برطانیہ میں پولنگ ختم، گنتی شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں دارالعوام کے چھ سو پینتالیس ارکان کے انتخاب کے لیے پولنگ ختم اور گنتی شروع ہو گئی ہے۔ برطانوی عام انتخاب کے موقع پر ہونے والے ایگزٹ پول میں لیبر پارٹی کی برتری میں کمی کے اشارے ملتے ہیں۔ ایک ایگزٹ پول کے مطابق لیبر پارٹی کو سینتیس فیصد، کنزرویٹو پارٹی کو تینتیس فیصد جبکہ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کو بائیس فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ اگر نتائج اس ایگزٹ پول کے مطابق آئے تو لیبر کو ساٹھ سے ستر نشتوں کی لیڈ مل سکتی ہے جو کہ 2001 میں لیبر کی حاصل کردہ برتری سے ایک تہائی کم ہو گی۔ برطانیہ میں نہ صرف عام انتخابات بلکہ مقامی کونسلوں اور میئرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے۔ ملک بھر کے 645 انتخابی حلقوں میں قائم پولنگ سٹیشن مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے تک کھلے رہے۔ سٹیفورڈ شائر میں حلقہ نمبر 646 میں امیدوار کے فوت ہونے کے بعد پولنگ روک دی گئی تھی۔ مکمل انتخابی نتائج کا اعلان جمعہ کی صج تک متوقع ہے۔ انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان رات پونے بارہ بجے شروع ہو جائے گا۔ تاہم جمعہ کی صبح تک یہ واضح نہیں ہو سکےگا کہ برطانیہ میں حکومت کون بنائے گا۔ لیبر پارٹی کے سربراہ ٹونی بلیئر نے اپنا ووٹ سیجفیلڈ کے حلقے میں جبکہ کنزرویٹو پارٹی کے رہنما مائیکل ہاورڈ اپنا ووٹ فولکسٹون اینڈ ہائیتھ کے حلقے میں ووٹ ڈالا۔
برطانیہ میں ڈاک کے ذریعے حقِ رائے دہی استعمال کرنے والے ساٹھ لاکھ ووٹروں میں سے جن کے ووٹ وصول نہیں ہوئے، وہ پولنگ سٹیشنوں پر جا کر اپنے ووٹ جمع کروا سکتے تھے۔ سٹیفورڈ شائر جنوبی کے حلقے میں ہونے والے انتخابات کو ملتوی کرنا پڑا ہے، کیونکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مقررہ مدت ختم ہو جانے کے بعد ایک امیدوار انتقال کر گیا تھا۔ لندن میں ویسٹ منسٹر اور دیگر علاقوں میں قائم پولنگ کے قریب اضافی پولیس تعینات رہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||