BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 January, 2008, 02:32 GMT 07:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی کیرولائنا میں اوبامہ فاتح
بارک اوبامہ
جنوبی کیرولائنا میں فتح سے اوبامہ کی انتخابی مہم کو بڑاا حوصلہ ملے گا
ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں سینیٹر بارک اوبامہ نے امریکی ریاست ساؤتھ (جنوبی) کیرولائنا کے پرائمری انتخابات میں سینیٹر ہلری کلنٹن کو ایک بڑے فرق سے شکست دی ہے۔

ووٹنگ میں سینیٹر اوبامہ نے55 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ہلری کلنٹن کو ستائیس فیصد ووٹ ملے۔ جان ایڈورڈز اٹھارہ فیصد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

فتح کے بعد باراک اوبامہ نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ’ آج رات وہ لوگ جنہیں یہ خیال تھا کہ آئیوا میں شروع ہونے والا عمل سراب تھا،ایک مختلف کہانی بیان کریں گے‘۔

ابتدائی مرحلے کے انتخابی جائزوں سے بھی یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اوبامہ نے اپنی بڑی حریف سینیٹر ہلری کلنٹن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس فتح سے باراک اوبامہ کو اگلے مرحلے کے انتـخابات میں تقویت ملے گی۔

اگلے منگل یعنی ’سُوپر ٹیوز ڈے‘ سے پہلے ڈیموکریٹ پارٹی کے حتمی صدارتی امیدوار کے انتخاب کا یہ آخری مرحلہ ہے۔ آئندہ منگل کو بیس سے زیادہ ریاستوں میں انتخاب کے بعد حتمی ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار سامنے آ جائے گا۔

اوبامہ
جنوبی کیرولینا میں سیاہ فام امریکیوں نے اوبامہ ککے حق میں ووٹ دیا

دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بھی اپنی مہم زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں ایک دلچسپ مقابلہ منگل کو ہی ریاست فلوریڈا میں ہوگا۔

اوبامہ نے اپنی فتح کا دعویٰ اپنی انتخابی مہم کے لیے بنائی جانے والی ویب سائٹ پر کیا۔ کلنٹن کیمپ نے ایک جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ ہلری کلنٹن نے اوبامہ کو مبارکباد کے لیے فون کیا ہے۔

سابق صدر کلنٹن نے، جو اپنی اہلیہ کی انتخابی مہم پر نکلے ہوئے ہیں، میسوری میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوبامہ ایمانداری سے جیت گئے ہیں۔ انہوں نے بھی اوبامہ کو مبارکباد دی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آغاز پر سی این این پر ایک مباحثے کے دوران باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن نے ماضی کے حوالے سے ایک دوسرے پر تیز و تند حملے کیے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کے بقول اس تکرار میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اوباما نے ہیلری پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ منتخب ہونے کے لیے کچھ بھی کہہ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اوبامہ نے بِل کلنٹن پر اپنے بارے میں غلط معلومات دینے کا الزام بھی لگایا تھا۔

ہلری کلنٹن
ہلری کلنٹن اب دوسری ریاستوں پر بھی توجہ دے رہی ہیں

اوباما کا کہنا تھا کہ جن دنوں وہ شکاگو کی سڑکوں پر بے روزگار لوگوں کی مدد کر رہے تھے ہیلری وکیل کی حیثیت سے وال مارٹ (جیسے بڑے کاروباری ادارے) کے بورڈ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔

ہیلری نے جواب میں کہا کہ وہ ریپبلکن جماعت کی غلط پالیسیوں پر کام کر رہی تھیں جب وہ (اوبامہ) شکاگو کے پسماندہ علاقوں کے مالک کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ہیلری کا اشارہ ٹونی ریڈکو کی طرف تھا جو کہ غبن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہیلری نے اوبامہ پر مزید سخت فقرہ کسا اور کہا کہ وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ بحث نہیں کر سکتیں جو اس بات کی ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ اس نے کب کس کو ووٹ دیا تھا۔

اسی مباحثے میں ڈیموکریٹ جماعت کے تیسرے صدارتی امیدوار جان ایڈورڈ نے ہیلری اور اوباما پر جھگڑنے کا الزام لگایا۔

اسی بارے میں
ہلری اور اوباما کی تکرار
22 January, 2008 | آس پاس
مشی گن: مٹ رومنی جیت گئے
16 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد