’بش کو خدائی حکم نہیں ملا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاوس نےصدر بش سے منسوب کیے جانے والے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے کبھی یہ کہا تھا کہ مشرق وسطی میں امن قائم کرنے کے لیے عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے کا حکم انہیں خدا کے طرف سے ملا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکلین نے کہا کہ ’ انہوں نے کبھی ایسا بیان نہیں دیا‘۔ صدر بش سے منسوب یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بی بی سی کے ایک پروگرام میں فلسطینی مذاکرات کار نبیل شاتھ نے کہا کہ دو سال قبل فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران صدر بش نے دعویٰ کیا تھا کہ خدا نےانہیں افغانستان میں دہشت گردی اور عراق میں جبر کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ نبیل شاتھ کا کہنا تھا کہ ’ صدر بش نے ہم سب سے کہا کہ مجھے خدا سے حکم ملا کہ افغانستان میں دہشت گردوں سے لڑوں اور میں لڑا، پھر خدا نے حکم دیا کہ عراق میں جبر و استبداد کا خاتمہ کروں اور میں نے کیا۔ اور اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے خدا کا پیغام مل رہا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین اور اسرائیلیوں کو تحفظ دلواؤں اور مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کروں اور میں یہ کروں گا‘۔ بی بی سی کی اس دستاویزی فلم میں فلسطینی رہنما محمود عباس بھی پردے پر نمودار ہوتے ہیں اور صدر بش کے اس بیان کو یاد کرتے ہیں کہ کیسے صدر بش نے انہیں کہا کہ ’یہ میری اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے اور میں آپ کو ایک فلسطینی ریاست دوں گا‘۔ بی بی سی ٹی وی کی یہ سیریز سنہ 1999 میں امریکی صدر کلنٹن کے دور میں مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات سے حال ہی میں غزہ سے اسرائیلی انخلاء تک کے واقعات کی عکاس ہے۔ اور اس کا مقصد وہ باتیں سامنے لانا ہے جن کے بارے میں عوام نہیں جانتے اور اس سلسلے میں اس سیریز کو تیار کرنے والوں نے مختلف صدور، وزرائے اعظم ، جنرلوں اور وزیروں سے بات چیت کی ہے۔ ’اسرائیل اور عرب‘ نامی یہ سیریز بی بی سی ٹو پر تین قسطوں میں پیش کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||