بِل کلنٹن کی’مائی لائف‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق صدر بِل کلنٹن اپنی خود نوشت سوانح عمری ’مائی لائف‘ کی اشاعت کے موقع پر مین ہیٹن میں پیر کو ایک ہزار مہمانوں کے اعزاز میں شاہانہ دعوت کا اہتمام کریں گے۔ ہزاروں لوگوں نے ’مائی لائف‘ خریدنے کے لیے ایڈوانس بکنگ کرا رکھی ہے اور کتاب کی فروخت کے لیے بہت سے سٹور نصف شب تک کھلے رہیں گے۔ لوگوں کی بیشتر تعداد وائٹ ہاؤس میں ملازمت کرنے والی مانیکا لوئنسکی اور بِل کلنٹن کے معاشقے کی تفصیلات جاننے کی منتظر ہو گی۔ تاہم روزنامہ نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہ کتاب ’بے مزا ہے جس میں اپنا ہی راگ الاپا گیا ہے اور اس میں پڑھنے والے کے لیے کوئی کشش بھی نہیں ہے۔‘ بِل کلنٹن نے اپنی کتاب کی تشہیر کے لیے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ مانیکا لوئنسکی سے ان کا تعلق اس وقت استوار ہوا جب وہ ملک کے صدر تھے اور دباؤ کا شکار تھے۔ بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی حریفوں کی جانب سے دباؤ مانیکا سے معاشقے کی بڑی وجہ بنا۔
سابق امریکی صدر بِل کلنٹن نے ایک اور موقع پر یہ بھی کہا ہے کہ ان سے پہلے کسی بھی سربراہ نے اپنی زندگی کے بارے میں اس قدر تفصیلات لوگوں کے سامنے کبھی پیش کی ہیں اور نہ غالباً کرے گا۔ سی بی ایس ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ دور ایسا تھا جیسے کوئی ’پاگل خانہ میں رہ رہا ہو۔‘ انہوں نے اپنی بے راہرویوں کی وجہ ’پرانے خوف‘ کو بتایا اور کہا کہ عوامی تنقید اور ایک برس کے صلاح مشوروں کے سبب ہی ہلیری کلنٹن سے ان کی شادی برقرار رہی۔ بِل کلنٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’جب میں نے ہیلری کو مانیکا سے معاشقے ے بارے میں بتایا تو وہ سخت برہم ہوئیں کہ میں نے یہ بات پہلے کیوں نہ بتائی۔‘ انہوں نے اپنے دورِ حکومت کی خارجہ پالیسی کی بابت کہا کہ انہیں دو باتوں کا بہت دکھ ہے۔ ایک یہ کہ اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ حل نہ ہونے کے باعث مشرق وسطیٰ میں استحکام پیدا نہ ہو سکا اور دوسرا یہ کہ اسامہ بن لادن گرفتار نہ ہو سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||