متنازع امریکی سفیرمستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر جون بولٹن سینیٹ سے منظوری نہ ملنے کے پیشِ نظر اپنی عارضی تقرری کی مدت پوری ہونے پر اس عہدے کو چھوڑ رہے ہیں۔ جون بولٹن سفارت کا عہدہ چھوڑنے پر اس لیے مجبور ہوئے ہیں کہ امریکی سینیٹ نے اس بات کی منظوری نہیں دی کہ وہ اقوامِ متحدہ میں کام کرتے رہیں۔ انہوں نے یہ عہدہ گزشتہ برس سنبھالا تھا۔ امریکہ میں وسطیٰ مدت کے انتخابات میں حکمراں جماعت کی ناکامی کے بعد جون بولٹن، صدر بش کے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں دوسرے ایسے فرد ہیں جنہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے۔ اس سے قبل وزیرِ دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ کو بھی اپنے استعفے کا اعلان کرنا پڑا تھا۔ اگست دو ہزار پانچ میں صدر جارج بش نے ڈیموکریٹ اراکین کی شدید مخالفت اور خود حکمراں جماعت ریپبلیکن پارٹی کے کچھ ممبران کی مخالف رائے کے باوجود جون بولٹن کو اپنا صدارتی اختیار استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں سفیر مقرر کیا تھا۔ اس وقت قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں سینیٹ سے اپنے عہدے کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ لیکن اب کانگریس میں عددی کمتری کے باعث حکمراں پارٹی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ جون بولٹن کی حمایت میں دو تہائی ووٹ حاصل کر سکے۔ مسٹر بولٹن کے ناقد کہتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے کبھی یہ کہا تھا ’اقوامِ متحدہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے‘ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر کے عہدے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ تاہم انہیں پسند کرنے والے کہتے ہیں کہ بولٹن ذہین اور محنتی ہیں اور حقیقت پسندانہ رویہ رکھتے ہیں اور ان کی اقوامِ متحدہ کے بارے میں تشکیک ہیں انہیں اس عہدے کا اہل بناتی ہے۔ | اسی بارے میں صدر بش کو دھچکا: بولٹن ’نامنظور‘13 May, 2005 | آس پاس سلامتی کونسل کا توسیعی منصوبہ12 July, 2005 | آس پاس بولٹن کے مسئلے پر بش پھر ناکام21 June, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||