ہیمشائر کی جیت پر ہیلری کی خوشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدراتی امیدوار کے لیے پرائمری انتخابات کے دوران نیو ہیمشائر جیت کے ساتھ دو امیدوراوں کی واپسی ہوئی ہے۔ آئیوا میں ہار کے بعد ڈیموکریٹ کی صدراتی امیدوار ہلیری کلنٹن اور رپبلکن پارٹی کے جان مکین کی انتخابی میدان میں اہم امیدواروں کے طور پر واپسی ہوئی ہے۔ جان مکین کی اس جیت کے ساتھ واپسی ضرور ہوئی ہے لیکن انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 71 سال کی عمر میں وہ یقین کے ساتھ یہ نہیں کہ سکتے ہیں کہ وہ واقعی انتخاب میں شکست کے بعد واپس جیت کر آسکتے ہيں۔ ابتدائی تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ ہیلری کلنٹن کی باراک اوباما پر جیت کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ خواتین نے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ دیئے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہیمشائر میں ان کے خاوند نے 1992 میں انتخاب میں جیت کے ساتھ واپسی کی تھی اور بڑی تعداد میں ان کے حمایتی وہاں موجود ہیں۔ ووٹنگ کے دن ہیلری کلنٹن اپنی بیٹی چیلسی کے ساتھ جب کونکرڈ میں ایک سکول میں ووٹنگ بوتھ پر رکیں تو ان کے چاہنے والوں نے ان کا ایک ’راک اسٹار‘ کی طرح خیر مقدم کیا۔
سکول میں انہیں دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں قطار میں کھڑے تھے اور وہ جو ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے اس پر لکھا تھا ’ہیلری فار پرسیڈینٹ ‘ یعنی ہیلری ہی صدر کی امیدوار ہیں۔ ان کے حمایتیوں میں سے ایک خاتون رٹائرڈ تھیراپسٹ نینسی کانینین نے بتایا میں ہیلری سے ملنے کے لیے بے چین ہوں۔ ’میں انکی جیت کے لیے چار ہفتوں سے مہم میں ہوں اور وہ جب نیو یارک کی سینیٹر بنی تھی تب میں انکی انتخابی مہم میں زور و شور سے حصہ لیا تھا۔ ‘ 18 سالہ ایک کارکن گریڈی کیفی کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ہیلری ہی جیتیں گی ’ اگر مجھے ذرا بھی لگتا کہ وہ ہار جائیں گی تو میں ان کے لیے یہاں کھڑی نہیں ہوتی۔‘ سینیٹر مکین کی ہیمشائر میں جیت اتنی ہی شاندار تھی جتنی ہیلری کلنٹن کی اور مکین نے جیت کے لیے ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جیت کو یقینی بنایا۔ ویتنام میں سابق جنگی قیدی مکین کئی مہینے تک رپبلکن پارٹی کے اولین امیدوار تھے لیکن گزشتہ برس ان کی انتخابی مہم فنڈ کی کمی کے سبب ڈگمگا گئی تھی۔ مسٹر مکین نے کہا ’ہم نے اس ملک کو یہ دکھا دیا ہے کہ اصل کم بیک یا انتخاب میں واپسی کیا ہوتی ہے‘۔ ان انتخابات میں ہارنے والے سینیٹر باراک اوباما کے مداحوں کو پورا یقین تھا کہ وہ ہی جیتیں گی اور اس کے بعد وہ جیت کا جشن منائيں گی۔ ان کی امید کا جواز تھا کیونکہ آئیوا میں اوباما نے ہیلری کلنٹن اور جان ایڈورڈز کو ہرایا تھا اور مختلف جائزوں میں نے بھی کہا گیا تھا کہ ہیمشائر میں بھی اوباما جیت رہیں ہیں۔ ہار کے بعد مسٹر اوباما نے کہا ’اس ملک میں جو آوازیں چیخ چیخ کر تبدیلی کا مطالبہ کررہی ہیں ان کی راہ میں کوئی نہیں آسکتا ہے۔‘ اگلے ہفتے مشیگن میں پرائمری انتخابات ہونے ہیں جہاں صرف رپبلکن امیدوار میدان میں ہوں گے۔ مشیگن کے بعد نویڈا اور کیرولائنہ میں انتخابات ہونے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہیلری کے دفتر میں دہشتگردی ڈرامہ01 December, 2007 | آس پاس ’میں جیتنے کے لیے آئی ہوں‘20 January, 2007 | آس پاس مزید فوج عراق بھیجنے کی مخالفت18 January, 2007 | آس پاس کانگرس میں برتری کس کی، فیصلہ آج07 November, 2006 | آس پاس امریکہ پولنگ کا اختتام، نتائج کا انتظار07 November, 2006 | آس پاس کانگریس میں برتری، انتخابی معرکہ قریب تر07 November, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||