بلیئر کو سفارتکاری کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو پیش کش کی ہے کہ وہ امریکہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور روس کی طرف سے مشترکہ طور پر مشرق وسطیٰ کی سفارت قبول کر لیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق صدر بش اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے ٹونی بلیئر سے اس سلسلے میں براہ راست بات کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ ٹونی بلیئر کے مستقبل کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور ان میں بیشتر غلط ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی اس سلسلے میں ابتدائی نوعیت کی بات چیت ہوئی ہے اور وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی طرف سے اس پر ردعمل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ٹونی بلیئر دس سال کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے ستائیس جون کو مستعفی ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کو اس بارے میں علم نہیں تھا کہ آیا صدر بش نے اس تجویز پر یورپی یونین، اقوام متحدہ اور روس سے بات چیت کی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل نے خبر دی تھی کہ ٹونی بلیئر مشرق وسطیٰ میں سفیر کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ یہ عہدہ اپریل دو ہزار چھ میں عالمی بینک کے سابق سربراہ جیمز ہولفسن کے مستعفی ہونے کے بعد سے خالی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم ایہود اولمرت کو اس تجویز کا علم ہے اور وہ ٹونی بلیئر کو ان کی مشرق وسطیٰ کے امور سے آگاہی اور امن مشن میں شامل رہنے کی وجہ سے سفیر مقرر کرنے کے حامی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پرینو نے کہا کہ وزیر اعظم ٹونی بلیئر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں میں بڑا فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں فلسطین: برطانوی تجویز مسترد11 September, 2006 | آس پاس کونڈالیزا رائس اسرائیل پہنچ گئیں 13 January, 2007 | آس پاس قیامِ امن کے لیے ’بارآور‘ مذاکرات14 January, 2007 | آس پاس کونڈولیزا رائس، اولمرت ملاقات15 January, 2007 | آس پاس سعودی منصوبہ، تبدیلیاں مسترد14 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||