BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 March, 2008, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا نامزدگی کا فیصلہ اگست تک ہی ہوگا؟

باراک اوباما
باراک اوباما نے ریاست مسیسِپی کی پرائمری جیت لی
معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کا فیصلہ اگست تک ہی جماعت کے کنوینشن میں ہوگا کیونکہ ابتدائی مراحل (یعنی ’پرائمریز‘) میں دونوں امیدواروں باراک اوباما اور ہلیری کلنٹن میں کانٹے کا مقابلہ رہا ہے۔

ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ انتخابی شیڈول میں مقابلے کے اس مرحلے تک امیدوار کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ تو لگتا ہے کہ دونوں فریقین آخری ممکنہ مرحلے تک اس مقابلے کو جاری رکھیں گے۔

حال میں ریاست مسیسِپی کی پرائمری باراک اوباما نے جیتی لیکن نتائج کے اعلان کے وقت دونوں ہی امیدوار ریاست میں موجود نہیں تھے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دونوں نے اپنی نظریں مقابلے کے آگے کے مراحلے پر لگائی ہوئی ہیں۔

 یہ ضروری ہے کہ مسٹر اوباما کو ایک سیاہ فام امیدوار نہیں بلکہ ایک امیدوار تصور کیا جائے، جو کہ سیاہ فام بھی ہیں

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ انہیں مسیسپی پرائمری جیتنے کی کوئی امید تھی ہی نہیں اور اب وہ اگلے ماہ ریاست پینسِلوینیا کی پرائمری کی تیاریاوں میں مصروف ہیں۔

باراک اوباما اپنی ریاست شکاگو واپس جا چکے تھے لیکن مسیسِپی کے نتائج کے بعد انہوں نے کہا کہ ایک اور امریکی ریاست نے واشنگٹن میں سیاست کرنے کے انداز میں تبدیلی کے ان کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

جب ان سے صدارتی نامزذگی کے مقابلے میں کشیدگی اور تلخ بیانات کے تبادلے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تو بہت محتاط انداز میں سینیٹر کلنٹن کے بارے میں بات کرتے ہیں اور میں نے ہمیشہ یہ ہی کہا ہے کہ وہ بہت قابل شخص ہیں۔ لیکن کلنٹن ٹیم کا ہمارے ساتھ رویہ اس سے مختلف رہا ہے۔‘

منفی تاثرات
مسیسِپی پرائمری کے نتائج کا اگر تفصیلی جائزہ لیا جائے تو دونوں امیدواروں کی ممکنہ پریشانیوں اور ان کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

مثال کے طور پراس ریاست میں باراک اوباما نے سیاہ فام ووٹ کے نوے فیصد ووٹ حاصل کیے لیکن سفید فام ووٹ کا صرف پچیس فیصد۔

اگر وہ نامزدگی اور آگے وائٹ ہاؤس جیتنا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہیں سفید فام ووٹ بھی جیتنا ہوگا۔

یہ ضروری ہے کہ مسٹر اوباما کو ایک سیاہ فام امیدوار نہیں بلکہ ایک امیدوار تصور کیا جائے، جو کہ سیاہ فام بھی ہیں۔

ہلری کلنٹن
ہلری کلنٹن نے بڑی ریاستوں کی حمایت جیتی ہے

سینیٹر کلنٹن کا مسئلہ اور ہے۔ مسیسِپی پرائمری میں پولنگ کے بعد کے ایک انتخابی جائزے (ایگزِٹ پول) میں صرف پچاس فیصد سے کچھ زیادہ ووٹروں نے کہا کہ وہ انہیں ایماندار اور قابل بھروسہ سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں مسٹر اوباما ان سے بہت آگے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے ووٹرز میں اگر سینیٹر کلنٹن کے بارے میں یہ منفی تاثر پایا جاتا ہے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر وہ نامزد ہوئیں تو ریپبلکن امیدوار جان مکین کے خلاف انہیں دوسرے ووٹر کو قائل کرنا مشکل ہوگا۔

ہارس ٹریڈنگ
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صدارتی انتخابات کی نامزدگی کے لیے اتنا سخت مقابلہ ہوا ہو اور اس لیے یہ پیشن گوئی کی جا سکتی ہے کہ مقابلہ آخری پرائمری کے بعد بھی جاری رہے گا اور اگست میں ریاست ڈینور میں ہونے والے پارٹی کنوینش میں چلتا رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کنوینشن کے مرحلے میں سیاسی جوڑ تور اور ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا کافی امکان ہے حالانکہ اس ہی عمل کو ختم کرنے کے لیے پرائمریز کا نظام قائم کیا گیا تھا۔

صدارتی نامزدگی کے لیے امیدواروں کو 2025 مندوبیں کی حمایت درکار ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو باراک اوباما اور نہ ہی ہلیری کلنٹن یہ حاصل کر سکیں گے۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگست میں یہ دونوں امیدوار نامزدگی جیتنے کے لیے پارٹی کو کیا موقف پیش کریں گے۔ اوباما انتخابی مہم کا موقف ہوگا کہ انہوں نے ہلیری کلنٹن سے زیادہ ریاستیں اور زیادہ ووٹ جیتے ہیں اور ان کے پاس مندوبین بھی زیادہ ہیں۔

ادھر کلنٹن کیمپ کا موقف ہوگا کہ ہلیری کلنٹن نے بڑی ریاستیں جیتی ہیں (کیلیفورنیا، ٹیکساس، اوہائیو، نیو یارک اور نیو جرزی) جبکہ باراک اوباما نے زیادہ تر چھوٹی ریاستیں جیتی ہیں۔ امکان اس بات کی ہے کہ کلنٹن کیمپ یہ کہے کہ بڑی ریاستوں کی حمایت انتخابات میں زیادہ اہم ہے اور چھوٹی ریاستیں شائد ریپبلکن پارٹی ہی جیت جائے۔

لیکن باراک اوباما کی ٹیم اس کے جواب میں یہ کہے گی کہ اوباما نئے ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہ کہ نیو یارک اور کیلیفورنا جیسی بڑی ریاستیں ڈیموکریٹ امیدوار کو ہی ووٹ دیں گی چاہے وہ جو بھی ہو۔

نامزدگی کا حتمی فیصلہ وہ مندوبین کریں گے جنہیں ’سوپر ڈیلیگیٹس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پارٹی کے اہلکار اور منتخب نمائندے ہوتے ہیں اور آخری فیصلہ ان کا ہوگا۔

یہ مندوبین نامزدگی کے فیصلے میں مصروف ہونگے، لیکن شائد وہ کنوینشن کے دوران تھوڑا سا وقت پرائمری نظام کے ترمیم کے لیے بھی نکال لیں کیونکہ اس نظام کو نہ صرف زیادہ واضح بنانا ضروری ہے بلکہ زیادہ فیصلہ کن بھی۔

اسی بارے میں
اوبامہ کی مشیر مستعفی
08 March, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد