BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 November, 2006, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ پولنگ کا اختتام، نتائج کا انتظار
دونوں جماعتیں کانگرس میں برتری حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں
امریکی انتخابات میں پولنگ اختتام پذیر ہو رہی ہے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق ووٹر کا ٹرن آؤٹ زیادہ رہا ہے۔

انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹ کانگرس کے ایک ایوان میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ان انتخابات میں ایوانِ زیریں کی تمام اور سینیٹ کی ایک تہائی سیٹوں پر حکمران رپبلکن اور حزب اختلاف کی ڈیموکریٹک پارٹی میں مقابلہ ہورہا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو امید ہے کہ عراق کے مسئلہ پر صدر بش کی عدم مقبولیت سے انہیں فائدہ ہوگا جبکہ رپبلکن سیکورٹی پر سخت گیر موقف پر زور دے رہے ہیں۔

انتخابات سے ایک دن قبل صدر بش نے تین جنوبی ریاستوں کا دورہ کیا اور اپنی تقریروں کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا کہ ڈیموکریٹس ٹیکسوں میں اضافہ کریں گے اور دہشت گردوں سے نرمی برتیں گے۔

ارکنساس میں تقریر کے دوران صدر بش نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت تمام انتخابی جائزوں کو غلط ثابت کر دے گی۔

انتخابات میں ناکامی سے صدر بش کو شدید جھٹکا لگے گا

انہوں نے ووٹروں سے کہا کہ ان کی جماعت کے اصول عوام کی اکثریت کے اصول ہیں۔

ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ رپبلکن پارٹی کے اراکین نے صدر بش کی عراق کے بارے میں ناکام پالیسی کی اندھی تقلید کی ہے جس کی وجہ سے ووٹر اب رپبلکن پارٹی سے منحرف ہو گئے ہیں۔

الینوائے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار بارک اوباما نے کہا لوگوں نے اب متبادل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے اور ملک بھر میں لوگ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔

دونوں جماعتوں نے اپنے ہزاروں رضاکاروں کو مختلف حلقوں کی طرف روانہ کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی رائے کے اظہار پر آمادہ کیا جا سکے۔ تاہم ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب چالیس فیصد تک رہنے کی امید ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ میں اکثریت کے لیئے صرف چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنی ہے جبکہ ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کے لیئے پندرہ نشستیں درکار ہیں۔

فلوریڈا کا انتخابی جلسہ
 جنوبی ریاست فلوریڈا کے رپبلکن امیدوار چارلی کرسٹ نے صدر بش کو اس وقت شرمندہ کر دیا جب فلوریڈا میں صدر بش کے انتخابی جلسے میں شریک ہونے کے بجائے انہوں نے اپنا علیحدہ جلسہ کرنے کو ترجیح دی۔

ان کے علاوہ امریکہ کی چھتیس ریاستوں میں لوگ گورنروں کا انتخاب بھی کر رہے ہیں۔

ان انتخابات کو صدر بش کی پالیسیوں پر عوامی ریفرنڈم تصور کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اگر دونوں ایوانوں میں سے ایک میں بھی تبدیلی آئی تو یہ صدر بش کے لیئے ایک نئی صورت حال ہو گئی کیونکہ وہ گزشتہ چھ سال سے دونوں ایوانوں میں اکثریت کی موجودگی میں حکمرانی کرنے کے عادی ہیں۔

گو کہ صدر بش کو خارجہ پالیسی کے امور میں اب بھی مکمل آزادی حاصل ہو گی لیکن اگر کانگرس ان کے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر ڈیموکریٹک اراکین جن کو ملک کے مالی امور پر اختیار حاصل ہو گا اس پالیسی پر مزید غور کرنے پر اصرار کر سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق عوامی جائزوں میں صدر بش کی گرتی ہوئی ساکھ کی وجہ سے بہت سے رپبلکن امیدوار بھی صدر بش سے فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔

جنوبی ریاست فلوریڈا کے رپبلکن امیدوار چارلی کرسٹ نے صدر بش کو اس وقت شرمندہ کر دیا جب فلوریڈا میں صدر بش کے انتخابی جلسے میں شریک ہونے کے بجائے انہوں نے اپنا علیحدہ جلسہ کرنے کو ترجیح دی۔

ہزاروں کی تعداد میں ووٹر اپنا حق رائے دہی انتخابات سے ایک دن قبل ہی استعمال کرچکے ہیں۔

پینتیس ریاستوں اور ڈسٹرک آف کولمبیہ میں انتخابات سے ایک دن قبل ووٹروں کوووٹنگ مشین یا پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت حاصل ہے۔

امریکی صدر جارج بشمقبولیت کا امتحان
وسط مدتی انتخاب عراق پالیسی پر ریفرنڈم
’ووٹ نہیں دونگا‘
امریکی انتخابات اور دو امریکی ووٹر
اسامہ بن لادنضمنی الیکشن
امریکی انتخابات میں اسامہ کا استعمال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد