قدامت پسندوں کا خواب بکھر گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سال دو ہزار چھ میں ’نیو کونز‘ یا نئےقدامت پسندوں کا خواب بکھرگیا۔ قدامت پسندوں نے اپنی خواہشات کا باقاعدہ اظہار انیس سو ستانوے میں ’ منصوبہ برائے نئی امریکی صدی ‘ کے نام سے کیا تھا لیکن عراق میں صورتحال ہاتھ سے نکلنے کے بعد یہ خواب مایوسی اور خفت میں بدل گیا۔ ’ نئی امریکی صدی کا منصوبہ‘ اب محض ایک ٹیلیفون نمبر اور ایک بے کار ویب سائٹ کے سوا کچھ نہیں رہا۔ منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین میں سے آخری شخص بچا ہے جو آجکل دفتر کا سامان سمیٹ رہا ہے۔ اس ’منصوبے‘ کا مقصد امریکی طاقت اور اثر کو دنیا بھر میں پھیلانا تھا۔ سنہ انیس سو ستانوے میں جب صدر بِل کلنٹن کے دور میں اس کا آغاز کیا گیا تو اس کے مقاصد یوں بیان کیے گئے تھے: ’لگتا ہے کہ ہم ریگن انتظامیہ کی کامیابی کے اصل عناصر کو بھول چکے ہیں، یعنی: ایک ایسی فوج جو موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے، ایک خارجہ پالیسی جو دلیرانہ طور پر امریکی اصولوں کو باقی دنیا میں فروغ دے سکے، اور ایک قومی قیادت جو امریکہ کی ’عالمی ذمہ داریوں‘ کو قبول کرے۔‘ اس تحریر پر دستخط کرنے والوں میں کئی سینیئر افسران شامل تھے جنہیں بعد میں جارج بش کی زیرصدارت امریکی پالسیی بنانا تھی۔ ڈک چینی، ڈونلڈ رمسفیلڈ، پال وولفووٹز، ایلیٹ ایڈمز اور لوئس لبّی۔ ان کے علاوہ فرانسس فوکویاما، نورمن پوڈ ہرٹز اور فینک گیفنی جیسے فلسفی بھی اس منصوبہ سازی میں شامل تھے۔
ان لوگوں کو نیو کونز یا ’نئے قدامت پسند‘ اس لیے کہا گیا کہ ان کی کوششوں کا مقصد ریپبلکن پارٹی اور خود امریکہ کی ’سچی قدامت پسندانہ‘ اقدار کی بحالی تھا۔ یہ لوگ صدر کلنٹن اور کسی حد تک صدر جارج بُش سینیئر کے دور میں فروغ پانے والے ان رجحانات کا خاتمہ چاہتے تھے جو ان کے خیال میں امریکہ کو باقی دنیا سے دور کر رہے تھے۔ ان لوگوں کے خیال میں عراق میں جنگ وہ بہترین موقع تھا جس سے ثابت کیا جاسکتا تھا کہ ’نئی امریکی صدی‘ کا مطلب کیا ہے۔ ان کی پیشنگوئی تھی کہ ایک ایسے خطے میں جہاں جمہوری اقدار نہیں پائی جاتیں وہاں ان کے فروغ سے امریکی کوممکنہ خطرے کا خاتمہ ہو جائے گا، اسی طرح جیسے جنگ عظیم دوم کے بعد جرمنی اور جاپان میں جمہوریت آنے سے امریکہ کو آنے والے خطرات ختم ہو گئے تھے۔ چونکہ اس سلسلہ میں ساری امیدیں عراق سے وابستہ کر لی گئی تھیں اس لیے یہ کہنا غلط نہیں کہ وہاں درپیش آنے والے مسائل سے سارے منصوبہ کی اپنی افادیت کے بارے میں شکوک پیدا ہو گئے ہیں۔
قدامت پسندی کی اس تحریک کے ایک ناقد ڈیوڈ راتھکوپ، جو کہ آجکل کارنیگی انڈوومنٹ کے ساتھ منسلک ہیں، اس خیال کی تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے : ’اب نئی قدامت پسندی کو ایک نسل کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان لوگوں کا واحد منصوبہ عراق میں جنگ تھا۔ عراق میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکنا اس منصوبے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عراق میں نتائج ان کی توقعات سے بالکل الٹ نکلے۔‘ ڈیوڈ راتھکوپ کے مطابق ’ عراق میں امریکی طاقت کے استعمال کا مطلب یہ نکلا کہ وہاں حالات خراب ہوئے اور اس سے خطے میں آگ لگ گئی جہاں جمہوریت کے پھیلنے کے اثرات پہلے ہی معدوم تھے۔ عراق کی صورتحال کے بارے میں نہ صرف ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے بلکہ جس انداز سے منصوبے پر عمل کیا گیا وہ بھی انتہائی بھونڈا تھا۔ نئے قدامت پسندوں کو اپنے ہی خیالات اور بش انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے شکست ہو گئی۔‘
’ شاید جارج بش آخری نئے قدامت پسند ثابت ہوں، یا شاید ڈک چینی۔ جارج بش میں خود تـجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے قدامت پسندانہ فلسفے کو اپنا لیا۔‘ اپنے خواب کے ٹوٹنے سے خود نئے قدامت پسندوں کے مابین بھی تفرقات آ گئے ہیں اور ان کے آپس کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر نئے قدامت پسندوں کی دو صف اول کی شخصیات ، رچرڈ پرل اور کینتھ ایڈلمین تو کھل کر جارج بش کی ٹیم پر تنقید کر چکی ہیں۔ یہ دونوں وزارت دفاع (پینٹاگون) کے ماہرین کے بورڈ میں شامل تھے اور دونوں نے عراق پر حملے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ رچرڈ پرل نے ’وینیٹی فئر‘ میگزین میں ایک مضمون میں لکھا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ عراق پر حملے کے یہ نتائج نکلیں گے تو وہ اس کی مخالفت کرتے۔’ میرا خیال ہے اس وقت مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ ہمیں دوسری تجاویز پر غور کرنا چاہیے۔‘ اسی طرح کینتھ ایڈلمین نے اسی میگزین میں کہا ’ بش کی ٹیم جنگ عظیم دوم کے بعد کی سب سے زیادہ نا اہل امریکی ٹیم ثابت ہوئی ہے۔ ’ نہ صرف اس ٹیم کے ہر رکن میں بڑی بڑی انفرادی خرابیاں ہیں بلکہ بطور ٹیم یہ لوگ تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔‘ کینتھ ایڈلمین کے بقول ڈونلڈ رمسفیلڈ نے خود انہیں بھی بے وقوف بنایا۔ رچرڈ پرل اور کینتھ ایڈلمین کے برعکس دیگر نیو کونز اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہیں۔ وہ بڑی شد و مد سے کہتے ہیں کہ اصل منصوبے میں کوئی خرابی نہیں تھی اور اگر کوئی خرابی ہوئی ہے تو وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے دوران ہوئی ہے۔ گیری شمٹ ’منصوبہ برائے نئی امریکی صدی‘ کے ایک اعلٰی رکن تھے۔ ان کے خیال میں منصوبہ ناکام نہیں ہوا بلکہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا ہے۔ ’ جب یہ شروع ہوا تھا تو اس وقت بھی ہمیں پتہ تھا کہ یہ ساری عمر تو جاری نہیں رہے گا۔اسی لیے اب ہم اس کو بند کر رہے ہیں۔ہمیں اس منصوبے کے لئے پیسے اکھٹے کرنے میں بہت سا وقت لگا تھا اور ہمارے سامنے جو مقاصد تھے وہ حاصل کر لیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اس وقت ہمیں لگا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کچھ خرابیاں ہیں، مثلاً یہ کہ اس سے امریکہ دنیا سے کٹ رہا تھا۔اس لیے ہم نے صدر ریگن کی پالیسیوں کو واپس لانے کا فیصلہ کیا۔‘ ’ہمارے خیالات کو اپنایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ کلنٹن انتظامیہ بھی اس کی حامی تھی۔ مثلاً یہی بات کلنٹن کی وزیر خارجہ میڈیلن ایلبرائٹ نے ان الفاظ میں کہی تھی کہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے بغیر دنیا کا گذارہ نہیں۔ گیری شمٹ کے مطابق مسئلہ یہ ہوا کہ نیوکونز کے خیالات پوری طرح حاوی نہیں رہے۔’ ہمارا کوئی ہم خیال صدر بش کے کندھے پر نہیں بیٹھا تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ عراق میں ناکامی سے زندگی مشکل ہو گئی ہے لیکن میں رچرڈ پرل کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ ہمیں عراق جانا ہی نہیں چاہئے تھا۔‘ بات یہ بھی ہے کہ عراق کے معاملے میں تمام قدامت پسندوں کی امیدیں ختم نہیں ہوئیں۔آج کل ’اے ای آئی‘ نامی ادرہ جو کہ ’منصوبہ برائے نئی امریکی صدی‘ سے ہجرت کرنے والوں کا نیا گھر بن چکا ہے، ایک نئے مضمون کو بڑے جوش و خروش سے پیش کر رہا ہے۔ عنوان ہے: ’فتح کا انتخاب: عراق میں کامیابی کا ایک منصوبہ‘۔ اس مضمون میں کہا جا رہا ہے کہ عراق سے امریکی فوجوں کا انخلاء نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں وہاں فوج کی تعداد بڑھانی چاہیے۔ اس سلسلے میں صدر بش کا فیصلہ جنوری میں متوقع ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||