ٹونی بلیئر کی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹونی بلیئر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جہاں بھی رہے ہمیشہ دیگر لوگوں سے ممتاز رہے۔ جب وہ سکول میں تھے تو انہوں نے اپنے استادوں کو تگنی کا ناچ نچایا اور ہمیشہ ان کی اتھارٹی کو چیلنج کیا۔ یونیورسٹی میں انہوں نے راک سٹار بننے سے متعلق اپنی خوابوں کو عملی شکل دی اور ایک راک بینڈ کے لیڈ سنگر بنے۔ اس مرحلے پر بہت کم لوگوں ان کے لیے سیاست کے میدان نام پیدا کرنے کی پیش گوئی تھی باوجود اس کے کہ ان کی دلکش شخصیت اور لوگوں کو رام کرنے کی خوبی ان کی ابتدائی عمر میں بھی سب پر عیاں تھی۔ سیاست سے میدان میں ٹونی بلیئر کے عروج کی داستان درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے بیرسٹر کی کہانی ہے جو ٹوری پارٹی کے ایک سرگرم کارکن کے گھر پیدا ہوئے لیکن لیبر پارٹی کی تاریخ کے کامیاب ترین رہنما ثابت ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف لیبر پارٹی کو ایک نئی زندگی دی بلکہ ان کی متعارف کرائی گئی پالیسیوں نے برطانیہ کا سیاسی منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔ اور یہ کیسے ہوا کہ ایک عام سا لیڈر جسے ہمیشہ اپنے ذاتی امیج اور مقبولیت کی پڑی رہتی تھی، دنیا کی سب سے طاقتور اور متنازع شخصیت بن گئی۔
انہوں نے اپنے ابتدائی چند سال آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں گزارے جہاں ان کے والد ایک یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا خاندان پچاس کی دہائی کے آخر برطانیہ واپس آ گیا اور ٹونی بلیئر نے اپنے بچپن کے باقی سال ڈرہم میں گزارہ جہاں وہ کورِسٹر سکول میں زیر تعلیم تھے۔ بورڈنگ سکول میں بلیئر کے اساتذہ انہیں ایک شرارتی اور باغی لڑکے کے طور پر جانتے تھے۔ اپنے سکول کے دنوں میں بلیئر ایک باصلاحیت اداکار کے طور پر جانے جاتے تھے جو ہمیشہ سب کی توجہ کا مرکز بننا پسند کرتے تھے۔ بلیئر کے ہاؤس ماسٹر ایرک اینڈرسن کے مطابق وہ زندگی سے بھر پور اور رولز کو ٹسٹ کرنے کے ماہر تھے۔ سترہ سال کی عمر میں انہیں سکول رولز کی مسلسل خلاف ورزی پر سکول سے خارج کرنے کی دھمکی دی گئی۔ بلیئر تین اے لیولز کے ساتھ فیلٹس سے فارغ التحصیل ہوئے اور انہوں نے سینٹ جانز کالج آکسفرڈ میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا۔ انیس سو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں ٹونی بلیئر تمام نوجوانوں کی طرح راک میوزک کے دالدادہ تھے۔ وہ مِک جیگر کے بہت بڑے فین تھے اور خیالوں کی دنیا میں وہ خِود کو میوزک مینیجر یا پروموٹر کے روپ میں کامیابیاں حاصل کرتا دیکھتے تھے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سنجیدہ موضوعات میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی۔ انہوں نے بائیں بازو کی سیاست کے بارے میں بحث میں حصہ لینا شروع کر دیا جو اس وقت کے لحاظ سے ایک غیر معمولی بات تھی۔ وہ اپنے مذہبی عقائد کے بارے میں بہت سنجیدہ ہو گئے۔ وہ ابھی آکسفرڈ میں ہی تھے جب ان کی والدہ کا کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا۔ بلیئر نے آکسفرڈ سے قانون کی ڈگری سیکنڈ کلاس میں حاصل کی اور سن انیس سو چھہتر میں ڈیری اِرون کے چیمبر میں ٹرینی بیرسٹر بن گئے۔ ڈیری اِرون ہی ان کے پہلے لارڈ چانسلر بھی بنے۔ یہیں ان کی ملاقات شیری بوُتھ سے ہوئی جو اِرون کے چیمبر میں ہی ٹرینی بیرسٹر تھیں۔ شیری نے فرسٹ کلاس میں قانون کی ڈگری حاصل کی اور وہ بلیئر کے مقابلے میں زیادہ ذہین سمجھی جاتی تھیں۔ ٹونی اور شیری بلیئر نے سن انیس سو اسی میں شادی کر لی اور مشرقی لندن کے علاقے ہیکنی میں ایک گھر لے کر اس میں آباد ہو گئے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے مقامی لیبر پارٹی سیاست میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی۔
پینڈرے کے کہنے پر ہی وہ بیکنز فیلڈ کے حلقے سے لیبر کے امیدوار بنے۔ اگرچہ کنزرویٹو پارٹی کے گڑھ میں ان کے منتخب ہونے کا تو کوئی امکان نہیں تھا لیکن وہ لیبر لیڈر مائیکل فٹ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ان کے جذبے سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں سیاست میں تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔ سن انیس سو تراسی کے عام انتخابات میں وہ سیجفیلڈ کے حلقے سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان کی اہلیہ شیری نے بھی انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ جیتنے میں ناکام رہیں۔ اپنے پارلیمنٹری کیریئر کے پہلے ہی سال انہیں گورڈن براؤن کی شکل میں ایک ایسا رفیق مِل گیا جو انہیں کی طرح لیبر پارٹی کو سیاست کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا مشن لیے ہوا تھا۔ گورڈن براؤن اور پیٹر مینڈلسن کے ساتھ ملکر بلیئر نے پارٹی کی غیر مقبول پالیسیوں کو بدل کے اسے دوبارہ عوام کے لیے قابل قبول بنانے کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے اپنی نئی پالیسیوں میں فری مارکیٹ اکانومی اور سماجی انصاف کا امتزاج پیش کیا۔ بلیئر میڈیا میں لیبر پارٹی کے امیج کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔ ان کے خیال میں سن انیس سو بانوے میں نیل کنیک کے وزیر اعظم نے بن پانے کا بنیادی سبب ٹیبلائڈ پریس کا معاندانہ رویہ تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے لیبرپارٹی کے تعلقات عامہ کے شعبے پر خاص توجہ دی اور سابق ٹیبلائڈ صحافی الیسٹر کیمبل کی خدمات حاصل کیں۔ ان کی میڈیا پالیسی کامیاب ثابت ہوئی اور لیبر پارٹی نے سن انیس سو ستانوے میں ہونے والے عام انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل کی اور بلیئر صرف تینتالیس سال کی عمر میں وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ وہ گزشتہ دو سو سال میں برطانیہ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم تھے۔ ٹونی بلیئر نے سن دو ہزار ایک اور دو ہزار پانچ میں ہونے والے عام انتخِابات میں بھی کامیابی حاصل کی اگرچہ کامیابی کا مارجن کو جیتی ہوئی نشستوں کی تعداد گھٹتی چلی گئی۔ عوامی سطح پر ان کی مقبولیت کو سب سے زیادہ دھچکا ان کی عراق پالیسی کی وجہ سے پہنچا جس نےانہیں امریکی پالیسی کے قریب اور عوام سے دور کر دیا۔ |
اسی بارے میں 27 جون: وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی10 May, 2007 | آس پاس ایران:’عالمی دباؤ ڈالنے کا وقت‘28 March, 2007 | آس پاس افسوس و تاسف لیکن معافی نہیں 26 March, 2007 | آس پاس عراق میں فوج کم کریں گے: بلیئر21 February, 2007 | آس پاس ’بلئیر بش پر اثر انداز نہ ہو سکے‘19 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||