BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 December, 2005, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’متنازعہ پالیسی جاری رہے گی‘
صدر بش
صدر بش نے اس خفیہ پروگرام کے افشاء ہونے کو باعث شرم قرار دیا
امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ ٹیلی فون سننے اور ای میلز پڑھنے کی متنازعہ پالیسی جاری رہے گی کیونکہ امریکہ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نےایک بار پھر اس پالیسی کا دفاع کیا ہے جس کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے اندر ان لوگوں کی ٹیلی فون کالوں اور ای میلوں کی جاسوسی کرنے کی اجازت دی گئی تھی کہ جن کے بارے میں شبہ تھا کہ ان کا تعلق دہشت گرد تنظمیوں سے ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ’وہ سمجھتے ہیں اس خبر کے اخبارات تک پہنچنے کے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ’وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس بات کا مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی اجازت سے قبل اس قسم کے نگرانی پر مبنی آپریشن کا حکم دے سکیں‘۔

انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد، چار سال قبل کانگریس نے انہیں دہشت گردی کی جنگ کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھانے کی اجازت دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ متنازعہ پروگرام بہت کامیاب ثابت ہوا اور جب تک امریکی عوام کےدشمن موجود ہیں یہ پروگرام جاری رہے گا۔ انہوں نے اس خفیہ پروگرام کے افشاء ہونے کو باعث شرم قرار دیا۔

صدر بش نے کانگریس سے کہا کہ وہ امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف حب الوطنی کے قانون یا پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد