بلیئر مشرق وسطیٰ میں سفیر نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ، امریکہ، روس اور یورپی یونین کے مشترکہ سفیر نامزد کر دیئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے اعلان ٹونی بلیئر کی برطانوی وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا ہے۔ ٹونی بلیئر نے پارلیمان سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن ممکن ہے لیکن اس کے لیے کافی تگ و دو کرنا پڑے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلیئر کو فلسطین میں پائے جانے والے اس وسوسے کا دھیان رکھنا ہوگا کہ ان کے اسرائیل سے خصوصی تعلقات ہیں۔
برطانوی پارلیمان میں بدھ کو بطور وزیر اعظم آخری مرتبہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹونی بلیئر نے مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے کہا کہ بین الاقوامی طور پر اب یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ مسئلے کا دیرپا حل دو ریاستوں کے قیام میں پوشیدہ ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ٹونی بلیئر کی نامزدگی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے بلیئر کی بطور سفیر نامزدگی میں تاخیر روس کے بعض تحفظات کی وجہ سے ہوئی۔ تاہم حماس نے بلیئر کی نامزدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تنازعے کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی کیونکہ ان کی حیثیت امریکہ اور اسرائیل کے نقطۂ نظر کی عکاس ہے۔ بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ایڈیٹر جرمی باون کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کامیابی سے زیادہ ناکامی کے امکانات ہیں۔ |
اسی بارے میں مذاکرات جاری رہیں گے: رائس19 February, 2007 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ بائیکاٹ پر متفق18 February, 2007 | آس پاس بحالی امن کی نئی کوشش 18 December, 2006 | آس پاس مشرق وسطیٰ : پوپ کی امن اپیل25 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||