براؤن امریکہ پر اثر انداز ہونگے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ گورڈن براؤن کی تصویر لیکر واشنگٹن میں امریکی حکومت کے دفاتر کے علاقے میں چلے جائیے اور پوچھیئے کہ یہ شخص کون ہے۔ شاندار سوٹ پہنے سرکاری عہدیداروں کے خالی چہروں سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ شخص ان کے لیے اجنبی ہے۔ مجھے کچھ نے بتایا کہ یہ گورڈن براؤن ہیں تاہم اکثریت کو کوئی علم نہیں تھا۔ ایک نے کہا کہ یہ ٹونی بلیئر ہیں جبکہ ایک دوسرے اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ پال ولفووٹز ہیں لیکن انہوں نے بال بڑھائے ہوئے ہیں۔ یہ مشاہدات اس بات کے عکاس ہیں کہ گورڈن براؤن امریکہ میں قدرے ’اجنبی‘ ہیں اور وائٹ ہاؤس کے لیے تو بالکل ہی اجنبی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گورڈن براؤن آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے واشنگٹن کئی مرتبہ آ چکے ہیں۔ لیکن صدر جارج بش کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات چند ہی ماہ قبل ہوئی تھی اور اس ملاقات کی کوئی تصاویر بھی جاری نہیں کی گئی تھیں۔
کچھ عرصے بعد جب گورڈن براؤن سے اس ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا ردعمل ایسا ہی تھا جیسے ان کا کوئی خفیہ معاشقہ پکڑا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ’اتفاقیہ ملاقات‘ تھی۔ گورڈن براؤن کے بقول وہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے کے صدر بش نے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اندر جھانکا ۔ جانے دینے براؤن صاحب، اس قسم کی باتیں اتفاقیہ نہیں ہوتیں! کچھ لوگ برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کے معترف بھی ہوں گے کہ انہوں نے خود کو ذرا الگ ہی رکھا۔ دیکھا جائے تو صدر بش کے ساتھ قربت کا ٹونی بلیئر کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ انہیں برطانیہ میں صدر بش کے ’پالتو‘ ہونے کالقب دیا گیا۔ لیکن شاید ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس مارک کِرک کی بات درست ہو کہ اپنے ’نہایت چھوٹے یا خوردبینی‘ پروفائل کی وجہ سے ان کے منظر عام پر ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑنے جا رہا تھا۔ شاید اسی وجہ سے ریپبلکن پارٹی کے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ ٹونی بلیئر کے جانے کے بعد پیدا ہونے والا خلاء فرانس کے نو منتخب صدر نکولس سرکوزی ہی پُر کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ریپبلکن انتظامیہ کی نسبت ڈیموکریٹ ارکان کے ساتھ گورڈن براؤن کے رابطے کہیں بہتر ہیں۔ ریپبلکنز کے ساتھ تعلقات ان میں سے ایک فیڈرل ریزرو بینک کے سابق سربراہ ایلن گرینسپین بھی شامل ہیں۔ ایلن گرینسپین ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن دونوں کو اپنا قریبی دوست کہتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ دونوں افراد ’پیشہ ورانہ‘ قابلیت کے حامل ہیں اور ان کا ’اصرار‘ ہے کہ ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن میں تعاون رہے گا۔
ایسے دوسرے شخص برطانیہ کے مداح اور مشہور ماہر معاشیات ارون سٹیلزر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر براؤن ’ذہین‘ ہیں اور ان کے بقول گورڈن براؤن جانتے ہیں کہ اگر ان مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں جو ان کے دل کے قریب ہیں (جیسے افریقہ میں غربت کا خاتمہ) تو انہیں امریکہ کی مدد درکار ہو گی۔ تاہم اس کے باوجود مسٹر سٹیلزر کو بھی قوی امید ہے کہ ٹونی بلیئر کے جانے کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں ’قدرے خاموشی‘ ہو گی۔ جہاں تک صدر بُش کا سوال ہے تو انہوں نے نئے برطانوی وزیر اعظم کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر براؤن ایک ’اچھے آدمی‘ ہیں۔ اور اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صدر بش اور مسٹر براؤن عراق کے مسئلے پر متفق نہیں لیکن دونوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف بھی نہیں ہے۔ ٹونی بلیئر پہلے ہی اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ برطانیہ عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد سات ہزار سے کم کر کے پانچ ہزار کر دے گا۔ اور عراق کے اپنے حالیہ دورے کے دوران گورڈن براؤن مستقبل قریب میں فوجیں واپس بلانے کے خیال کی تردید کر چکے ہیں۔ پالیسی اور سٹائل لیکن ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن میں جو فرق سب سے زیادہ واضح نظر آئے گا وہ اصل پالیسیوں میں تبدیلی کی بجائے دونوں کے انداز میں فرق ہے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ سنجیدہ مزاج گورڈن براؤن صدر بش کے ساتھ پریس کانفرنس کر تے ہوئے رپورٹوں کو آنکھ مار دیں یا کسی رپورٹر کی ٹوتھ پیسٹ کے بارے میں کوئی جملہ کس دیں۔ حتمی تجزیے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان ’خصوصی تعلقات‘ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ رہنماؤں کی تبدیلی کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ اور یہاں یہ ذکر کرنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ جب ٹونی بلیئر وزیر اعظم بنے تو کئی مبصرین پوچھ رہے تھے کہ کیا وہ اور جارج بش اکٹھے چل سکیں گے کیونکہ اس سے قبل صدر کلنٹن اور ٹونی بلیئر ’جگری دوست‘ دکھائی دیتے تھے۔ اور یہ مبصرین کتنے غلط ثابت ہوئے ہیں! |
اسی بارے میں ’برطانیہ عالمی ذمہ داریاں نبھائےگا‘ 24 June, 2007 | آس پاس گورڈن براؤن نئے وزیر اعظم27 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||