ہیلری کی آس، اوہائیو اور ٹیکساس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہیلری کلنٹن اور باراک اوبامہ کے درمیان منگل کو اوہائیو اور ٹیکساس میں فتح کے لیے شدت سے انتخابی مہم جاری ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں فتح ہیلری کلنٹن کے لیے بہت ہی اہم تصور کی جا رہی ہے۔ امریکہ میں مبصرین کہتے ہیں کہ ہیلری کلنٹن کی نامزدگی کی دوڑ میں رہنے کا دارو مدار اب ان دنوں ریاستوں میں فتح پر ہے۔ ہیلری کلنٹن کے حریف باراک اوباما گزشتہ گیارہ پرائمری مقابلوں میں مسلسل جیت چکے ہیں۔ جمعہ کو ہیلری کلنٹن کے کیمپ نے ٹیلی وژن پر اشتہاری مہم میں باراک اوباما کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے جس کے جواب میں باراک اوبام کی طرف سے بھی فوری جواب دیا گیا۔ ہیلری کلنٹن کی طرف سے ٹیلی وژن پر جو اشتہار چلایا گیا اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف ہیلری کلنٹن ہی خطرناک صورتِ حال سے نمٹنے اور دشوار گزار مرحلوں سے نبرد آزما ہونے کی ذہنی صلاحیت رکھتی ہیں۔
تاہم باراک اوباما کی طرف سے اس اشتہاری مہم کے جواب میں کہا گیا کہ نیویارک سے منتخب ہونے والی سینیٹر یعنی ہیلری کلنٹن کی ذہنی صلاحیتیں تو اسی وقت مشکوک ہوگئی تھیں جب انہوں نے عراق کے خلاف امریکی جنگ کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ ادھر حکمراں ریپیبلیکن پارٹی کی طرف سے سینیٹر جان میکین جوصدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی ریس میں اپنے حریفوں میں سب سے آگے ہیں، اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ اتنے مندوبین کی حمایت حاصل کر لیں گے کہ انہیں پارٹی رسمی طور پر نامزد کر دے۔ باراک اوباما نے کہا ’تبدیلی یہ نہیں کہ عراق پر حملے کے لیے آپ جارج بش کو ووٹ دیں‘۔ ہیلری کلنٹن نے باراک اوباما کی ’خارجہ پالیسی کی کمزوریوں‘ کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ’ہمیں ایسا صدر چاہیے جو عمل پر یقینی رکھتا ہو، جو لڑ سکتا ہوں جو ایک چیمپئن ہو۔‘ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن کو اوہائیو اور ٹیکساس دونوں ریاستوں میں مندوبین کی اکثریت کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس ریس میں شامل رہ سکیں۔ اس وقت باراک اوباما کو ٹیکساس میں اپنی حریف پر چھ پوائنٹ کی برتری حاصل ہے جبکہ ریاست اوہائیو میں دونوں برابر ہیں۔ |
اسی بارے میں اوباما اور ہیلری: تصویر پر الزامات26 February, 2008 | آس پاس صدارتی انتخابات میں تلخیاں24 February, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||