BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 05:35 GMT 10:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا امریکہ سیاہ فام صدر کے لیے تیار ہے؟

صدارتی امیدوار
’ہیلری کو اوبامہ کے مقابلے میں کافی تجربہ ہے‘۔
کیا امریکہ افریقی امریکی یا سیاہ فام صدر کو منتخب کرنے کیلیے تیار ہے؟ یہ تھا وہ سوال جو میں امریکیوں سے کرنے نیویارک کی سڑکوں پر نکلا۔ ابتداء میں نے اپنے پڑوس کے بس سٹاپ سے ہی کی جہاں فٹ پاتھ پر دو افریقی امریکی عورتیں ہنستی جا رہی تھیں۔

دونوں شاید کام سے واپس گھر جا رہی تھیں۔ میرے سوال پر نرسوں کی آسمانی رنگ کے یونیفارم میں ملبوس جین لوئیس کہنے لگيں’ہاں امریکہ بالکل تیار ہے تبدیلی کے لیے، تبدیلی جو ملک کی مددگار ثابت ہو۔گورا صدر ہو کہ کالا مسئلہ رنگ کا نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ رنگ امریکہ کی معیشت ٹھیک کرنے، فوجوں اور جنگ میں مددگار نہیں ہوسکتا۔ابھی امریکہ میں بہت مسائل ہیں۔سڑکیں بہت سے بے گھر لوگوں سے بھری ہیں لیکن اوبامہ کے پاس ایسے مسائل حل کرنے کا کچھہ تجربہ ہے۔

میں اس علاقے میں ہوں جہاں کی سب بڑی آبادی لاطینی لوگوں کی ہے۔یہ امریکہ کی خاموش اکثریت ہے۔ نیویارک میں اس بڑی لاطینی آبادی میں ایک دواخانے سے نکلتی ہوئی دو عمر رسیدہ سفید فام خواتین سے میں نے یہی سوال پوچھا تو ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا ’کیا تم اوبامہ کی بات کررہے ہو؟‘

 میں اس شخص ( باراک اوبامہ) کو صدر نہیں منتخب کر سکتا جو دہشتگردی کیخلاف جنگ کو ختم کردینا چاہتا ہے جس کا مطلب ہے اسلامی بنیاد پرستوں کی دہشتگردی کی امریکہ میں واپسی
ٹونی میلینو

پھر اس نے کہا ’میں اسے صدر بنتا دیکھنا پسند کروں گي۔ امریکہ اب وہ پہلے والا امریکہ نہیں۔ اوبامہ ہو کہ کلنٹن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن دور بدل چکا ہے اور ہوا میں کوئي تبدیلی ہے‘۔

بھارت سے تعلق رکھنے والی سنیتا شاہ اگرچہ امریکہ میں رجسٹرڈ ووٹر ہیں لیکن انکا کہنا تھا کہ انہیں کبھی امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ اتفاق ایسا ہوا ہے کہ جب بھی انتخابات ہوئے ہیں وہ امریکہ سے باہر رہی ہیں۔ سنیتا شاہ کے مطابق’امریکہ میں رنگ کا کوئی چکر نہیں۔ کوئي بھی صدر بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ امریکہ کی بھلائي کا کام کرتا رہے‘۔

جب میں کوئینز کے پل پر سے گزرنے والی مشہور سات نمبر ٹرین پکڑ کر نیویارک کے مرکزی علاقے مین ہٹن کے ففتھ ایونیو جا اترا اور سینٹرل نیویارک پبلک لائبریری کے دروازے پر مجھے طالب علم اینتھونی میگوڈولا جی ملے۔ کیا امریکہ سیاہ فام صدر منتخب کرنے کو تیار ہے؟ میں نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا ’نہیں۔میرا خیال ہے کہ امریکہ کے لوگ تیار نہیں۔ وہ ہیلری کلنٹن کو صدر منتخب کرنے کیلیےتیار ہیں لیکن اوبامہ کو نہیں۔ کم عمر اور سیاہ فام ہونے کے مرکب اوبامہ کے مقابلے میں لوگ ہیلری کو ترجیح دینگے کہ وہ ایک منجھی ہوئی اور تجربہ کار ہے‘۔

ڈارم بلیک ایک نوجوان افریقی امریکی نزاد فیشن ڈیزائنر ہیں۔ میرے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا’امریکہ سیاہ فام صدر چننے کیلیے تیار ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ ایک عورت صدر کیلیے ابھی تیار ہے۔ اگر امریکی سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو حقوق سے محروم کرنے سے باز آ گئے ہیں تو ایسا بھی نہیں۔ عورت کے بارے میں اب بھی وہ ایسے ہی(قدامت پسند) ہیں‘۔

’ کیا واقعی امریکہ سیاہ فام صدر کے انتخاب کو تیار نہیں ہے؟‘، میں نے سر پر لال ہری ٹوپی پہنے امریکی آرکیٹیکٹ ڈان کلیم سے پوچھا۔ ’یقیناً تیار ہے‘ اس نے کہا۔’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ اب اپنے پرانے تعصبات سے بہت آزاد ہوچکا ہے، لوگوں کو بھی امریکہ کے بارے میں اپنے پرانے خوف کو پرے پھینک دینا چاہیے۔ یہ خوف بھاری بھاری تنخواہوں والے عملداروں نے پیدا کیا ہے جو فقط ’اسٹیٹس کو‘ یا حالات کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں‘۔ نوجوانوں کی برف اسکیٹنگ دیکھنتے ہوۓ ڈان کلیم نے کہا-

سر شام ففتھ ایوینیو پر ہجوم در ہجو م لوگوں کے میں پوری دنیا گزرتی جاتی تھی۔ سرخ بتی کے باوجود پیدل سڑک پر جاتے ہوئے ہجوم میں سے اس ایک شخص نے میرے ساتھ چلتے ہوئے بات موسم سے شروع کی جو جا کر سیاہ فام صدر کے چنے جانے کے امکان پر پہنچي۔

وہ میرے سوال کا جواب دینے کیلیے چلتے ہجوم کے بیچ رک گيا۔ اس شخص کا نام ٹونی میلینو تھا جو نیویارک میں فنانشل تجزیہ نگار ہے۔ ٹونی میلینو نے کہا ’کیا امریکہ پاگل ہوا ہے کہ اوبامہ کو صدر منتخب کرے گا- نہیں، امریکہ ایک ایسے شخص کو صدر منتخب کرنے کیلیے تیار نہیں جو عراق میں ہماری فوجوں کیساتھ نہیں کھڑا ہوا۔ وہ اس جنگ کا مخالف ہے جس کے ختم ہونے پر امریکہ کیلیے بڑے مسائل پیدا ہوں گے‘۔

 امریکہ سیاہ فام صدر چننے کیلیے تیار ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ ایک عورت صدر کیلیے ابھی تیار ہے۔ اگر امریکی سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو حقوق سے محروم کرنے سے باز آ گئے ہیں تو ایسا بھی نہیں۔ عورت کے بارے میں اب بھی وہ ایسے ہی(قدامت پسند) ہیں۔
ڈارم بلیک

انہوں نے کہا کہ’گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد صدر بش کو امریکی عوام کی زبردست حمایت حاصل ہوئی تھی- یہ درست ہے کہ پولز میں انکی ریٹنگ گری ہے لیکن میں صدر بش کو آج سے دس سال بعد دیکھتا ہوں جب ان کا ورثہ صدر رونالڈ ریگن کی ورثے کی طرح دیکھا جائے گا۔ میں اس شخص ( باراک اوبامہ) کو صدر نہیں منتخب کر سکتا جو دہشتگردی کیخلاف جنگ کو ختم کردینا چاہتا ہے جس کا مطلب ہے اسلامی بنیاد پرستوں کی دہشتگردی کی امریکہ میں واپسی‘۔

میں نے مین ہٹن کے اولڈ نیوی پر کھڑی دو عورتوں سے سوال کیا- ان میں جو طالبہ ایشلی ڈللر تھی اس نے کہا’میں خاتون کو صدر دیکھنا پسند کروں گی اور وہ ہیلری ہے جسے اوبامہ کے مقابلے میں کافی تجربہ ہے‘۔

چونتسیویں ویسٹ اسٹریٹ پر قائم کتابوں کی دکان کے باہر بینچ پر بیٹھے ہوئے اس شخص نے میرے اس سوال کے جواب میں کہا ’تم اسے پسند کرو یا نہ کرو لیکن یہاں دو امریکہ ہیں۔ایک گورا امریکہ اور دوسرا کالا امریکہ۔ امریکہ نیویارک نہیں، امریکہ، شکاگو نہیں، امریکہ آئیووا اور نارتھ ہمیپشائر بھی نہیں اصل امریکہ وسطی یا مڈل امریکہ ہے۔ مڈل امریکہ ہی اصل میں جسے ووٹ دے گا وہی صدر بنے گا۔ رہا تمہارا یہ سوال اس کا جواب یہ ہے کہ ’شاید نہیں کہ کبھی کوئي سیاہ فام امریکہ کا صدر منتخب ہوگا‘۔ میں نے اس شخص سے اس کا نام پوچھنا چاہا لیکن اس نے کہا ’مجھے بس گمنام ہی لکھو‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد