’ہاں! عراق نے ووٹوں کو متاثر کیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کے رہنما ٹونی بلئیر نے تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ عراقی جنگ نےلیبر کو ملنے والے اکثرتی ووٹوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انتخابی مہم کے دوران عراقی جنگ ایک اہم اور فیصلہ کن موضوع تھا اور یہ بھی مانا کہ لیبر پارٹی کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے ۔ ٹونی بلئیر نے کہا ’مجھے معلوم ہے کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے لیکن مجھے اس بات پر بہت فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تیسری مرتبہ تاریخی فتح حاصل کی ہے۔‘
لیبر پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما گورڈن براؤن نے کہا ’میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم آگے بہت کچھ سیکھیں گے، لوگوں کوسنیں گے تاکہ آنے والے سالوں میں اپنے ملک اور مختلف کمیونیٹیز کی بہتر خدمت کر سکیں۔‘ برطانوی انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی کنزرویٹو پارٹی کے رہنما مائیکل ہاورڈ نےلیبر کی کامیابی اور اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ٹونی بلیئر کو فتح پر مبارک باد دی اوراس بات پر خوشی ظاہر کی کہ کنزرویٹو نے پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ کنزرویٹیو نے لیبر کی کئی اہم نشتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
ماییکل ہاورڈ نے کہا کہ وہ اس شرط پر ٹونی بلیئر کی ’مکمل حمایت‘ کریں گے کہ وہ صاف ستھرے ہسپتال، بہتر اسکول، ایمیگریشن پر کنٹرول اور مزید پولیس فورس جیسی عوامی ترجیحات کو پورا کریں۔ انہوں نے کہا ’اب مسٹر بلیئر کے لئے باتوں کا نہیں کام کا وقت ہے۔‘ مائیکل ہاورڈ کا کہنا تھا ٹوری پارٹی کی انتخابی مہم نے ٹونی بلیئر کو ’ایک پیغام دیا ہے‘ اور جہاں تک ٹوری پارٹی کا سوال ہے تو اس نے کامیابی کی سمت قدم بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا ’اب ہمارے سامنے جو کام ہے وہ اگلی پارلیمنٹ میں اپنی اس کامیابی کو مکمل بنانا ہے۔‘
لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چارلز کینیڈی نے کہا ہے کہ برطانیہ میں تین پارٹیوں کی سیاست کا دور شروع ہوگیا ہے جس کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک صحت مند رجحان ہے اور لبرل ڈیموکریٹس کی کارگردگی پہلے سے بہت بہتر ہوئی ہے اس لئے یہ جشن منانے کا وقت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||