی سی نے ڈھائی گھنٹے طویل یہ ڈرامہ نشر کرنے سے پہلے تبدیل کیا تھا۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا آیا یہ تبدیلی کلنٹن کیمپ کی شکایات کی وجہ سے کی گئی یا نہیں۔ تاہم پروگرام کے کچھ حِصّوں کی شدت میں کمی کی گئی تھی جن پر ڈیموکریٹک پارٹی کو زیادہ اعتراض تھا۔

امریکی کے سابق صدر کلنٹن کی طرف سے قائم کیے گئے ادارے کلنٹن فاؤنڈیشن نے کہا کہ نشریاتی ادارے اے بی سی کو نو گیارہ کے بارے میں بنائے گئے کمیشن، حملے کے متاثرین اور سرکاری اہلکاروں کی جانب سے متنبہ کیا گیا تھا۔ ادارے کے ترجمان نے کہا کہ پروگرام کے کئی حِصّے نو گیارہ کمیشن کی رپورٹ سے بھی متصادم ہیں۔

فاؤنڈیشن نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس وقت کے صدر کلنٹن مونیکا لونسکی تنازعے میں اس طرح الجھے ہوئے تھے کہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹ نہیں سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلن آلبرائٹ نے انیس سو اٹھانوے میں اسامہ بن لادن کے خلاف ایک میزائیل کے بارے میں پاکستان کو اطلاع کیا تھا۔

نو گیارہ کمیشن کے سربراہ تھامس کین نے کہا کہ اگر فِلم دیکھنے کے بعد صدر کلنٹن کو ذمہ دار سمجھتے ہیں تو فِلم ناکام رہی ہے۔ ’ایسا نہیں ہونا چاہیے، یہ غلط ہے‘۔

کِین کے حق میں تھے تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے فِلم کا نشر کیئے جانے والا نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو فِلم دیکھنی چاہیے۔

فِلم کے دوران تین بار بتایا گیا ہے کہ یہ دستاویزی فِلم نہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فِلم میں ڈرامایت اور ربط کے لیئے غیر حقیقی مناظر، نمائندہ کردار اور مکالمے شامل کیئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
’امریکہ کی جنگ، 92,469 ہلاک‘
11 September, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد