امریکی دفاعی ٹھیکیداروں کے مزے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیو یارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں اور دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کے حوالے سے ایک ایسی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس نے امریکہ میں دفاعی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کے اعلی افسران کی آمدنی میں بے انتہا اضافے کا پول کھولا ہے۔ یہ رپورٹ انسٹیٹیوٹ فار پالیسی سٹڈیزاور یونائیٹڈ فار اے فئیر اکانومی نے تیار کی ہے۔ رپوٹ کے مطابق گیارہ ستمبر اور عراق جنگ کے بعد ان کمپنیوں کے اعلی افسران کی تنخواہوں اور بونسوں کی مد میں دوسو فیصد تک کا اضافہ ہو گیا ہے جو امریکی فوجیوں کو سامان فراہم کرتی رہی ہیں۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک سے پہلے اضافے کی یہ شرح صرف سات فیصد تھی۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کےحملوں اور دہشت گردی کی جنگ گویا امریکی حکمران جماعت کے لیے فائدے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں اور عراق میں بگڑتی صورت حال کے بعد دفاعی کمپنیوں کےٹھیکیدار ہر بات سے بے نیاز صرف پیسے بنانے میں لگے ہیں۔ دو ہزار ایک کے دوران دفاعی اخراجات کی مد میں پچیس فیصد اضافہ ہوا اور دوہزار چار میں یہ اخراجات بڑھ کے چار سو چھ بلین ڈالر تک پہنچ گئے جس کاآدھے سے زیادہ حصہ نجی دفاعی ٹھیکداروں کی جیب میں جا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں جن چو نتیسں کمپنیوں اور ان کے اعلی افسران کو ا ن ہی میں سے بلٹ پروف جیکٹ بنانے والی ایک کمپنی ڈیوڈ ایچ بروکس یا ڈی ایچ بی نے امریکی مرینز کو تقریبا پانچ ہزار بلٹ پروف جیکٹیں عراق اور افغانستان میں متعین دستوں کے لیےفراہم کیں۔مگرانتہائی زیادہ قیمت پر خریدی جانے والی یہ جیکٹیں گولیوں سے بچاؤ کرنے میں ناکام رہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی مزدور اور دفاعی اعلی عہدایداروں کی تنخواہوں میں فرق بھی بے انتہا بڑھ گیا ہے مثلا اگر دو ہزار تین میں مزدور اور کمپنی کے اعلی عہدایدار کی تنخواہ میں فرق ایک اور تین سو ایک کا تھا، تو اب وہ بڑھ کر ایک اور چار سو اکتیس ہو گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||