BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 February, 2008, 11:00 GMT 16:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بش نےمسائل کا انبار کھڑا کیا‘
 ہیلری اور اوبامہ
مباحثے کا ماحول زیادہ تر دوستانہ رہا
ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ مسائل کا انبار کھڑا کر کے جا رہی ہے، اس لیے اب ضروری ہے کہ امریکہ کا آئندہ صدر ایسا ہو جو صدارت کے پہلے دن سے ہی ہمارے مسائل حل کرنا شروع کرے۔

ہیلری کلنٹن نے یہ بات اپنے مدمقابل ڈیموکریٹ امیدوار باراک اوبامہ کے ساتھ ایک بڑے ٹی وی مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔

تیسرے ڈیموکریٹ امیدوار جان ایڈورڈز کے دستبردار ہو جانے کے بعد وائٹ ہاؤس کے لیے جاری دوڑ میں باقی رہ جانے والے ہیلری کلنٹن اور باراک اوبامہ کے درمیان مقابلہ تیز تر ہو گیا ہے۔ آئندہ منگل کو ،جسے ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے ’سُپر ٹیوز ڈے کہا جا رہا ہے، چوبیس ریاستوں میں ووٹنگ کے بعد ہیلری اور اوبامہ کے درمیان مقابلہ اختتام کو پہنچ جائے گا۔

جمعے کی شام براہ راست دکھائے جانے والے اس مذاکرے میں دونوں میں سے کوئی واضح فاتح ثابت نہیں ہوا۔

میں نے عراق پر حملے کے سلسلے میں مخلصانہ ووٹ دیا تھا: ہیلری

لاس اینجلس کے مشہور کوڈیک تھیٹر میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے باراک اوبامہ نے کہا کہ امریکہ ایک ’اہم موڑ‘ پر کھڑا ہے۔ ’آج یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم ماضی کی جانب دیکھ رہے ہیں یا آگے کو دیکھ رہے ہیں۔ اور میرے خیال میں یہ لمحہ ماضی بمقابلہ مستقبل کا لمحہ ہے۔‘

گزشتہ مباحثے کے برعکس اس مرتبہ ہیلری اور اوبامہ نے ایک دوسرے کے ماضی کے حوالے سے ذاتی حملے کرنے کی بجائے ماحول کو خاصا دوستانہ رکھا۔

مسٹر اوبامہ نے کہا کہ ’ یہ (مہم) شروع کرنے سے پہلے بھی میں ہیلری کلنٹن کا دوست تھا اور مہم ختم ہونے کے بعد بھی میں ان کا دوست رہوں گا۔‘

ہیلری نے اوبامہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے اور اوبامہ کے درمیان فرق ان اختلافات سے کہیں کم ہے جو رییپنلکنز اور ہمارے درمیان ہیں۔‘

دونوں کی خوشدلی اپنی جگہ لیکن مباحثے کے دوران کچھ اختلافی لمحے ضرور آئے، خاص طور اس وقت جب عراق پر حملے کی بات ہو رہی تھی۔

حملہ غلط فیصلہ تھا
آپ کے سامنے ایک ایسا امیدوار کھڑا ہے جو ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ عراق پر حملے کا خیال اور حکمت علمی دونوں غلط تھے، یہ نہیں کہ اس خیال کو عملی جامہ غلط طریقے سے پہنایا گیا
باراک اوبامہ

ہیلری کلنٹن نے اپنے دو سنہ دو ہزار دو میں عراق پر حملے کےحق میں ووٹ دینے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر بش نے قوم کے سامنے جو معلومات رکھی تھیں ان کی بنیاد پر انہوں نے ایک ’عقل پر مبنی‘ فیصلہ کیا تھا۔ ’ میں نے اس وقت کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد اور یہ سامنے رکھتے ہوئے کہ صدر بش اپنے اختیارات کا کیا استعمال کریں گے، مخلصانہ ووٹ دیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس وہ ضروری ’معلومات اور سنجیدگی اور وقار‘ موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ امریکی افواج کو خطرے میں ڈالے بغیر اور خطے میں عدم استحکام پیدا کیے بغیر عراق سے فوجیں واپس بلانے کے لیے امریکہ کی قیادت کر سکتی ہیں۔

اس پر مسٹر اوبامہ نے کہا کہ ’سینیٹر کلنٹن نے فیصلہ کرنے کی اہلیت اور تدبر کا ذکر کیا ہے، لیکن یہاں آپ کے سامنے ایک دوسرا امیدوار (یعنی اوبامہ) کھڑا ہے جو ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ عراق پر حملے کا خیال اور حکمت علمی دونوں غلط تھے، یہ نہیں کہ اس خیال کو عملی جامہ غلط طریقے سے پہنایا گیا۔‘

ہیلری کی جیت
آنسوؤں اور قہقہوں کی انتخابی مہم
اسی بارے میں
ہلری اور اوباما کی تکرار
22 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد