BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 June, 2007, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلیئر، نئی ذمہ داریاں نئے چیلنج

کچھ لوگوں بلیئر کی تقرری پر تنقید بھی کر رہے ہیں
عصِر حاضر کی دنیا کے سب سے پیچیدہ اور دیرینہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنا اور مشرقِ وسطی میں قیامِ امن کی طرف پیش رفت کرنا ٹونی بلیئر کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

مشرق وسطی میں چار مغربی طاقتوں، اقوام متحدہ، یورپی یونین، روس اور امریکہ کی طرف سے مشترکہ ایلچی کے عہدے کو قبول کر کے ٹونی بلیئر نے دراصل نئے چیلنجوں کو قبول کیا ہے۔

ان کی تقرری اس لیے حیران کن ہے کہ انہوں نے بطور برطانوی وزیر اعظم عراق پر امریکی حملہ میں معاونت کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور گزشتہ سال اسرائیل کے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کی بھی حمایت کی تھی۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر عرب دنیا کی اکثریت میں وہ امریکہ اور اسرائیل کے دوست اور ہمدرد کے طور پر جاننے جاتے ہیں۔

اسرائیل میں انہیں ایک دوست سمجھا جاتا ہے اور انہیں اسرائیل کے حکومتی حلقوں کا اعتماد بھی حاصل ہے جس کے بغیر وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوئی بامعنی پیش رفت نہیں کر سکتے۔

ان کے صدر بش سے ذاتی مراسم ہیں۔ ایسے خطے میں جہاں طاقت ہر چیز پر حاوی ہے وہاں اس طرح کا اثرو رسوخ بہت سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن صدر بش کے نذدیکی ان کے لیے ایک رکاوٹ بھی بن سکتی ہے۔ تاہم شمالی آئرلینڈ کے تنازعہ میں کامیابی سے مذاکرات کا تجربہ انہیں اس کے لیے ایک موزوں امیدوار ثابت کرتا ہے۔

اس سارے تناظر میں ایک بہت بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ حماس کو بھی اس سلسلے میں شامل کرنا چاہیں گے۔ حماس کے ساتھ اسرائیل اور دوسرے مغربی دنیا نے کوئی رابطہ یا بات چیت کرنے سے اسی لیے انکار کر دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور وہ اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد ترک کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔

 حال ہی میں پیرو کے سفارت کار ایلوارو دی ستو نے اقوام متحدہ کے مشرق وسطی میں ایلچی کے طور پر اپنی مدت مکمل کی ہے۔ انہوں نے اپنی آخری ’تلخ اور مایوس کن‘ رپورٹ میں چار بین الاقوامی طاقتوں اقوام متحدہ، امریکہ، روس اور یورپی یونین کو اس سارے تنازعے میں بالکل غیر اہم قرار دیا تھا اور امریکہ پر اسرائیل کے دباؤ کا شکار ہونے کا الزام لگایا تھا۔

حماس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بلیئر کے ساتھ حماس کا تجربہ کوئی زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔

ان کا زیارہ تر رابطہ فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے بغیر ان کی طرف سے قائم کردہ عبوری حکومت سے ہوگا۔ فلسطینی صدر اور ان کے حامیوں نے بلیئر کے ایلچی مقرر ہونے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ٹونی بلیئر کو اس تقرری سے یہ موقع بھی ملا ہے کہ عراق پر حملے کا حصہ ہونے کے حوالے سے ان پر ہونے والی تنقید کو مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کو کششوں میں توازن برقرار رکھ کر ذائل کر دیں۔

بلیئر ایلچی کے طور پر اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور روس کو رپورٹ کریں گے۔ ان چار قوتوں کی طرف سے سن دوہزار تین میں پیش کردہ امن کا منصوبہ گزشتہ چار سالوں میں ہونے والے واقعات میں پیچھے رہ گیا ہے۔

روس ٹونی بلیئر کی تقرری کے بارے میں زیادہ خوش نہیں لیکن وہ اس فیصلے کے ساتھ چلنے پر تیار ہے۔

ان کی نئی ذمہ داریوں کا بنیادی تقاضہ فلسطین کی مدد کرنا ہے لیکن وہ چار طاقتوں کی طرف سے وضع کیئے گئے مقاصد کے حصول کے لیے دوسرے ملکوں سے بھی رابطے رکھ سکتے ہیں۔

ایلوارو دی سوتو کی رپورٹ میں امریکہ پر تنقید کی تھی

برطانوی دارالعوام میں اپنی آخری تقریر میں ٹونی بلیئر اپنی نئی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے بارے میں خاصے پرامید اور پر عزم دکھائی دیئے تھے۔

بہرحال ان کی تقرری پر نکتہ چینوں کی کمی نہیں ہے۔ برطانوی تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس کی روز میری ہولس جو بلیئر اور مشرق وسطی کے بارے میں ایک کتاب بھی تحریر کر رہی ہیں کہتی ہیں کہ وہ اس تقرری پر ششدر رہ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے لگتا ہے کہ کسی طرح لوگوں زمینی حقائق سے بالکل آگاہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف عراق کا نہیں ہے اس میں بہت سے عوامل کار فرما ہیں۔ ٹونی بلیئر کو وزیر اعظم کی حیثیت سے بہت کم اثرورسوخ حاصل تھا تو اب کس طرح وہ اس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ٹونی بلیئر کو یہ ’جاب‘ یا یہ کام اس لیے دیا گیا ہو کہ ان کو بڑی شدت سے اس کی ضرورت تھی اور اگر اس کے پیچھے کوئی ’گیم پلان‘ یا منصوبہ ہے تو پھر اس کا مقصد حماس کی مخالفت میں محمود عباس کی حمایت کرنا۔

مشرق وسطی کی تاریخ میں کئی اس طرح کے ایلچی اور مذاکرات گزرے ہیں۔ مشرق وسطی میں ’شٹل ڈپلومیسی‘ کی ابتدا ہینری کسنجر نے کی جب انہوں نے انیس سو تہتر جنگ کے بعد خطے میں حالات کو معمول پر لانے کی کامیاب کوشش کی۔

اس کے بعد سابق امریکی صدر جمی کارٹر بھی کامیابی سے ہمکنار ہوئے جب انہوں نے انیس سو اٹہتر میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں معاہدے پر دستخط کروائے تھے۔

لیکن اس کے بعد کوئی اتنا خوش قسمت ثابت نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد صدر کارٹر سن دو ہزار میں یاسر عرفات اور ایہود براک کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں ہی ایک اور معاہدہ قریب آ گئے تھے لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔

حال ہی میں پیرو کے سفارت کار ایلوارو دی ستو نے اقوام متحدہ کے مشرق وسطی میں ایلچی کے طور پر اپنی مدت مکمل کی ہے۔ انہوں نے اپنی آخری ’تلخ اور مایوس کن‘ رپورٹ میں چار بین الاقوامی طاقتوں اقوام متحدہ، امریکہ، روس اور یورپی یونین کو اس سارے تنازعے میں بالکل غیر اہم قرار دیا تھا اور امریکہ پر اسرائیل کے دباؤ کا شکار ہونے کا الزام لگایا تھا۔

بلیئر یقینی طور پر چار بین الاقوامی طاقتوں کے سابق ایلچی اور عالمی بینک کے سابق صدر جیمز ولفنسن جیسی مثال نہیں بننا چاہیں گے جنہوں نے سن دو ہزار چھ میں مشرق وسطی میں صرف ایک سال تک ایلچی کے طور پر کام کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد