’امریکہ کی جنگ، 92,469 ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی روزنامے ’دی گارڈین‘ نے امریکہ میں گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کے حملوں کی یاد میں ایک خصوصی اشاعت میں بتایا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے حملوں کے بعد شروع ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں بانوے ہزار چار سو انہتر لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی طرح اس عرصے میں چار ہزار تین سو انیس لوگ دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ امریکی معیشت پر عراق کی جنگ کا تخمینہ دو ٹرلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو ’طویل جنگ‘ کا نام دے دیا تھا۔
پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ مشرقی افریقہ سے لے کر مشرق بعید اور کوہ قاف سے لے کر خلیج فارس تک پھیلے ہوئے علاقے میں کئی دہائیوں تک جاری رہے گی۔ گارڈین نے کہا ہے کہ اس جنگ نے سوچیں تقسیم کر دی ہیں اور دنیا کو زیادہ خطرناک جگہ بنا دیا ہے۔ اخبار نے بدلتی دنیا کے عنوان سے چند اعداد و شمار فراہم کیئے ہیں جن کے مطابق سن دو ہزار ایک کے بعد سے ساڑھے تیرہ لاکھ فوجی عراق اور افغانستان میں فرائض انجام دے چکے ہیں۔ ستمبر گیارہ کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو اکیس لاکھ ڈالر معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں مبینہ دہشت گردوں کے پندرہ لاکھ ڈالر کی مالیت کے اثاثے منجمد کیئے گئے ہیں۔ اخبار نے کہا کہ ساٹھ فیصد امریکیوں کا خیال عراق پر حملے کی وجہ سے امریکہ پر دہشت گردی کے مزید حملے ہوں گے۔ گزشتہ پانچ سال میں امریکہ میں چار سو چھپن پر افراد دہشت گردی کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔ گارڈین نے بتایا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں قائم کیئے گئے کمیشن کی رپورٹ گیارہ ہفتوں تک نیو یارک ٹائم کی بہترین کتابوں کی فہرست میں شامل رہی۔ | اسی بارے میں امریکہ بہتر، دُنیا محفوظ تر: بش کا انتخابی وعدہ03 September, 2004 | صفحۂ اول ’انسانیت کے خلاف جنگ‘: بش07 October, 2005 | صفحۂ اول امریکہ: جاسوسی کی اجازت پرطوفان 16 December, 2005 | صفحۂ اول ’متنازعہ پالیسی جاری رہے گی‘19 December, 2005 | صفحۂ اول ’ایک اورٹاور اڑانے کامنصوبہ تھا‘09 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||