BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 January, 2008, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیس ہزار فوجی واپس بلائیں گے‘
صدر بش کی صدارت کی مدت اس سال ختم ہو رہی ہے
امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں عراق سے بیس ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کو واپس بلالیا جائے گا۔

صدر بش نے اس سال کے آخر میں اپنی صدارت کی مدت کے ختم ہونے سے پہلے کانگرس میں اپنے سالانہ اسٹیٹ آف یونین خطاب میں کہا کہ گزشتہ سال عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے تشدد میں کمی ہوئی اور جلد بازی میں امریکی فوجیوں کے انخلاء سے اس پر برا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’اتنی پیش رفت اور اتنا کچھ حاصل کرنے کےبعد ہمیں ایسا نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘

صدر بش نے کہا کہ بیس ہزار سے زیادہ فوجیوں کو واپس بلایا جائے گا لیکن مزید فوجیوں کا انخلاء عراق کے حالات اور فوجی کمانڈروں کے مشورے پر ہوگا۔

صدر بش کے خطاب کے دوران کانگرس کے ارکان صدر کی تقریر کی حمایت اور تائید میں پرجوش انداز میں کھڑے ہو ہو کر تالیاں بجاتے رہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق کانگرس کےارکان نے صدر بش کے خطاب کے دوران انہتر مرتبہ کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔

امریکہ کی اقتصادی حالت کا ذکر کرتے ہوئے صدر بش نے اعتراف کیا کہ اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ یہ امریکہ کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی آ سکتی ہے لیکن مستقبل بعید میں امریکہ کے عوام کو یقین رکھنا چاہیے کہ ترقی کی رفتار برقرار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ کانگرس کے ارکان سے اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ حکومت اقتصادی ترقی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے ڈیڑھ سو ارب ڈالر فراہم کرے گی تاہم انہوں نے سینیٹ کے ارکان پر زور دیا کہ وہ اس میں زیادہ شرائط نہ لگائیں۔

عالمی تجارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو ایک اچھا معاہدہ ترتیب دینا چاہیے جو کہ دوحہ راونڈ سے بہتر ہو۔

مشرق وسطی کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکہ کے صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ جمہوری اسرائیل اور جمہوری فلسطین ساتھ ساتھ رہیں۔ انہوں نے دونوں کو اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور مدد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر بش نے کہا کہ فلسطین اسرائیل تنازعہ کو حل کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدس سرزمین میں وہ شدت پسند قوتوں کے مقابل کھڑے ہیں۔ جہاں ایک امید پیدا ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
قبضوں کا سلسلہ بند ہو: بش
11 January, 2008 | آس پاس
معیشت کو سہارا چاہیے: بش
19 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد