چارلز کینیڈی نے استعفیٰ دے دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی تیسری سب سے بڑی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کے سربراہ چارلز کینیڈی نے پارٹی کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ چارلز کینیڈی کو کچھ عرصے سے پارٹی کے چند حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا تھا لیکن یہ بات اس وقت بڑھ گئی جب جمعرات کو کینیڈی نے اعتراف کیا کہ انہیں کثرتِ شراب نوشی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس وقت پارٹی کے اندر کئی اور مسائل پر بھی کھل کر بحث ہوئی۔ انہوں نے لندن میں پارٹی کے صدر دفتر میں اپنا استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جماعت کے کارکنوں کی طرف سے بہت سے حمایتی پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ ’لیکن پارٹی کے دوسرے عہدیداران اس سے مطمئن نہیں اس لیے وہ پارٹی کی سربراہی سے استعفیٰ دے رہے ہیں‘۔ ان کا یہ بیان ان کے اس اعلان سے تقریباً چوبیس گھنٹے سے بھی کم عرصے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ارادہ ہے کہ دوبارہ پارٹی کی صدارت کے مقابلے میں حصہ لیں۔ بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار کے مطابق چارلز کینیڈی کے ساتھی اس بات پر ناراض تھے کہ اپنے شراب کے مسئلے کو ان کے سامنے رکھنے کی بجائے وہ پارٹی ممبران کے پاس لے گئے۔ ان کی جماعت کی اکثریت نے انہیں خبردار کیا تھا کہ وہ ان کی سربراہی میں کام نہیں کرے گی۔ | اسی بارے میں ’ہاں! عراق نے ووٹوں کو متاثر کیا‘06 May, 2005 | آس پاس ’میں نے سنا ہے اور سیکھا ہے‘06 May, 2005 | آس پاس الیکشن: جیتے والوں میں کون کیا؟06 May, 2005 | آس پاس ’فلسطینی ہوتی تو خودکش بمبارہوتی‘23 January, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||