BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 April, 2008, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خدا کی مرضی پر عمل کریں گے‘
دونوں ڈیموکریٹ امیدوار مذہبی ووٹروں کو خوش کرنے کی کوشش میں ہیں
امریکی صدر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے دونوں امیدواروں، باراک اوبامہ اور ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ اپنے سیاسی کام میں خدا کی مرضی پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن انہیں نہیں معلموم کے خدا کی مرضی کیا ہوگی۔

دونوں امیدوار پینسلوانیا ریاست میں ایک مباحثے میں حصہ لے رہے تھے جہاں انہوں نے اپنی سیاسی اور ذاتی زندگی میں مذہب کے کرادار پر سوالات کے جواب دیئے۔ پینسلوانیا میں ایک ہفتے بعد پرائمری انتخابات ہونے ہیں جن میں ووٹر اس سوال پر اپنی رائے ظاہر کریں گے کے ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار کون ہونا چاہیے۔ فی الحال اس دوڑ میں باراک اوبامہ آگے ہیں۔

اسقاط حمل بحث
 حمل ٹھہرنے کے ساتھ ہی زندگی کا امکان تو پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ بحث صرف ممکنہ زندگی کے بارے میں ہی نہیں، ماں باپ کی زندگی کے بارے میں بھی ہے۔ لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اسقاط حمل کرانا چاہتے ہیں یا نہیں
ہلیری کلنٹن

دونوں امیدواروں نے کہا کہ وہ عیسائی مذہب پر باقاعدہ عمل کرتے ہیں۔سوالات کے جواب میں ہیلری کلنٹن نے کہا کہ وہ دعا، گہرے سوچ و بچار اور مطالعہ کے بعد ہی کوئی بڑا فیصلہ کرتی ہیں۔

دونوں امیدواروں نے اسقاط حمل کے متنازعہ سوال پر کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ عورت کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔

رپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے اس بحث میں حصہ لینے سے انکار کردیا تھا۔

رپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے بحث میں حصہ نہیں لیا۔

براک اوبامہ اور ہلیری کلنٹن نے اپنی زندگیوں میں مذہب کی اہمیت اور اسقاط حمل کے علاوہ لاعلاج امراض اور انتہائی تکلیف میں مبتلا افراد کے اپنی زندگی ختم کرنے کے حق یعنی یوتھینیسیا، اور ایچ آئی وی ایڈز کے بارے میں بھی سوالوں کے جواب دیئے۔

امریکی سیاست پر مذہبی حلقے کا بہت اثر ہے اور اب دونوں امیدوار انہیں اپنی طرف راغب کرن کی کوشش کر رہے ہیں۔

دونوں سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں کیا حمل ٹھہرتے ہی زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے؟ ہلیری کلنٹن نے کہا حمل ٹھہرنے کے ساتھ ہی زندگی کا امکان تو پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ بحث صرف ممکنہ زندگی کے بارے میں ہی نہیں، ماں باپ کی زندگی کے بارے میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اسقاط حمل کرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

باراک اوبامہ نےکہا کہ انہیں نہیں معلوم کے آیا حمل ٹھہرنے کے ساتھ ہی زندگی وجوو میں آجاتی ہے یا نہیں۔

’لیکن مجھے اتنا معلوم ہے کہ جب ہم اس طرح کی بحث میں حصہ لیتے ہیں تو اسقاط حمل کے مسئلہ پر بات کرتے وقت ہم اس کے اخلاقی پہلو کو ذہن میں رکھتے ہیں۔‘

صدارتی امیدوار کی دوڑ میں باراک اوبامہ کو 1638 اور ہلیری کلنٹن کو 1502 مندوبین کی حمایت حاصل ہے۔

امریکی ووٹر’ تاریخ بن رہی ہے‘
ممکنہ صدارتی امیدوار اور امریکی عوام
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد