ہلری اور اوباما کی تکرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ڈیموکریٹ جماعت کے دو ممکنہ صدارتی امیدواروں ہیلری کلنٹن اور بارارک اوباما نے جنوبی کیرولائنا کے پرائمری انتخابات سے قبل بحث کے دوران ایک دوسرے پر الزامات لگائے ہیں۔ اوباما نے ہیلری پر الزام عائد کیا کہ وہ منتخب ہونے کے لیے کچھ بھی کہہ سکتی ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے بِل کلنٹن پر اپنے بارے میں غلط معلومات دینے کا الزام لگایا تھا۔ حالیہ بحث سے انتخابات میں تیزی نظر آئی ہے کیونکہ دو ہفتے بعد بائیس ریاستیں صدارتی امیدوار کے حتمی فیصلے میں ووٹ کریں گی۔ سوموار کی بحث میں سخت الفاظ کا استعمال دیکھنے میں آیا۔ اوباما نے کہا کہ وہ شکاگو کی سڑکوں پر بے روزگار لوگوں کی مدد کر رہے تھے جب وہ (ہیلری) وکیل کی حیثیت سے وال مارٹ کے بورڈ میں بیٹھی تھیں۔ ہیلری نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریپبلکن جماعت کی غلط پالیسیوں پر کام کر رہی تھیں جب وہ (اوباما) شکاگو کے پسماندہ علاقوں کے مالک کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ہیلری کا اشارہ ٹونی ریڈکو کی طرف تھا جو کہ غبن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹ جماعت کے تیسرے صدارتی امیدوار جان ایڈورڈ نے ہیلری اور اوباما پر جھگڑنے کا الزام لگایا ہے۔ ان تینوں امیدواروں نے معیشت اور نسلی امتیاز پر بحث کی اور صدر بُش کا معاشی تنزل کو روکنے کے منصوبے پر بھی نکتہ چینی کی۔ اوباما کے لیے جنوبی کیرولائنا کے انتخابات میں فتح حاصل کرنا نہایت اہم ہے کیونکہ ہیلری اس سے قبل تین پرائمری انتخابات جیت چکی ہیں جن میں نیو ہیمپشائر، مشی گن اور نوادا شامل ہیں۔ سوموار کو مارٹن لوتھر کنگ کی برسی پر قومی تعطیل تھی اور ساؤتھ کیرولینا کی آدھی آبادی سیاہ فام ہے اس لیے نسلی امتیاز پر بھی بحث ہوئی۔ ہیلری اور اوباما کی بحث میں ایڈورڈز نے بھی حصہ لینے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر دو نہیں تین امیدوار ہیں۔ ’ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ بحث ہماری ذاتیات پر نہیں بلکہ ہم اس ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔‘ | اسی بارے میں ہیلری کلِنٹن، جان مکین کی فتح09 January, 2008 | آس پاس ہیلری، مکین اہم ریاستوں میں فاتح20 January, 2008 | آس پاس براؤن امریکہ پر اثر انداز ہونگے؟28 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||