BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشی گن: مٹ رومنی جیت گئے
مٹ رومنی
مسٹر رومنی نے اپنی جیت کو انتخابات میں اپنی واپسی قرار دیا ہے۔
امریکہ میں آئندہ صدراتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے لیے مشی گن میں ہونے والی ووٹنگ میں رپبلکن پارٹی کے رہنما مٹ رومنی نے فتح حاصل کرلی ہے۔

مشی گن میں مٹ رومنی کو 39 فیصد ووٹ ملے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے جان مکین کو 30 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ مٹ رومنی کی اس جیت کے بعد صدراتی امیدوار کے انتخابات کا عمل وسیع ہوگیا ہے۔

مٹ رومنی اس سے پہلے آئیوا اور نیو ہیمپشائر میں ہونے والے دو پرائمری انتخابات میں ہار گئے تھے اور اپنی اس فتح کو انہوں نے ’بگنگ آف کم بیک‘ یعنی انتخابات میں اپنی واپسی کی شروعات بتایا ہے۔

مشی گن انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے رپبلکن رہنما سینٹر جان مکین نے مٹ رومنی کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ رومنی نے ان انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے لیے کڑی محنت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم نے یہ بتا دیا ہے کہ ہم مقابلے سے نہیں گھبراتے‘۔

تین جنوری کو آئیوا اور آٹھ جنوری کو ہیمپشائر کے انتخابات میں بری طرح ہارنے کے بعد مشی گن جیت کے بعد مٹ رومنی کی انتخابی مہم کو نئی زندگی ملی ہے۔

ان انتخابات میں اس سے پہلے مسٹر رومنی صرف پانچ جنوری کو یومنگ کاکسس میں فاتح ٹھہرے تھے تاہم وہاں کے انتخابات کو کسی اور امیدوار نے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

رومنی ایک امیر تاجر ہیں اور ریاست میساچوسٹس کےگورنر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے مشی گن میں جیت کے بعد کہا ’ایک ہفتے پہلے تک انتخابات میں جیت حاصل کرنا ناممکن لگتا تھا لیکن پھر ہم نے امریکیوں کو وہ بتایا جو وہ سننا چاہتے ہیں‘۔

مشیگن میں مٹ رومنی کو 39 فی صد ووٹ ملے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے جان مکین کو 30 فی صد ووٹ حاصل ہوئے

رومنی کی مشی گن میں جیت کی اہم وجہ ان کے مقامی تعلقات بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے والد 1960 میں وہاں کے گورنر رہ چکے ہیں اور انکی اہلیہ کی بھی پیدائش بھی وہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ مشی گن میں انکے تجارتی تعلقات بھی کام آ سکتے ہیں۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ مسٹر رومنی کے لیے جیت والی رات یادگار رات رہی ہوگی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ رپبلکن پارٹی میں صدر کے عہدے کے لیے اہم امیدوار ہونگے۔ رپبلکن پارٹی میں امیدوراوں کی دوڑ میں تمام امیدوار ہیں اور اس کے بارے بحث و مباحثے ہورہے ہیں۔

مسٹر مکین اور مسٹر ہکابی ابھی بھی اپنی اپنی جیت کی کوشش میں ہیں جب کہ اداکار اور سیاستداں فریڈ تھامسن کا سارا دھیان جنوبی کیرولینا کے انتخابات پر ہے اور نیویارک کے سابق میئر روڈی جولیانی کی نظریں 29 جنوری کو ہونے والے فلوریڈا انتخابات پر مرکوز ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی نے ابھی اس ریاست میں اپنے صدراتی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے کسی اور امیدوار نے مشی گن میں انتخابات نہیں لڑا اور سب بیلٹس میں صرف ہلیری کلنٹن کا نام تھا۔

ہلیری کلنٹن کو کافی تعداد میں ووٹ ملے لیکن ایک بڑی تعداد میں ووٹ ان بیلٹس بھی ڈالے گئے جن پر لکھا تھا ’ان کمیٹڈ ‘ یعنی ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹک امیدواروں باراک اوباما اور جان ایڈورڈ کی مہم کے دوران کہا گیا تھا کہ حامی ’ان کمیٹڈ‘ کے لیے ووٹ ڈالیں۔

اوبامہ’اوبامہ غلط ہیں‘
’القاعدہ اوبامہ کی فتح کے لیے دعا گو ہو گی‘
ہیلری کی جیت
آنسوؤں اور قہقہوں کی انتخابی مہم
 ہیلری کلنٹن کیا ہیلری جیتیں گی؟
سابق خاتونِ اول امریکہ کی صدارتی دوڑ میں
اوبامہامریکی کیا کہتے ہیں
کیا امریکہ سیاہ فام صدر کے لیے تیار ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد