کینیڈی کی بیماری، امریکی انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیڈ کینیڈی امریکہ کی سیاست میں سب سے پرانے سیاست داں ہیں۔ وہ اپنے خاندان اور اپنی پارٹی کے سیاسی سوچ کو قائم رکھنے کی ایک زندہ مثال ہیں۔ انکے بغیر امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی مہم کا تصور کرنا مشکل ہے۔ لیکن انتخابی مہم میں انکی غیر حاضری کے سچ کو انکی پارٹی کو قبول کرنا ہوگا کیونکہ وہ بیمار ہیں اور انہیں برین ٹیومر ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا اور ٹی وی چینلز نے عوامی شخصیات کے لیے انکی بیماریوں اور اسکی علامتوں پر بحث و مباحث کرکے ناخوشگوار ماحول بنایا ہے اور ان بحث و مباحثوں میں کینیڈی کی موت کے بھی خدشے پر بات کی جارہی ہے۔ کینیڈی کی بیماری کا کچھ بھی نتیجہ ہو لیکن یہ سوچ یقینی ہے کہ انکی بیماری کی وجہ سے امریکہ کی انتخابی مہم میں وہ مرکزی کردار نہیں ادا کرپائیں گے جو شاید اگر بیمار نہ ہوتے تو ضرور کرتے۔ ڈیموکریٹس کے لیے ٹیڈ کینیڈی کی انتخابی مہم میں غیر حاضری ایک ایسا نقصان جسکا کوئی ازالہ نہیں ہے۔
ایڈورڈ مور کینیڈی امریکہ کی تاریخ میں ان چھ سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو سینیٹر کے طور پر چالیس برس تک رہے ہیں۔ وہ تعلیم اور صحت جیسے پیچيدہ شعبے میں ایک ہونہار اور سرکردہ قانون ساز رہے ہیں۔ انہیں شعبوں میں سینئر امریکی سیاست دانوں نے کام کو انجام دینے کے لیے دباؤ میں آکر سودے کیے ہیں۔ ٹیڈ کینیڈی کے بڑے بھائی جان کینڈی کے قتل کے بعد سے ٹیڈ امریکہ اور کینڈيز کے درمیان ایک زندہ کڑی ہیں۔ جان کینڈيز کے قتل کے بعد ہی امریکہ کی معصومیت ختم ہوگئی تھی اور کینڈيز کا رومانی لیجنڈ اس وقت سیل ہوگیا تھا جب جان کینیڈی کے چھوٹے بھائی کا 1968 میں قتل ہوا۔ اس وقت وہ ملک کے تاریخی انتخابات میں ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کررہے تھے۔ ٹیڈ نے اپنے دونوں بھائیوں کے لیے شاندارانتخابی مہم چلائی لیکن جو خود فناپذیری کینڈيز کی تاریخ رہی ہے اس کا اثر ٹیڈ کو چھوئے بنا نہیں رہا۔
امریکہ میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ایک دن ٹیڈ بھی صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑیں گے اور عوام کے سامنے اپنے آپ کو اپنے بھائی کی چھوڑی ہوئی وراثت کے نمائندہ کے طور پر پیش کریں گے۔ انہوں نے ایسا کیا بھی اور 1980 میں ڈیموکریٹک امیدوار کے طور پر صدر کے انتخاب لڑا۔ لیکن ٹیڈ کی قسمت 1969 کی ایک رات میں اس وقت بدل گئی جب انکی گاڑی میساچوسٹس کے چپاکیوڈک علاقے میں ایک پل سے نیچے گرگئی۔ ان کی انتخابی مہم چلانے والی خاتون میری جو انکے ساتھ تھیں اور وہ پل کے نیچے جاگریں اور ڈوب گئی۔ ٹیڈ کا اس حادثے کے بارے میں جو رویہ تھا اسے ایک ہیرو کا رویہ نہیں کہا جاسکتا تھا۔ میری جو کی موت کے بارے میں رپورٹ آنے میں تو تاخیر ہوئی ہی بلکہ ان کو بچانے کے لیے کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی۔ یہ واقعہ ہی ٹیڈ کے 1972 میں صدراتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کی وجہ بنا۔ امریکی اس واقعے سے سخت ناراض تھے اور اگلے آٹھ سالوں کے بعد جب ٹیڈ نے پارٹی سے صدر کے لیے نامزد ہونا چاہا تو اس وقت بھی یہ واقعہ یہ ایک اہم موضوع بنا ہوا تھا۔ اور اسی لیے ٹیڈ جمی کارٹر کو نہ ہٹا سکے اور تب یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ کینیڈيز کا نام ختم ہوچکا ہے۔ 1960 میں ٹیڈ نے اپنے بھائی جان کی جگہ میساچوسیٹس کے سینیٹر بنے اور اسکے بعد سے ہی انہوں نے ایک محنتی اور بااثر سینیٹر کے طور پر مشہور ہوئے۔
ٹیڈ امریکہ کی سیاست میں ایک بااثر لیڈر ہیں اور دنیا کے اہم لیڈروں کی طرح انکا 2008 کا امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدواروں میں سے ہلیری کلنٹن کو حمایت نہ دے کر باراک اوباما کی حمایت کرنے کے فیصلے کو ڈیموکرکٹس نامزدگی کی دوڑ میں اہم لمحہ قرار دیا گیا تھا۔ کسی کو شاید نہیں پتہ کہ ٹیڈ کے اس فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں لیکن انتخابی مہم اور انتخابات کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے میں ٹیڈ اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ لیکن کیونکہ انہوں نے اپنی حمایت ہلیری کو نہ دے کر باراک اوباما کی دی تو وہ دونوں امیدواروں کے درمیان ذاتی بیان بازی اور تلخیوں کے بعد ان دونوں کمیپس کو ایک ساتھ ملا پانے کا کام نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن انتخابی مہم میں ٹیڈ ایک اہم کردار ادا کرسکتے تھے اور لوگوں کو یہ یاد دلاتے کے ڈیموکریٹ سوچ کیا ہے اور اسکی اقدار کیا ہیں اور پارٹی کے لیے شخصیات سے زيادہ پارٹی کی سوچ اہم ہے۔ ٹیڈ ایک ایسے سیاست داں ہیں جنہوں نے جان کینیڈی کے لیے 1960 میں انتخابی مہم میں حصہ لیا ہے ۔ مہم کے دوران وہ اسٹیج پر پہنچتے ہی گانے گانے لگتے تھے اور عوام کو دیکھتے ہی ان میں غضب کی توانائی آجاتی تھی۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ایسے شخص کی کمی ضرور کھلے کی اور انکا متبادل پانا بھی مشکل ہوگا۔ ٹیکساس کے پرائمری انتخابات سے پہلے میں لیراڈو شہر میں تھا جہاں میں نے مقامی ڈیموکریٹس سے پوچھا کہ کیا انہیں اس بات کا افسوس ہے باراک اوباما ان سے ملنے نہیں آئے ہیں تو انکا جواب تھا ’نہیں‘۔ وہ بہت خوش تھے کی ٹیڈ کینیڈی آئے، انہوں نے انہیں محظوظ کیا اور انکا حوصلہ بھی بڑھایا اور پارٹی کے لیے فنڈز بھی اکٹھے کیے۔ |
اسی بارے میں شمالی کیرولائنا میں اوبامہ کی جیت07 May, 2008 | آس پاس ہیلری، اوبامہ: دونوں پھر آمنے سامنے06 May, 2008 | آس پاس ہیلری کی آس، اوہائیو اور ٹیکساس02 March, 2008 | آس پاس تین اور ریاستوں میں آج پولنگ12 February, 2008 | آس پاس جنوبی کیرولائنا میں اوبامہ فاتح27 January, 2008 | آس پاس بارک اوبامہ غلطی پر ہیں: جان ہاورڈ12 February, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||