BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 February, 2008, 02:22 GMT 07:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیلری کلنٹن کو ایک اور شکست
باراک اوبامہ نے ابتک اکیس ریاستوں میں جیت حاصل کی ہے
صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کی دوڑ میں ڈیموکریٹ پارٹی کےباراک اوبامہ نے ہیلری کلنٹن کو ریاست ورجنیا، میری لینڈ اور وفاقی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مات دے کر پہلی مرتبہ مندوبین کی تعداد میں برتری حاصل کر لی ہے۔

باراک حسین اوبامہ نے ریاست ورجنیا، میری لینڈ اور واشنگٹن ڈی سی میں ہیلری کلنٹن کوواضح فرق سے ہرا دیا ہے۔

پرائمری ووٹنگ کےاس تازہ دور کے بعد باراک اوبامہ کے حمایتی مندوبین کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے۔ ہیلری کلنٹن نے اپنی نامزدگی مہم کی ساری توجہ ٹیکساس اور اوہایو پر مرکوز کر دی ہے جہاں چار مارچ کو پرائمری ووٹنگ فیصلہ کن ہونے کا امکان ہے۔

ریپلیکن امیدوار جان میکین نے ورجنیا، میری لینڈ اور واشنگٹن ڈی سی میں اپنے واحد حریف مائیک ہاکابی کو مات دے کر ریپبلکن امیدواروں کی دوڑ میں واضح برتری حاصل کر چکے ہیں۔

مبصرین ریاست ورجنیا میں ہیلری کلنٹن کی ہار کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ ہیلری کلنٹن کے حامیوں کو امید تھی کہ ہیلری کلنٹن ریاست ورجنیا میں فتح حاصل کر کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں واضح برتری حاصل کر لیں گی مگر ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق چار مارچ کو ریاست اوہایو اور ٹیکساس پرائمری ووٹنگ میں ہیلری کلنٹن کا پلہ بھاری رہے گا۔

ڈیموکریٹ پارٹی کا جو بھی امیدوار دو ہزار پچیس مندوبین کی حمایت حاصل کر لے گا، اس کی صدارتی نامزدگی کی توثیق اگست کے مہینے میں ہونے والے کنوینشن میں ہونے کا امکان ہے۔

ورجنیا میں 83 مندوبین ہیں جبکہ میری لینڈ میں 70 اور وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں 15 مندوبین ہیں۔

ہیلری کلنٹن نےابتک 12 ریاستوں میں فتح حاصل کی ہے جبکہ باراک اوبامہ نے 21 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ زیادہ ریاستوں میں فتح کے باوجود باراک اوبامہ کے مندوبین ہیلری کلنٹن سے ابھی کم ہیں۔

مسز کلنٹن نے گزشتہ ہفتے کی ناکامی کے بعد اپنی انتخابی مہم کے مینیجر کو تبدیل کر دیا ہے

ادھر ریپلیکن پارٹی کے جان میکین صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں برتری کے باوجود اپنی پارٹی میں اپنی پوزیشن کو زیادہ مستحکم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

نامہ نگار کہتے ہیں کہ میکین کو ابھی اپنی پارٹی کو متحد کرنے کے لیے مزید کام کرنا پڑے گا۔ان کی جماعت کے لوگ میکین کی قدامت پرستی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

ریپبلیکن امیدوار مائیک ہکابی پر دباؤ ہے کہ وہ پارٹی کے اتحاد کے لیے جان میکین کے لیے راستہ چھوڑ دیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا ارادہ نہیں رکھتے۔

ہیلری کی جیت
آنسوؤں اور قہقہوں کی انتخابی مہم
مٹ رومنی مٹ رومنی کی واپسی
مشی گن کی جیت مٹ رومنی کے نام
صدارتی انتخاب 08
بارک اوبامہ امریکی صدارت کے امیدوار
پاکستانی ایٹمی اسلحہ
امریکہ اور برطانیہ نگرانی کریں: ہیلری کلنٹن
ہیلیریہیلری گر گئیں
بش کی ممکنہ حریف تقریر کے دوران گرگئیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد