ڈیموکریٹس اہم معرکے کیلیے تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹ جماعت کے رائے دہندگان سنیچر کو اپنی جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے تیار ہیں۔ انتخاب سے قبل ہونے والے مختلف جائزوں کے مطابق اس مقابلے میں باراک اوبامہ اپنی مد مقابل ہیلری کلنٹن کو شکست دے دیں گے جبکہ جان ایڈورڈز تیسرے نمبر پر رہیں گے۔ اگلے منگل یعنی ’سُوپر ٹیوزڈے‘ سے پہلے ڈیموکریٹ پارٹی کے حتمی صدارتی امیدوار کے انتخاب کا یہ آخری مرحلہ ہے۔ آئندہ منگل کو بیس سے زیادہ ریاستوں میں انتخاب کے بعد حتمی ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار سامنے آ جائے گا۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بھی اپنی مہم زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں ایک دلچسپ مقابلہ منگل کو ہی ریاست فلوریڈا میں ہوگا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آغاز پر سی این این پر ایک مباحثے کے دوران باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن نے ماضی کے حوالے سے ایک دوسرے پر تیز و تند حملے کیے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونولی کے بقول اس تکرار میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اوباما نے ہیلری پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ منتخب ہونے کے لیے کچھ بھی کہہ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اوبامہ نے بِل کلنٹن پر اپنے بارے میں غلط معلومات دینے کا الزام بھی لگایا تھا۔ اوباما کا کہنا تھا کہ جن دنوں وہ شکاگو کی سڑکوں پر بے روزگار لوگوں کی مدد کر رہے تھے ہیلری وکیل کی حیثیت سے وال مارٹ (جیسے بڑے کاروباری ادارے) کے بورڈ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ہیلری نے جواب میں کہا کہ وہ ریپبلکن جماعت کی غلط پالیسیوں پر کام کر رہی تھیں جب وہ (اوباما) شکاگو کے پسماندہ علاقوں کے مالک کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ہیلری کا اشارہ ٹونی ریڈکو کی طرف تھا جو کہ غبن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ہیلری نے اوبامہ پر مزید سخت فقرہ کسا اور کہا کہ وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ بحث نہیں کر سکتیں جو اس بات کی ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ اس نے کب کس کو ووٹ دیا تھا۔ اسی مباحثے میں ڈیموکریٹ جماعت کے تیسرے صدارتی امیدوار جان ایڈورڈ نے ہیلری اور اوباما پر جھگڑنے کا الزام لگایا۔ سنیچر کے انتخاب کے بارے میں ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ جنوبی کیرولائنا کا معرکہ اوبامہ ہی جیتیں گے۔ ریاست میں ڈیموکریٹ پارٹی کے رجسٹرڈ رائے دہندگان میں سے کم و بیش نصف افریقی النسل امریکی ہیں اور امکان ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اوبامہ کو ووٹ دیں گے۔ ادھر جمعرات کو موقر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ملک کی آئندہ صدارت کے لیے ہیلری کلنٹن کو اپنا پسندیدہ ترین امیدوار قرار دیا۔ اخبار کا کہنا تھا کہ وہ ہیلری کے علم، ان کی ذہانت اور تجربے سے بہت متاثر ہے۔ اپنے اداریے میں اخبار کا مزید کہنا تھا کہ ’ اگرچہ پہلے افریقی النسل امریکی صدر اور ایک خاتون کا صدر بن جانا، دونوں تصور زبردست ہیں لیکن کسی کے زیادہ ’چاک و چوبند‘ ہونے کی وجہ سے اسے صدر نہیں بنایا جا سکتا۔ اوباما کے لیے جنوبی کیرولائنا کے انتخابات میں فتح حاصل کرنا نہایت اہم ہے کیونکہ ہیلری اس سے قبل تین پرائمری انتخابات جیت چکی ہیں جن میں نیو ہیمپشائر، مشی گن اور نواڈا کی ریاستیں شامل ہیں۔ | اسی بارے میں کیرولائنا میں ہیلری اور اوباما کی تکرار22 January, 2008 | آس پاس بِل کلنٹن کی غلط بیانی: اوبامہ21 January, 2008 | آس پاس ہیلری کلِنٹن، جان مکین کی فتح09 January, 2008 | آس پاس ہیلری، مکین اہم ریاستوں میں فاتح20 January, 2008 | آس پاس براؤن امریکہ پر اثر انداز ہونگے؟28 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||