BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 September, 2006, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ کی جنگ، 92,469 ہلاک‘
کابل
کابل میں امریکی سفارتخانے کے باہر ایک امریکی فوجی
برطانوی روزنامے ’دی گارڈین‘ نے امریکہ میں گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کے حملوں کی یاد میں ایک خصوصی اشاعت میں بتایا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے حملوں کے بعد شروع ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں بانوے ہزار چار سو انہتر لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی طرح اس عرصے میں چار ہزار تین سو انیس لوگ دہشت گردی کا شکار ہوئے۔

امریکی معیشت پر عراق کی جنگ کا تخمینہ دو ٹرلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو ’طویل جنگ‘ کا نام دے دیا تھا۔

حلموں کا خوف
 ساٹھ فیصد امریکیوں کا خیال عراق پر حملے کی وجہ سے امریکہ پر دہشت گردی کے مزید حملے ہوں گے
دی گارڈین
اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ کی شروع کی جنگ نے غیر متوقع جنگیں شروع کر دی ہیں جیسے کہ افغانستان میں۔ وہ جنگیں جو دو ہزار ایک کے حملوں سے پہلے سے جاری تھیں، مثلاً اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ، اب نئی لڑائی کے زمرے میں آ گئی ہیں۔

پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ مشرقی افریقہ سے لے کر مشرق بعید اور کوہ قاف سے لے کر خلیج فارس تک پھیلے ہوئے علاقے میں کئی دہائیوں تک جاری رہے گی۔

گارڈین نے کہا ہے کہ اس جنگ نے سوچیں تقسیم کر دی ہیں اور دنیا کو زیادہ خطرناک جگہ بنا دیا ہے۔

اخبار نے بدلتی دنیا کے عنوان سے چند اعداد و شمار فراہم کیئے ہیں جن کے مطابق سن دو ہزار ایک کے بعد سے ساڑھے تیرہ لاکھ فوجی عراق اور افغانستان میں فرائض انجام دے چکے ہیں۔ ستمبر گیارہ کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو اکیس لاکھ ڈالر معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں مبینہ دہشت گردوں کے پندرہ لاکھ ڈالر کی مالیت کے اثاثے منجمد کیئے گئے ہیں۔

اخبار نے کہا کہ ساٹھ فیصد امریکیوں کا خیال عراق پر حملے کی وجہ سے امریکہ پر دہشت گردی کے مزید حملے ہوں گے۔ گزشتہ پانچ سال میں امریکہ میں چار سو چھپن پر افراد دہشت گردی کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔

گارڈین نے بتایا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں قائم کیئے گئے کمیشن کی رپورٹ گیارہ ہفتوں تک نیو یارک ٹائم کی بہترین کتابوں کی فہرست میں شامل رہی۔

اسی بارے میں
’انسانیت کے خلاف جنگ‘: بش
07 October, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد