صدر کینیڈی کا ’قاتل‘ قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جس شخص نے امریکی صدر جون ایف کینیڈی کو گولی ماری تھی آج اسے ڈیلس کے پولیس ہیڈکوارٹر میں گولی مار دی گئی۔ چوبیس سالہ سابق میرین فوجی لی ہاروی اوزولڈ (Lee Harvey Oswald) کو پولیس اہلکاروں، رپورٹروں، کیمرہ مینوں اور عام لوگوں کے ایک بڑے ہجوم میں پولیس کے ہیڈ کوارٹر سے کاؤنٹی جیل منتقل کرنے کے لئے لیجایا جا رہا تھا۔ اس واقعہ کو براہ راست ٹیلی وژن پر دکھایا جارہا تھا کہ امریکہ بھر میں ناظرین کی آنکھیں اس وقت پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب ہجوم میں سے ایک شخص آگے بڑھا، اپنی پستول نکالی اور لی ہاروی اوزولڈ کو قریب سے گولی مار دی۔ بعد میں جب شناخت ہوئی تو بتایا گیا کہ گولی مارنے والے شخص کا نام جیک روبی ہے اور وہ ڈیلس میں ایک نائٹ کلب کے مالک ہیں۔ گولی لگنے پر اوزولڈ نے فوراً اپنے ہاتھ پیٹ پر رکھے اور فرش پرگرگئے۔ اس موقع پر پولیس اہلکاروں، رپورٹروں اور گولی چلانے والے شخص کے درمیان دھینگا مشتی بھی دیکھنے میں آئی۔ فوراً ہی ایک ایمبولنس میں ڈال کر اوزولڈ کو پارک لینڈ ہسپتال لیجایا گیا جہاں چند منٹوں میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ صرف دو دن قبل گولی لگنے کے بعد صدر کینیڈی کو زخمی حالت میں اسی ہسپتال لایا گیا تھا۔ اوزولڈ کو صدر کینیڈی کو گولی لگنے کے محض ایک گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اوزولڈ کی گرفتاری کی ابتدائی وجہ ایک پولیس اہلکار کا قتل تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے صدر کینیڈی کو گولی مارے جانے کے بعد اوزولڈ کو پہچان لیا تھا اور اسے اوزولڈ پر شک تھا کہ اس نے صدر کو مارا ہے۔ تاہم گرفتاری کے تھوڑی ہی دیر بعد اوزولڈ پر پولیس اہلکار کے علاوہ صدر کینیڈی کے قتل کا الزام بھی لگا دیا گیا تھا۔ اوزولڈ نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے رپورٹروں سے کہا ’مجھے محض استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ اوزولڈ کو گولی مارے جانے کے بعد جب پولیس سے پوچھا گیا کہ ان کا قاتل جیک روبی پولیس ہیڈ کورٹر میں کیسے پہنچا تھا تو پولیس کے پاس اس کی کوئی وضاحت نہیں تھی۔ یاد رہے کہ گرفتاری کے بعد جب اوزولڈ کے نام کئی دھمکی آمیز ٹیلیفون کالیں آئیں تو پولیس ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر لگا پہرہ انتہائی سخت کر دیا گیا تھا۔ جیک روبی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دس سال قبل شکاگو سے ڈیلس منتقل ہوئے تھے۔ وہ نیم برہنہ ڈانس کے لیے مشہور ایک نائٹ کلب کے مالک ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کے جرائم کی دنیا کے لوگوں سے بھی تعلقات ہیں۔ پولیس کے مطابق جیک روبی نے اوزولڈ کو گولی مارنے کے بارے میں کہا ’میں کوئی ہیرو نہیں بننا چاہتا تھا، میں نے ایسا صرف صدر کینیڈی کی بیوہ جیکولن کینیڈی کے لئے کیا ہے۔‘ پولیس نے مزید بتایا کہ جیک روبی کا کہنا ہے کہ وہ صدر کی بیوہ کو ان کے شوہر کے قاتل کے خلاف ایک طویل مقدمے کے عذاب سے بچانا چاہتے تھے۔ جیک روبی پر اوزولڈ کے قتل کا باضابطہ مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے اور انہیں ناقابل ضمانت ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں روسی صحافی کے قاتل کی تلاش08 October, 2006 | آس پاس امریکی سفیر کے قاتلوں کو پھانسی11 March, 2006 | آس پاس مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا: علاوی04 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||