’اخلاقی غلطی‘ پر افسوس ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے وائٹ ہاؤس کی ملازمہ مونیکا لیونسکی سے اپنے تعلقات کو ایک ’خوفناک اخلاقی غلطی‘ قرار دیا ہے۔ بل کلنٹن نے سی بی ایس ٹیلی وژن کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے مونیکا سکینڈل پر کبھی بھی استعفیٰ دینے کا نہیں سوچا اور وہ مواخذے کے خلاف اپنی لڑائی کو ’تمغہ اعزاز‘ تصور کرتے ہیں۔ انٹرویو کے اقتباسات جاری کر دیے گئے ہیں اور مکمل انٹرویو اتوار کو دکھایا جائے گا۔ منگل کو 957 صفحات پر مبنی سابق صدر کی یادداشتوں کا ایک مجموعہ ’مائی لائف‘ کا امریکہ میں اجراء ہو رہا ہے۔ یہ انٹرویو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مونیکا کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے کلنٹن کی کرسی صدارت خطرے میں پڑ گئی تھی اور دسمبر 1998 میں دارالعوام میں ان کے خلاف مواخذہ بھی ہوا تھا۔ فروری 1999 میں سینیٹ نے ایک ٹرائل کے بعد انہیں بری کر دیا تھا اور انہیں اپنی مدتِ صدارت پوری کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ کلنٹن نے سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹ‘ کو بتایا کہ کہ انہیں مونیکا لیونسکی سکینڈل پر افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے جو بھی کیا اس کا جواز انتہائی بدتر ہے لیکن پھر بھی میں نے وہ کیا۔ صرف اس لیے کہ میں یہ کر سکتا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی غلطی کی وجہ سے ان کی بیوی ہلری کلنٹن کو، جو اب نیو یارک سے سینیٹر ہیں، کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے غور کرنا پڑا کہ انہیں ان کے ساتھ رہنا چاہیئے یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||