رنگ و نسل کی سیاست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے آغاز ہی اپنے گھر سے کیا۔ ’اوبامہ اور ہیلری کہاں تک پہنچے ؟‘ میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا۔ ’اس لیے نہیں کہ ہیلری کے دانت پیلے ہیں اور اوبامہ کے چمکتے اور سفید، ہیلری کے مقابلے میں اوبامہ زیادہ اچھے کوٹ اور اچھی گھڑیاں پہنتا ہے۔ لیکن امریکہ میں کیا یہ سب سے ایکسائیٹنگ بات نہیں کہ ایک سیاہ فام شخص صدر بنے گا،‘ میرے پانچویں جماعت میں پڑھنے والے بیٹے نے کہا۔ یہ اس دوپہر کی بات ہے جسکے اگلے دن منگل کو امریکہ میں سال رواں دو ہزار آٹھ میں امریکی صدارت کیلیے ہونیوالے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دو امیدواروں نیویارک سے سیینٹر ہیلری کلنٹن اور الینوائے سے سینیٹر باراک اوبامہ کے درمیاں ہونیوالی ابتدائيوں یا پرائمریز میں شمالی کیرولائنا سے باراک اوبامہ نے ہیلری کو چودہ فی صد زائد ووٹوں سے شکست دی اور جبکہ اسی دن تین فی صد مارجن سے وہ انڈیانا ریاست میں اوبامہ پر سبقت جاصل کر سکی ہیں۔ ایٹلانٹک سمندر کیساتھ لگنے والی ریاست شمالی کیرولائنا، امریکہ میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ہونیوالے پرائمریز کی یہ آخری بڑی ریاست تھی۔ اب امریکی صدارت کیلیے ڈیموکریٹک پارٹی میں ممکنہ صدارت کے امیدواروں کے درمیاں ہونیوالے صدارتی انتخابات کا میدان صاف دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ اب بھی ہیلری کلنٹن کے بظاہر حوصلے بلند ہیں اور انہوں نے پرائمریز کے آخر تک جو کہ مئی اکتیس ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی کمیٹی سپر ڈیلگیٹس اور امیدواروں کو حمایت کی یقین ہانی کرانے والے چنے گئے مندوبین کے اعداد کے اعتبار سے فیصلہ کرے گي لیکن بقول معروف تجزیہ نگار جان ہیرس کے ’ریاضی کے اعتبار سے ہیلری کلنٹن کی امیدواری کا کھیل ختم ہوچکا ہے۔‘
اور یہ امریکی انتخابات کی ابجد نہیں بلکہ سیدھی سادی ریاضی کا سوال ہے کہ اب جبکہ آبادی کے حساب سے چھ چھوٹی ریاستوں ویسٹ ورجینیا، اوریگن، مونٹانا، کینٹکی، ساؤتھ ڈیکوٹا امریکی ریاستوں اور پورٹوریکو (جہاں کہتے ہیں کہ اگر پورٹوریکو ہو تو پورٹوریکن کیطرح ووٹ دو!) میں پرائمری انتخابات باقی ہیں جن سمیت باراک اوبامہ کو جیتنے کیلیے مطلوبہ دو ہزار پچیس منتخب مدوبین یا ڈیلیگیٹس کے ووٹوں کیلیے اب صرف چالیس فی صد سے بھی کم ووٹ درکار ہیں جس سے ہیلری دور بہت دور نظر آتی ہیں۔ نیویارک میں فارین ریلیشز انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر اور پی پی پی امریکہ کے ایک رہنما خالد اعوان اوبامہ ہیلری انتخابات کو کچھ یوں دیکھتے ہیں: ’ کچھ دن قبل تک تو ایشیائی کیا امریکی نژاد بھی یہ ماننے کو کتراتے نظر آتے تھے کہ امریکہ میں نمایاں اور بڑی تبدیلی آرہی ہے جو اوبامہ کی انتخابی برتری کی شکل میں ہے، لیکن اوبامہ اب ایک ابھرتے ہوئے ستارے کی طرح مانا جانا لگا ہے۔‘ امریکہ میں گزشتہ صدارتی انتخابات دو ہزار چار جو بین الاقوامی اور مقامی یا قومی امریکی مسائل پر لڑے گئے تھے جن میں سرِ فہرست جنگ عراق، دہشتگردی کیخلاف جنگ، امیگریشن، ہمجنس شادیاں، سوشل سیکیورٹی اور دیگر معاشی مسائل جنہیں امریکی ’پاکٹ بُک‘ کہتے ہیں جبکہ رواں سال دو ہزار آٹھ کے انتخابات نسل ،آمدنی اورطبقے کی بنیاد پر لڑے جانے کی توقع ہے۔ گذشتہ انتخابات میں تو یہ لطیفہ بھی بنا تھا کہ ’امریکی انتخابات امریکہ میں نہیں وانا وزیرستان میں لڑے جار ہے ہیں۔‘
شاید یہی وجہ ہوگی کہ باراک اوبامہ نے بھی صدارتی امیدواری کے انتخابات میں اترنے سے بہت پہلے ایک دفعہ پاکستان میں اسامہ بن لادن یا ان جیسوں کی موجودگی کی اطلاع پر پاکستانی صدر سے پوچھے بغیر حملہ کر دینے کی بات کی تھی۔ اوبامہ اپنے اس بیان کو میڈیا کیطرف سے سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کرنے کا دعوی بارہا کر چکے ہیں۔ چاہے وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہو لیکن امریکی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد میں اس کا شدید رد عمل ہوا تھا اور ان کے اپنے حلقے شکاگومیں تو انکی ایک ہوٹل میں آمد پر ہوٹل سے باہر پاکستانیوں کا احتجاج بھی ہوا تھا۔ اب بھی پاکستانی ووٹروں کی ایک اچھی خاصی تعداد ریپبلیکن پارٹی کے جان مکین اور ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کی حمایت کرتی نظر آتی ہے لیکن سیاست کے مرکزی دھارے کا امریکہ میں پانسہ پلٹنے والا ہے۔ فارن ریلیشنز انٹسٹیوٹ آف پاکستان کے خالد اعوان کا کہنا ہے ’مجھ سمیت کئی پاکستانی ڈیموکریٹس اب اوبامہ کی حمایت کر رہے ہیں اور اوبامہ کے آنے سے خطے میں صورتحال بدل سکتی ہے جسکے پاکستان پر کچھ نہ کچھ مثبت اثرات ضرور پڑیں گے کیونکہ ڈیموکریٹس کیلیے اکیسویں صدی میں بھی ایک ڈکٹیٹر کی حمایت کرنا بڑی سبکی کی بات بنتا جارہا ہے۔‘ باراک اوبامہ کی مہم کے ایک سرگرم کارکن ڈیوڈ پالوف نے بی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوایک ای میل میں بتایا ہے کہ باراک اوبامہ کو اب صرف ایک سو انہتر ووٹوں کی ضرورت ہے۔ ہیلری کو انکے قریبی دوستوں نے بھی امیدواری سے دستبردار ہونے کا کہا ہے۔ لیکن ہیلری نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں پرائمریز کے آخر تک لڑنے کے اپنے ارادوں کو بظاہر پھر دہرایا ہے۔ ابھی فلوریڈ اور مشی گان باقی ہیں۔ اگرچہ ہیلری وہاں جیت چکی تھیں لیکن اوبامہ کے سرگرمی سے حصہ نہ لینے کی وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی انتخابات کے نتائج کالعدم قرار دے چکی ہے۔ دونوں صورتوں میں امریکہ میں تبدیلی کے خواہاں عورت یا ایک سیاہ فام کو وائٹ ہاؤس میں دیکھنا ایک ’نیک شگون‘ سمجھ رہے ہیں لیکن نیوجرسی کے ایک سیاہ فام ڈاکٹر کو اب بھی شک ہے۔ وہ کہتے ہیں ’سفید فام ایک عورت کو ووٹ دیں گے لیکن ایک سیاہ فام کو نہیں۔‘ | اسی بارے میں کیا نامزدگی کا فیصلہ اگست تک ہی ہوگا؟13 March, 2008 | آس پاس ہلری کلنٹن کی اہم ریاست میں جیت23 April, 2008 | آس پاس ’خدا کی مرضی پر عمل کریں گے‘14 April, 2008 | آس پاس ’انتخابی دوڑ سے ہٹنے کا ارادہ نہیں‘30 March, 2008 | آس پاس کلنٹن، اوبامہ: الفاظ کی جنگ جاری22 February, 2008 | آس پاس فلوریڈا: دوبارہ مقابلہ نہیں ہوگا18 March, 2008 | آس پاس ہیلری کلنٹن کو ایک اور شکست13 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||