’متنازعہ پالیسی جاری رہے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ ٹیلی فون سننے اور ای میلز پڑھنے کی متنازعہ پالیسی جاری رہے گی کیونکہ امریکہ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نےایک بار پھر اس پالیسی کا دفاع کیا ہے جس کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے اندر ان لوگوں کی ٹیلی فون کالوں اور ای میلوں کی جاسوسی کرنے کی اجازت دی گئی تھی کہ جن کے بارے میں شبہ تھا کہ ان کا تعلق دہشت گرد تنظمیوں سے ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ’وہ سمجھتے ہیں اس خبر کے اخبارات تک پہنچنے کے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ’وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس بات کا مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالتی اجازت سے قبل اس قسم کے نگرانی پر مبنی آپریشن کا حکم دے سکیں‘۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد، چار سال قبل کانگریس نے انہیں دہشت گردی کی جنگ کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھانے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ پروگرام بہت کامیاب ثابت ہوا اور جب تک امریکی عوام کےدشمن موجود ہیں یہ پروگرام جاری رہے گا۔ انہوں نے اس خفیہ پروگرام کے افشاء ہونے کو باعث شرم قرار دیا۔ صدر بش نے کانگریس سے کہا کہ وہ امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف حب الوطنی کے قانون یا پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید کرے۔ | اسی بارے میں پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف 18 December, 2005 | آس پاس بش کی جیوری میں حاضری ملتوی03 December, 2005 | آس پاس بش، بلیئر پر پنٹر کی شدید تنقید07 December, 2005 | آس پاس ناقص انٹیلیجنس پر بش کا اعتراف14 December, 2005 | آس پاس بش کا مستقبل جنگ سے وابستہ15 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||