BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیمشائر کی جیت پر ہیلری کی خوشی

انتخابات سے پہلے رجہان میں ہلیری کلنٹن کی ہار بتائی گئی تھی۔
امریکی صدراتی امیدوار کے لیے پرائمری انتخابات کے دوران نیو ہیمشائر جیت کے ساتھ دو امیدوراوں کی واپسی ہوئی ہے۔

آئیوا میں ہار کے بعد ڈیموکریٹ کی صدراتی امیدوار ہلیری کلنٹن اور رپبلکن پارٹی کے جان مکین کی انتخابی میدان میں اہم امیدواروں کے طور پر واپسی ہوئی ہے۔

جان مکین کی اس جیت کے ساتھ واپسی ضرور ہوئی ہے لیکن انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 71 سال کی عمر میں وہ یقین کے ساتھ یہ نہیں کہ سکتے ہیں کہ وہ واقعی انتخاب میں شکست کے بعد واپس جیت کر آسکتے ہيں۔

ابتدائی تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ ہیلری کلنٹن کی باراک اوباما پر جیت کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ خواتین نے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ دیئے ہیں۔

دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہیمشائر میں ان کے خاوند نے 1992 میں انتخاب میں جیت کے ساتھ واپسی کی تھی اور بڑی تعداد میں ان کے حمایتی وہاں موجود ہیں۔

ووٹنگ کے دن ہیلری کلنٹن اپنی بیٹی چیلسی کے ساتھ جب کونکرڈ میں ایک سکول میں ووٹنگ بوتھ پر رکیں تو ان کے چاہنے والوں نے ان کا ایک ’راک اسٹار‘ کی طرح خیر مقدم کیا۔

جان مکین کی جیت
 جان مکین کی اس جیت کے ساتھ واپسی ضرور ہوئی ہے لیکن انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 71 سال کی عمر میں وہ یقین کے ساتھ یہ نہیں کہ سکتے ہیں کہ وہ واقعی انتخاب میں شکست کے بعد واپس جیت کر آسکتے ہيں۔
ان کے مداحوں میں بڑی تعداد میں سکول کے بچے شامل تھے جو سابق خاتون اول کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھے۔

سکول میں انہیں دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں قطار میں کھڑے تھے اور وہ جو ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے اس پر لکھا تھا ’ہیلری فار پرسیڈینٹ ‘ یعنی ہیلری ہی صدر کی امیدوار ہیں۔

ان کے حمایتیوں میں سے ایک خاتون رٹائرڈ تھیراپسٹ نینسی کانینین نے بتایا میں ہیلری سے ملنے کے لیے بے چین ہوں۔ ’میں انکی جیت کے لیے چار ہفتوں سے مہم میں ہوں اور وہ جب نیو یارک کی سینیٹر بنی تھی تب میں انکی انتخابی مہم میں زور و شور سے حصہ لیا تھا۔ ‘

18 سالہ ایک کارکن گریڈی کیفی کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ہیلری ہی جیتیں گی ’ اگر مجھے ذرا بھی لگتا کہ وہ ہار جائیں گی تو میں ان کے لیے یہاں کھڑی نہیں ہوتی۔‘

سینیٹر مکین کی ہیمشائر میں جیت اتنی ہی شاندار تھی جتنی ہیلری کلنٹن کی اور مکین نے جیت کے لیے ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جیت کو یقینی بنایا۔

ویتنام میں سابق جنگی قیدی مکین کئی مہینے تک رپبلکن پارٹی کے اولین امیدوار تھے لیکن گزشتہ برس ان کی انتخابی مہم فنڈ کی کمی کے سبب ڈگمگا گئی تھی۔

مسٹر مکین نے کہا ’ہم نے اس ملک کو یہ دکھا دیا ہے کہ اصل کم بیک یا انتخاب میں واپسی کیا ہوتی ہے‘۔

ان انتخابات میں ہارنے والے سینیٹر باراک اوباما کے مداحوں کو پورا یقین تھا کہ وہ ہی جیتیں گی اور اس کے بعد وہ جیت کا جشن منائيں گی۔ ان کی امید کا جواز تھا کیونکہ آئیوا میں اوباما نے ہیلری کلنٹن اور جان ایڈورڈز کو ہرایا تھا اور مختلف جائزوں میں نے بھی کہا گیا تھا کہ ہیمشائر میں بھی اوباما جیت رہیں ہیں۔

ہار کے بعد مسٹر اوباما نے کہا ’اس ملک میں جو آوازیں چیخ چیخ کر تبدیلی کا مطالبہ کررہی ہیں ان کی راہ میں کوئی نہیں آسکتا ہے۔‘

اگلے ہفتے مشیگن میں پرائمری انتخابات ہونے ہیں جہاں صرف رپبلکن امیدوار میدان میں ہوں گے۔ مشیگن کے بعد نویڈا اور کیرولائنہ میں انتخابات ہونے ہیں۔

ہلیری کلنٹن، فائل فوٹوصدر کےعہدے کے امیدوار
نیو ہیمپشائر پرائمری انتخاب کی مہم کی تیاریاں
غیرقانونی تارکین وطن
امریکی صدر کا انتخاب، ریپبلکنز میں بحت
 ہیلری کلنٹن کیا ہیلری جیتیں گی؟
سابق خاتونِ اول امریکہ کی صدارتی دوڑ میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد