BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 February, 2008, 04:08 GMT 09:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانٹے کا مقابلہ، برتری کے دعوے
باراک اوباما نے جنوری کے مہینے میں انتخابی مہم کے لیے اپنی حریف ہیلری کلنٹن سے زیادہ فنڈ اکٹھے کیے
باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن جن کے درمیان منگل کو زبردست انتخابی معرکہ ہوا تھا، دونوں اپنی اپنی برتری کے دعوے کر رہے ہیں۔

ووٹوں کی گنتی سے یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ شاید ہیلری کلنٹن کو اتنے مندوبین کی حمایت حاصل نہ ہو جتنا کہ پہلے سمجھا جا رہا تھا۔

تاہم ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ سپر ٹیوزڈے کو بڑی ریاستوں میں فتح نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی انتخابی مہم پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے

تاہم باراک اوبامہ کہتے ہیں کہ ابھی مقابلے کے کئے راؤنڈ باقی ہیں اور اب ان کی پوزیشن اتنی کمزور نہیں جتنی دو ہفتے پہلے سمجھی جاتی تھی۔

ریپبلیکن پارٹی کے جان میکین بحر حال اپنے حریفوں سے آگے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ پارٹی میں اتحاد رہنا چاہیے۔

نامہ نگاروں کے خیال میں ریپبلیکن پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا جان میکین کو شکست دینا اب بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ڈیموکریٹ پارٹی کی انتخابی دوڑ اگست میں پارٹی کنوینشن تک جاری رہنے کا امکان ہے جہاں حتمی نامزدگی کا فیصلہ ہوگا۔

اگلے چار روز میں چار مزید ریاستوں میں پرائمری ووٹنگ ہوگی جس کا آغاز سنیچر سے ہو رہا ہے۔

اے پی کے مطابق اب تک کی پوزیشن کے مطابق ہیلری کلنٹن نے آٹھ ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ ان ریاستوں میں اوکلاہوما، آرکنساس، ٹینیسی، نیو یارک، میسیچوسٹ، نیو جرزی، ایریزونا، کیلیفورنیا شامل ہیں۔

ان کے حریف باراک اوبامہ نے تیرہ ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں جورجیا، ایلینوئس، دلاویئر، ایلیباما، اتھاہ، شمالی ڈیکوٹا، کینساس، کنیکٹیکٹ، منیسوٹا، کولوراڈو، ادھاؤ، الاسکا اور میسوری شامل ہیں۔


اے پی کے مطابق ہیلری کلنٹن کو سات سو بیاسی مندوبین کی حمایت حاصل ہے جبکہ باراک اوبامہ کے حمایتی مندوبین کی تعداد سات سو ستاون ہے۔ان مندوبین میں سپر ٹیوزڈے سے پہلے کے مندوبین شامل نہیں ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو دو ہزار پچیس مندوبین کی حمایت درکار ہے۔

ہیلری کا کہنا ہے کہ انہیں نیویارک اور کیلفورنیا جیسی ریاستوں میں کامیابی پر بہت خوشی ہے جہاں سے انہیں زیادہ سے زیادہ مندوبین کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے حریف باراک اوباما سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں اور ان کے مندوبین کی تعداد بھی زیادہ ہے اگرچہ اوباما نے زیادہ ریاستوں میں فتح حاصل کی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں زیادہ مندوبین کی حمایت حاصل ہے۔

ہیلری کلنٹن نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے اپنی جیب سے پانچ ملین ڈالر کی رقم ادھار دی ہے تاکہ باراک اوبامہ کا مقابلہ کیا جا سکے جنہوں نے جنوری میں زیادہ فنڈ اکٹھے کر لیے تھے۔

ہیلری کی جیت
آنسوؤں اور قہقہوں کی انتخابی مہم
مٹ رومنی مٹ رومنی کی واپسی
مشی گن کی جیت مٹ رومنی کے نام
صدارتی انتخاب 08
بارک اوبامہ امریکی صدارت کے امیدوار
پاکستانی ایٹمی اسلحہ
امریکہ اور برطانیہ نگرانی کریں: ہیلری کلنٹن
ہیلیریہیلری گر گئیں
بش کی ممکنہ حریف تقریر کے دوران گرگئیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد