مشرقِ وسطیٰ : فائر بندی کیوں نہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لیبر پارٹی کے ایک نمایاں رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ برطانوی مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر نے مشرقِ وسطٰی میں جاری لڑائی میں فائر بندی کے لیے کیوں نہیں کہا۔ روز نامہ گارڈین میں لکھتے ہوئے صدیق خان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے لبنان میں ہونے والی تباہی کو دیکھنا آسان نہیں ہے۔ ٹوٹنگ سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ کے ممبر کا کہنا ہے کہ وہ فکر مند ہیں کہ برطانیہ کی خارجہ پالسی کو مسلمان مخالف سوچا جا سکتا ہے۔ ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ تشدد ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں اقلیتی شیعہ علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ اقوام متحدہ نے جنوبی لبنان میں امداد پہنچانے اور وہاں سے لاشیں اُٹھانے کے لیے اسرائیل اور حزب اللہ کو تین روزہ جنگ بندی کے لیے کہا ہے۔ امریکی صدر جارج بش اور ٹونی بلیئر نے فوری طور پر فائر بندی کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے بجائے کہا ہے کہ ایک بین الاقوامی فوج لبنان میں تعینات کی جائے جو کہ تشدد ختم کرنے کا کام کرے۔ صدیق خان نے بی بی سی ریڈیو کے چینل فور کے ٹوڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہم فائر بندی کے لیے اس وقت کا انتظار نہیں کر سکتے جب لڑائی کرنے والا ایک فریق اپنے فوجی عزائم حاصل نہ کر لے‘۔ ’اس دوران عورتیں، بچے ، مرد اور شہری مارے جا رہے ہیں۔‘ ’وہ ملک جو بین الاقوامی کنوینشن پر دستخط کرتے ہیں ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان مظالم کے ہوتے ہوئے وہ خاموش تماشائی بنے نہ بیٹھے رہیں‘۔ حزب اللہ نے ’ درجنوں اسرائیلی شہریوں کو قتل کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے‘ لیکن اسرائیل کو اپنا دفاع ’موزوں طریقے‘ سے کرنا چاہیے۔ روزنامہ گارڈین میں صدیق خان لکھتے ہیں کہ ’ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہماری حکومت امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے اسرائیل کو سبز بتی کیوں دیکھا رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے پر ٹونی بلیئر ’اپنے موقف سے ہٹ گئے ہیں‘۔ ’برطانیہ کی خارجہ پالیسی مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے لیکن اب اس مسئلے پر بحث کی جا سکتی ہے‘۔
لندن میں اسرائیلی ایمبیسی کے ترجمان نے بی بی سی نیوز ویب سائیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل پر حزب اللہ نے کسی وجہ کے بغیر حملہ کیا ہے اور وہ صرف اس کا جواب دے رہا ہے۔‘ ’ہم فائر بندی چاہتے ہیں لیکن وہ دیر پا اور مستقل ہونی چاہیے‘۔ ’ہم اس صورتحال میں واپس نہیں جانا چاہتے جو کہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ کسی ’سفارتی حل‘ کے بغیر فائر بندی دیر پا نہیں ہو گی۔ جمعے کے دن بش کے ساتھ وائیٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے بعد ٹونی بلیئر نے کہا کہ ’ ہم اس لڑائی کے دوران لبنان اور اسرائیل میں مرنے والے معصوم لوگوں کا درد محسوس کر سکتے ہیں‘۔ ’اور ہم چاہتے ہیں کہ کہ یہ ابھی اور اسی وقت ختم ہو جائے۔‘ ’آج ہم نے جو کیا ہے وہ اس مسئلے کا مستقل حل ہے جس کے تحت اس کو اقوام متحدہ کے معاہدے کے تحت ختم کیا جائے گا۔‘ تقریبًا 600 لبنانی جن میں اکثریت شہریوں کی ہے اس لڑائی میں مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیل نے اس وقت لبنان پر حملہ کیا جب 12 جولائی کو خزب اللہ نے سرحد کے پار حملہ کرتے ہوئے دو فوجیوں کو اغوا اور آٹھ کو ہلاک کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں اسرائیل: بش حامی مگر شیراک مخالف16 July, 2006 | آس پاس بش کی پرائیویٹ باتیں عام ہوگئیں18 July, 2006 | آس پاس بگڑتی سکیورٹی، فوج میں اضافہ25 July, 2006 | آس پاس لبنان کے لیئے امن فوج ضروری ہے:بش28 July, 2006 | آس پاس لبنان کی تباہی کی ویڈیو20 July, 2006 | صفحۂ اول لبنان کا بحران: آپ کے سوال ، ہمارے جواب20 July, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||