’امریکہ میں تاریخ بن رہی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’امریکہ میں تاریخ بن رہی ہے‘، یہ تھا وہ جواب جو مجھے نیویارک میں ’سپر ٹیوز ڈے‘ کو وائٹ باؤس کے لیے صدارتی امیدواروں کے چناؤ والے دن ہر اس شخص نے دیا جس سے بھی میں نے الیکشن کے بارے میں پوچھا۔ ’تاریخ بن رہی ہے‘، سب سے پہلے میرا دھیان نیویارک میں جنوبی ایشیائي اور لاطینی آبادی کے سب سے بڑے مرکز کوئینز کے جیکسن ہائٹس سب وے ٹرین سٹیشن کے ہال وے میں کھڑے اوبامہ کے ایک حمایتی کی طرف گیا۔ نسلی طور پر آئرش سفید فام چیمس میکمیٹس ڈیموکریٹ پارٹی کا رضاکار اور صدارتی امیدوار براک اوبامہ کا حمایتی تھا۔ اس نے کہا’میں ڈیموکریٹک پارٹی میں اوبامہ کی اس لیے حمایت کر رہا ہوں اور ووٹروں سے کہہ رہا ہوں کیونکہ اب ہم خاندانی موروثی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔وہی پرانے چہرے ایک ہی خاندان بل کلنٹن اور اب ہیلری کلنٹن۔ میں اوبامہ کی حمایت اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ وہ نیا چہرہ ہے‘۔ اگر خاندانی سیاست اور لیڈری پر چلنا تھا تو ہم یورپ میں صحیح تھے جہاں بادشاہ اور ملکائيں تھیں۔ مجھے اس آئرش امریکی کی بات پر نہ جانے کیوں پاکستان کی پیپلز پارٹی یاد آ گئي۔ جیمس میک میٹس نے کہا ’امریکہ کی تاریخ میں فقط ایک کیتھولک عقیدے کا صدر جان ایف کینیڈی ہوا تھا تو تاریخ بن گئی تھی۔ اب وائٹ ہاؤس میں کالا صدر کیوں نہیں آ سکتا؟‘ مجھے اوبامہ کی آبائي ریاست الینواۓ میں ڈیموکریٹ پارٹی کارکن اور ہیلری کلنٹن کے زبردست حمایتی اور میرے دوست افتی نسیم کی بات یاد آئی کہ وائٹ امریکہ کا سفید فام لبرل خود کو لبرل ہونے کا یقین دلانے کیلیے افریقی امریکی نسل کے صدارتی امیدوار اوبامہ کو ووٹ دیے جا رہا ہے۔
لیکن بات یہ ہے بش کے وائٹ ہاؤس میں عہدۂ صدارت کے آخری دنوں میں گزشتہ انتخابات کی نسبت اس بار ٹرن آؤٹ زیادہ رہا ہے جس کی وجہ بہت سے لوگ ان انتخابات کا سب سے بڑا ایشو جنگ عراق بتاتے ہیں جس پر صدر بش اور ان کی ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت میں بہت کمی آئی ہے۔ منگل کو پولنگ سٹیشنوں کے سائیڈ واکس پر ووٹ دے کر آنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ’ہیلری نے جنگِ عراق کی حمایت کی اوبامہ نے نہیں کی‘ یا پھر’ہیلری نے اپنے وائٹ ہاؤس میں آنے کے چھ ماہ کے اندر عراق سے فوجیں واپس بلانے کی ٹھانی ہوئی ہے‘۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے جیمس میکمیٹس کے مطابق’ کالا ہو یا گورا، عیسائی ہو یا یہودی اور مسلمان صدر بھی کیوں نہیں؟‘۔ ’ہاں بدقسمتی سے یہ ملک تاریخ بنا رہا ہے‘، ایک اٹھارہ بیس سال کے غصیلے نوجوان نے کہا جس کے کاندھے اور گلے پر ٹیٹو بنے ہوئے تھے اور وہ غصے سے ایک پولنگ سٹیشن کے داخلے پر باآواز بلند نعرے لگا رہا تھا ’نو بليک اور وومن، ووٹ جان مکین‘ ( نہ کالا نہ عورت ووٹ جان مکین کو دیں)۔ ایرزونا کے سینیٹر جان مکین صدارتی انتخابات کے لیے رپبلکن پارٹی کے سب سے لبرل چہرے ہیں۔ رپبلکن حساب سے ویتنام جنگ کے یہ سابق قیدی امیگریشن پر سختی لیکن گے حقوق اور اسقاط حمل کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان امریکہ کا صدر ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا ’امریکہ کی مضبوط روایت عیسائي صدر کی رہی ہے اور ہم انہی روایتوں اور تصورات کی وجہ سے ہمیں امریکہ کہلاتے ہیں‘۔ ’جان مکین امریکہ کا صدر آ جائے گا کیونکہ وہ وائٹ ہے، رپبلکن ہے جبکہ براک اوبامہ کے لیے اُڑی ہوئي ہے کہ وہ مسلمان ہے‘۔ ایک پاکستانی صحافی دوست کہہ رہا تھا۔ وہ بھلا کیسے ایک اور دوست نے پوچھا:’تمہیں پتہ نہیں اس کا نام براک پیغمبر کی معراج کی سواری براق پر رکھا ہوا ہے‘۔ ڈیوڈ ہاٹ تب سے ڈیموکریٹ ہیں جب وہ ووٹ کی عمر تک بھی نہیں پہنچے تھے۔ وہ کہتے ہیں’میرے دادا دادی ڈیموکریٹک تھے اور میں بھی ڈیموکریٹک ہوں۔ اگر امریکہ اب بھی افریقی امریکی نسل کا صدر یا عورت صدر منتخب نہیں کرے گا تو پھر کب کرے گا۔ عورت ہو یا کالا سب بطور صدر چل جائيں گے سوائے جائنٹس کے‘۔ جائنٹس امریکی فٹ بال ٹیم ہے جس کا لگتا تھا ڈیوڈ کوئي زیادہ مداح نہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے ڈیوڈ کے دو افریقی نژاد دوستوں سے پوچھا۔ انہوں نے کہا ’ہم جمیکا جا کر ووٹ دیں گے کیونکہ ہم امریکی رجسٹرڈ ووٹر نہیں ہیں، لیکن امریکہ کا صدر افریقی امریکی آدمی کیوں نہیں ہونا چاہیے؟‘ ڈیوڈ ہاٹ نے مجھے بتایا کہ دریائے مسسیسپی کے مشرقی اور مغربی کنارے اور وسطی امریکہ اور جنوب کے لوگ نسلی بنیادوں پرانتخابات میں ووٹ دیتے اور صدر منتخب کرتے ہیں جبکہ نیویارک اور کیلیفوریا جیسی ریاستوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ لوارٹ ایک ریکارڈنگ آرٹسٹ اور اداکار ہیں جو ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے رضا کار بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں پہلی بار ہیلری کا رضا کار بنا ہوں کیونکہ یہاں تاریخ بن رہی ہے اور میں تاریخ میں رہنا چاہتا ہوں۔ ہیلری جنگ کے خلاف ہے اور جنگ عراق ان انتخابات کا سب سے بڑا ایشو ہے‘۔ بقول لوارٹ ’ہماری انتخابی مہم کے دوسرے ایشوز بھی جنگ کے ایشو میں ڈوب گئے ہیں‘۔ کیا یہ انتخابات ایشوز یا مسائل کی جگہ رنگ و نسل کی بنیاد پر لڑے جا رہے ہیں؟ میں نے لوارٹ سے سوال کیا۔’ہرگز نہیں اگرچہ کچھ لوگ (اس کا اشارہ ریپبلیکن پارٹی کی طرف تھا ) ان انتخابات میں نسلی کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ شام گئے پولنگ سٹیشن سے باہر محمد اسماعیل اور ان کی دو بیٹیوں سے ملاقات ہوگئي۔ محمد اسماعیل اصل میں بنگلہ دیش سےتعلق رکھتے ہیں اور ایک طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتے آئے ہیں کیونکہ یہی پارٹی انہیں ان کے مسائل کے نزدیک لگتی ہے۔
محمد اسماعیل کی اٹھارہ سالہ بیٹی پہلی بار ووٹ کی عمر کو پہنچ کر ووٹ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حامی ہوں کیونکہ رپبلکن پارٹی امیروں کی پارٹی ہے‘۔ کیا پاکستانیوں کا امریکی انتخابات میں ووٹ بنک ہے؟ پاکستانی نژاد علی مرزا نیویارک میں پاکستانی ڈیموکریٹ کلب کے بانی رکن ہیں اور پاکستانی امریکی شہریوں کی امریکی سیاسی دھارے اور انتخابات میں شمولیت کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’نیویارک میں تین لاکھ مسلمان ووٹر ہیں جن میں ایک لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ووٹرز میں بڑی تعداد پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کی ہے لیکن وہ اب تک امریکہ میں ووٹ بنک نہیں بنا سکے۔ پاکستانیوں کے ووٹ بنک یا اہم حلقہ نہ بن سکنے کی ایک بڑی وجہ ان کی امریکی مرکزی سیاسی دھارے اور انتخابات میں عدم شمولیت اور عدم دلچسپی ہے اور بہت سے پاکستانیوں نے خود کو ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ نہیں کروایا‘۔ وہ کہتے ہیں’اگر ہم ووٹر کے طور پر خود کو رجسٹرڈ کروائيں گے تو جیوری ڈیوٹی میں نام آ جائےگا حالانکہ جیوری ڈیوٹی میں نام فقط سوشل سکیورٹی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس پر بھی آ سکتا ہے‘۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بقول علی مرزا ’کچھ قلیل تعداد ہم وطنوں نے پاکستانیوں کو بتایا ہوا ہے کہ’امریکی الیکشن میں حصہ لینا حرام ہے‘۔ | اسی بارے میں مکین کو واضح، ہیلری کلنٹن کو معمولی برتری05 February, 2008 | آس پاس ’سپر ٹیوز ڈے‘ میں ووٹنگ شروع05 February, 2008 | آس پاس ’بش نےمسائل کا انبار کھڑا کیا‘01 February, 2008 | آس پاس ایڈورڈز اور جولیانی دستبردار30 January, 2008 | آس پاس جنوبی کیرولائنا میں اوبامہ فاتح27 January, 2008 | آس پاس ڈیموکریٹس اہم معرکے کیلیے تیار26 January, 2008 | آس پاس ہلری اور اوباما کی تکرار22 January, 2008 | آس پاس بِل کلنٹن کی غلط بیانی: اوبامہ21 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||