BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 December, 2006, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متنازع امریکی سفیرمستعفی
جون بولٹن وسطی مدت کے انتخابات کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنے والے دوسرے شخص ہیں
اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر جون بولٹن سینیٹ سے منظوری نہ ملنے کے پیشِ نظر اپنی عارضی تقرری کی مدت پوری ہونے پر اس عہدے کو چھوڑ رہے ہیں۔

جون بولٹن سفارت کا عہدہ چھوڑنے پر اس لیے مجبور ہوئے ہیں کہ امریکی سینیٹ نے اس بات کی منظوری نہیں دی کہ وہ اقوامِ متحدہ میں کام کرتے رہیں۔

انہوں نے یہ عہدہ گزشتہ برس سنبھالا تھا۔

امریکہ میں وسطیٰ مدت کے انتخابات میں حکمراں جماعت کی ناکامی کے بعد جون بولٹن، صدر بش کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں دوسرے ایسے فرد ہیں جنہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے۔ اس سے قبل وزیرِ دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ کو بھی اپنے استعفے کا اعلان کرنا پڑا تھا۔

اگست دو ہزار پانچ میں صدر جارج بش نے ڈیموکریٹ اراکین کی شدید مخالفت اور خود حکمراں جماعت ریپبلیکن پارٹی کے کچھ ممبران کی مخالف رائے کے باوجود جون بولٹن کو اپنا صدارتی اختیار استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں سفیر مقرر کیا تھا۔

اس وقت قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں سینیٹ سے اپنے عہدے کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ لیکن اب کانگریس میں عددی کمتری کے باعث حکمراں پارٹی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ جون بولٹن کی حمایت میں دو تہائی ووٹ حاصل کر سکے۔

مسٹر بولٹن کے ناقد کہتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے کبھی یہ کہا تھا ’اقوامِ متحدہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے‘ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کے عہدے کے لیے موزوں نہیں ہے۔

تاہم انہیں پسند کرنے والے کہتے ہیں کہ بولٹن ذہین اور محنتی ہیں اور حقیقت پسندانہ رویہ رکھتے ہیں اور ان کی اقوامِ متحدہ کے بارے میں تشکیک ہیں انہیں اس عہدے کا اہل بناتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد