امریکہ بہتر، دُنیا محفوظ تر: بش کا انتخابی وعدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے رپبلکن کنوینشن میں اپنے تقریر کے دوران دنیا کو محفوظ تر بنانے کا وعدہ کیا۔ صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹک امیدوار جون کیری کا مقابلہ کرنے کے لئے بطور امیدوار نامزدگی کو قبول کرنے کے بعد کنوینشن سے خطاب کرنے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ دنیا کو محفوظ تر اور امریکہ عوام کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے تقریر کے دوران اگلے چار سال کے لیے اہداف کا بھی تعین کیا اور کہا کہ ان کی انتظامیہ تعلیم، طبی سہولیات اور روز گار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرے گی۔ صدر بش نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی سب سے بڑی ذمہ داری امریکی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ’اگر امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی کمزوری دکھائی تو دنیا کسی المیے سے دوچار ہو جائے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ اپنے دور اقتدار میں وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ صدر بش نے اقتصادی شعبے میں بھی ترقی کا وعدہ کیا اور کہا کہ وہ امریکہ کے تیل کے بیرونی ذرائع پر انحصار کو کم کریں گے۔
زبردست تالیوں کی گونج میں صدر بش نے اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ کے پاس امریکی عوام کے تحفظ کے لئے واضح پلان ہے۔ ’ہمارا پلان یہ ہے کہ آگے بڑھ کر حملہ کیا جائے اور دہشت گردوں کو ملک سے باہر ہی نپٹا جائے تاکہ وہ امریکہ پر حملہ نہ کر سکیں۔‘ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر آزادی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں کیونکہ خطے میں امن اسی صورت ہی ممکن ہے۔ صدر بش نے عراق پر امریکی حملے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ یہ ان کے لیے سب سے مشکل فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے سابق حکمران صدام حسین کا دیگر اقوام پر حملے اور دہشت گردوں کا ساتھ دینے کا بہت پرانا ریکارڈ تھا۔ ’وہ ایک طویل عرصہ تک نہ صرف وسیع تباہی کے ہتھیار بناتے رہے بلکہ انہوں نے وقت آنے پر انہیں استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ صدر بش نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں نے امریکہ میں سوچ کے انداز کو بدل ڈالا۔ ’ہمیں دہشت گردی کے خطرے سے بر وقت عہدہ برآ ہونا ہے۔‘ صدر بش نے کہا کہ اس وقت عراق پر ایک مضبوط وزیر اعظم کی حکومت ہے اور وہاں جنوری میں انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ ’ہم عراق عوام کے ساتھ ہیں کیونکہ اگر ہم نے ان سے اس بات کا وعدہ کیا تھا تو اس کو ہر صورت میں نبھائیں گے۔‘ رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جان کیری اور صدر بش کے مابین بہت ہی کانٹے کا مقابلہ ہے۔ صدر بش کی تقریر کے موقع پر سو کے قریب بش مخالف مظاہرین نے نیویارک کے گرینڈ سنٹرل ریلوے سٹیشن کے سامنا احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے دوران انیس مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے پہلے صدر بش نے میڈیسن سکوائر گارڈنز میں صبح کے وقت ہونے والی ایک عبادت میں حصہ لیا تاکہ وہ خود کو تقریر کے جگہ سے مانوس کر سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||