میرا پہلا برطانوی انتخاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہی کوئی انتالیس سال ہوئے جب میں نے پہلی بار برطانیہ کے عام انتخابات منعقد ہوتے دیکھے تھے۔ اس وقت وزیر اعظم لیبر پارٹی کے ہیرلڈ ولسن تھے۔ گو انہوں نے ایک طویل عرصہ تک لیبر پارٹی کی اقتدار سے محرومی کے بعد سن انیس سو چونسٹھ میں انتحابات جیتے تھے لیکن انہیں پارلیمنٹ میں صرف چار اراکین کی اکثریت حاصل تھی اور ان کے لیےاتنی کم اکثریت کے ساتھ مؤثر حکومت چلانا مشکل ہوگیا تھا۔ چنانچہ ولسن نے مارچ سن چھیاسٹھ میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد میرا خیال تھا کہ انتخابی مہم کی گہما گہمی شروع ہوگی، جلسے جلوسوں کا سلسلہ چلے گا، فضا زندہ باد مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے گی اور امیدواروں کی طرف سے اپنے اپنے علاقوں میں کارکنوں اور ووٹروں کی دعوتوں اور ضیافتوں کا دور دورہ شروع ہوگا۔ لیکن بر صغیر میں انتخابات کی گہما گہمی اور میلوں ٹھیلوں کا سماں دیکھے ہوئی میری آنکھیں یہاں یہ سب دیکھنے کو ترس گئیں۔ نہ دھوم دھڑکا نہ ڈھول تاشے نہ جلسے جلوس اور نہ نعرے بازی۔ بس اخبارات پڑھنے اور ریڈیو سننے اور ٹیلیوژن دیکھنے سے پتہ چلتا تھا کہ اس ملک میں عام انتخابات ہورہے ہیں۔ ٹیلی وژن کے بھی اس زمانہ میں لے دے کرصرف دو چینلز تھے ایک بی بی سی اور دوسرا آئی ٹی وی اور ٹیلی وژن کی نشریات بھی رات بارہ بجے ملکہ کی تصویر اور قومی ترانہ کے ساتھ ختم ہو جاتی تھی۔
ہر روز سیاسی جماعتوں کی مہم کا آغاز یکے بعد دیگرے پریس کانفرنسوں سے ہوتا تھا جس میں ہر روز سیاسی رہنما ایک نیا مسئلہ اس دن کے سیاسی ایجنڈے کے طور پر پیش کرتے جس کے بعد سیاسی رہنما اپنے دوروں پر نکل جاتے تھے۔ یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہیرلڈ ولسن کی الاصبح پریس کانفرنس پارلیمنٹ کےقریب گریٹ پیٹر سٹریٹ کے ایک چھوٹے سےہال میں ہوتی تھی۔ یہ ہال اتنا چھوٹا تھا کہ پورا ہال ولسن کے پائپ کے دھویں سے بھر جاتا تھا۔ ٹوری پارٹی کی پریس کانفرنس البتہ قریب میں اسمتھ اسکوائر میں ٹوری پارٹی کے مرکزی آفس کے شاندار ہال میں ہوتی تھی۔ اور لبرل پارٹی کی پریس کانفرنس وہایٹ ہال میں اپنے لبرل کلب کی پرشکوہ عمارت میں ہوتی تھی۔ ان پریس کانفرنسوں کے بعد تھوڑی گہما گہمی اس وقت دیکھنے کو ملتی تھی جب سیاسی رہنما ملک کے مختلف شہروں میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں مختلف محلوں میں ایک ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور لوگوں سے ملتے۔ یا پھر بازاروں میں دکانداروں اور خریداروں سے بات کرتے اور پھر شام کو مقامی ہال میں انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے۔ یہ اجتماع بھی کیا ہوتا، حاضرین سے زیادہ اس میں صحافی اور فوٹوگرافر ہوتے تھے۔ نوٹنگھم میں ہیرلڈ ولسن کے ایک ایسے ہی انتخابی اجتماع میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا۔ نوٹنگھم یونیورسٹی کے ہال میں یہ اجتماع تھا۔ ایک سو سے بھی کم لوگ موجود تھے۔ ولسن کے خیال میں یہ خاصی بڑی تعداد تھی اور وہ بےحد خوش تھے۔ انہوں نے مختصر تقریر کی اور زیادہ وقت سوال و جواب میں گذرا-
برطانیہ میں اپنے اپنے علاقوں میں امیدوار جس طرح گھر گھر جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر بازاروں میں اسٹول پر کھڑے ہو کر چھوٹے چھوٹے جلسےکرتے ہیں اور لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں یہ برطانیہ کی انتخابی مہم کا روایتی انداز ہے جس کے برطانوی ووٹر بے حد دلدادہ ہیں- سن چھیاسٹھ کی مہم میں مجھے یاد ہے کہ ولسن کے ایک سینیئر وزیر جارج براؤن جو خاصے مقبول اور قدرے غصیلے تھے ایسے جلسوں میں لوگوں سے الجھ پڑتے تھے اور ایسی باتیں کہہ دیتے تھےجو دوسرے دن اخبارات میں نمایاں سرخیاں بنتی تھیں۔ لیکن ان کا اصرار تھا کہ یہی تو برطانیہ کی خاص جمہوری روایت ہے کہ یوں سیاست دان کا عوام سے براہ راست تعلق رہتا ہے۔ اور برطانیہ کے عوام کو بھی انتخابات کی مہم کے اسی روایتی انداز پر ناز ہے۔ اس زمانہ میں اور اب بھی برطانیہ میں دولت مشترکہ کے شہریوں کو ووٹ دینے کا حق ہے۔ چنانچہ سن چھیاسٹھ کے انتخاب میں جب میں نے ووٹ دیا تو ایک عجب احساس ہوا کہ اپنے ملک میں ایک بار بھی نہ کارپوریشن نہ صوبائی اسمبلی اور نہ پارلیمنٹ کے انتحاب میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملا کیونکہ جب تک میں پاکستان میں تھا تو ان اداروں کے انتخابات ہی نہیں ہوئے تھے۔ اس کےبعد سن انسٹھ سے سن پینسٹھ تک ہندوستان میں رہا اور سن باسٹھ کے انتخابات دیکھے لیکن دولت مشترکہ کے شہری ہوتے ہوئے وہاں ووٹ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ پولنگ کے دن کسی پارٹی کا کوئی کارکن نہ تو سواری لے کر مجھے پولنگ اسٹیشن تک لے جانے کے لیے آیا اورنہ کسی نے آ کر یہ پوچھا کہ میں نے ووٹ ڈالا یا نہیں۔ پولنگ اسٹیشن محلہ کے گرجا گھر کے ہال میں قائم ہوا تھا جو چند قدم کے فاصلہ پر تھا صبح سویرے جب میں ووٹ ڈالنے گیا تو ہال کے باہر اگر پولنگ اسٹیشن کا بورڈ نہ لگا ہوتا تو پتہ ہی نہ چلتا کہ یہاں پولنگ اسٹیشن ہے۔ ہال کےباہر سیاسی جماعتوں کے کل تین کارکن کھڑے تھے جو شاید یہ گن رہے تھے کہ کتنے ووٹروں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ ہال کے اندر ایک لمبی سی چوبی میز پڑی ہوئی تھی جس پر چار لوگ اپنے سامنے ووٹروں کی فہرستیں لیے بیٹھے تھے۔ اور ان کے سامنے سر بمہر ڈبہ رکھا تھا۔ ان کے پیچھے پردہ لگے دو بوتھ کھڑے ہوئے تھے۔ ہال میں بالکل خاموشی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں کسی کی تعزیتی کتاب پر دستخط کرنے آیاد ہوں۔ میں نے اپنا نام اور پتہ بتایا۔ ان اہلکاروں نے نہ کوئی شناختی کاغذ مانگا اور نہ اور کوئی ثبوت میری حیثیت کے بارے میں طلب کیا۔ مشین کی مانند انہوں نے میرا نام ووٹروں کی فہرست میں تلاش کیا پتہ چیک کیا اور بیلٹ پیپر مجھے تھما دیا۔ جس پر میں نے بوتھ میں پردے کے پیچھے جا کر اپنی پسند کے امیدواروں کے نام کے آگے کراس بنا کر باہر میز پر رکھے ڈبہ میں ڈال دیا اور خاموشی سے باہر نکال آیا۔ ہال کے باہر کسی نے یہ تک نہیں پوچھا کہ کس کو ووٹ دیا؟ راستہ میں انگریز دوست ملے انہوں نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ میں نے کس کو ووٹ دیاہے۔ خفیہ بیلٹ کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ یہ بات بھی خفیہ رہے کہ ووٹ کس کو دیا۔ یہ بات یہاں معیوب سمجھی جاتی ہے کہ کسی سے یہ پوچھا جائے کہ کس کو ووٹ دیا اسی طرح جس طرح یہاں کوئی کسی کی تنخواہ نہیں پوچھتا۔ برطانیہ میں انتخابی منشور کو بے حد اہمیت حاصل ہے لیکن میرا خیال ہے کہ بہت کم ووٹر یہ انتخابی منشور پڑھتے ہیں اور شاذ و نادر ہی کوئی پورے منشور کا مطالعہ کرتا ہے لیکن عنوان ان منشوروں کے نہایت تخلیقی ہوتے ہیں۔ سن چھیاسٹھ کی انتخابی مہم میں لیبر پارٹی کے منشور میں مجھے یاد ہے ملک میں ریل اور سڑک کی ٹرانسپورٹ کا مربوط منصوبہ پیش کیا گیا تھا اور فولاد کی صنعت کو دوبارہ قومیانے کا پیمان کیا گیا تھا۔ عنوان اس منشور کا تھا ’فیصلے کا وقت‘ اور لیبر پارٹی کی مہم کا نعرہ تھا’یو نو لیبر ورکس۔‘ اس زمانہ میں برطانیہ یورپی مشترکہ منڈی کا رکن نہیں تھا اور یہ ایسا مسئلہ تھا جس پر برطانیہ کے عوام خاصے حساس اور جذباتی تھے۔ ولسن کی ساری کوشش یہ تھی کہ یہ مسئلہ انتخابی مسئلہ نہ بنے۔ اور وہ اس کوشش میں کامیاب رہے کیونکہ خودٹوری پارٹی بھی اس مسئلہ پر بٹی ہوئی تھی۔ پولنگ سے دو روز قبل ٹوری سربراہ ہیتھ نےولسن کی اقتصا دی پالیسیوں پر زبردست وار کیا اوراسے، نو۔ پانچ اور ایک، کا فارمولا قرار دیا۔ یعنی اجرتوں میں نو فی صد اضافہ قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ اور پیداوار میں صرف ایک فیصد اضافہ۔ لیکن یہ نعرہ انہوں نے بہت دیر میں لگایا اور دو دن بعد ولسن بھاری ا کثریت سے انتخاب جیت گئے اور چار اراکین کی جگہ انہیں نوے سے زیادہ اراکین کی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوگئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||