اسرائیل: بش حامی مگر شیراک مخالف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور حزب اللہ ہی لبنان کے موجودہ بحران کی اصل وجہ ہے۔ روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں آٹھ بڑی عالمی طاقتوں کے اجلاس کے دوران برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے بعد صدر بش کا کہنا تھا کہ ’بحیثیت ایک خودمختار ملک اسرائیل کو دہشت گردی کے خلاف اپنا بچاؤ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے تاہم اسرائیل کے لیئے ہمارا پیغام ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے لیکن نتائج سے بھی بے خبر نہ رہے‘۔ صدر بش کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ حزب اللہ اور اس کے ایران اور شام سے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سب حزب اللہ نے ہی شروع کیا تھا‘۔ ادھر فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا ہے کہ لبنان کی حاکمیت، استحکام اور سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے کی تمام کوششیں بند ہو جانی چاہیئیں۔ انہوں نے لبنان اور غزہ میں’شہریوں کے تحفظ اور ایک دیرپا جنگ بندی‘ پر بھی زور دیا۔ ہفتے کو روس کے صدر ولادی میر پوتن نے بھی اسرائیل کے حملوں پر تشویش ظاہر کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کے مقاصد کچھ اور ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ہم دہشت گردی کی ہر کارروائی اور فوجیوں کے پکڑے جانے کی مذمت کرتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ فوجیوں کی بازیابی کے علاوہ اسرائیل اپنے کچھ دیگر مقاصد بھی پورا کرنا چاہ رہا ہے‘۔ | اسی بارے میں حیفہ پر راکٹ حملے، آٹھ ہلاک16 July, 2006 | آس پاس لبنانی وزیرِاعظم کی جنگ بندی کی اپیل16 July, 2006 | آس پاس مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس لبنان جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق16 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||